عمران خان کا سوشل ایجنڈا

عمران خان کا سوشل ایجنڈا
عمران خان کا سوشل ایجنڈا

  

وزیراعظم عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں، جنہوں نے شروع ہی میں سوشل ڈویلپمنٹ کی بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو کروڑ سے زیادہ بچے سکولوں میں نہیں جا رہے، ظاہر ہے وہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتے ہیں یا بھیک مانگتے ہیں، یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ غریب لوگ اپنے زیادہ بچوں کو ایک اثاثہ سمجھ رہے ہیں، کیونکہ وہ تمام مزدوری پر لگ جاتے ہیں، یوں اُس خاندان کی آمدنی میں اضافہ ہو جاتا ہے، اسی طرح کا ایک لڑکا میرے گھر میں کام کرتا تھا اور ظاہر ہے اس کے کئی بہن بھائی چھوٹی عمر میں مختلف گھروں میں کام کرتے تھے لہٰذا اُن کے والد نے کار رکھی ہوئی تھی، لیکن یہ بچے ملک کے مفید شہری نہیں بن سکتے پھر وہ بچے جو غربت ہی کی وجہ سے دینی مدرسوں میں چلے جاتے ہیں اور وہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سیاست میں علمائے کرام کے دست و بازو بنتے ہیں، لیکن وہ معاشرے میں گھل مل نہیں سکتے، کوئی سرکاری نوکری نہیں کر سکتے، نتیجہ یہ کہ وہ کسی مسجد کی تلاش میں ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں کہیں موقع دیکھتے ہیں، مسجد کھڑی کر لیتے ہیں۔

ساتھ ہی مدرسہ بنا لیتے ہیں، وہ دعویٰ تو دین کی خدمت کا کر رہے ہوتے ہیں، لیکن دراصل وہ کسی روزگار اور ٹھکانے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں خواتین اپنے بچوں کو کسی مدرسے کے حوالے کر دیتی ہیں اور خود نئی شادی کر لیتی ہیں۔اب ہونا یہ چاہئے کہ تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے اور قانون کے تحت ہر آدمی پر لازمی کیا جائے کہ وہ بچے کو سکول بھیجے۔ مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کو بھی سکول جانا چاہئے، میٹرک تک تعلیم لازمی ہونی چاہئے۔ میٹرک کے بعد اگر کوئی بچہ عالم دین بننا چاہتا ہے تو ضرور بنے۔وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسلامیات میں ایم اے بھی کر سکتا ہے اور پی ایچ ڈی بھی اور کسی دینی مدرسے میں بھی پڑھ سکتا ہے۔ دُنیا میں عیسائیت کی تبلیغ کے لئے کام کرنے والے بشپس نے عموماً پی ایچ ڈی کی ہوتی ہے۔ عمران خان نے یہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ ملک میں ایک سا نظام تعلیم نافذ کریں گے، لہٰذا اب انہیں اس طرف پیش رفت کرنا ہوگی۔

موجودہ نظام تعلیم کے تحت معاشرے میں تین طبقے پیدا ہورہے ہیں۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ ماضی میں تعلیم کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا ہے اور یہ کسی ایک پارٹی یا حکومت کا قصور نہیں،بلکہ اس محاذ پر من حیث القوم ہم ناکام ہوئے ہیں۔ جب بھی کوئی کابینہ بنتی ہے تعلیم کا قلمدان عموماً ایسے لوگوں کو دیا جاتا ہے، جن کی تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی رکن بیگم شائستہ اکرام اللہ نے اپنی آپ بیتی میں بتایا ہے کہ وہ پہلے وزیر تعلیم فضل الرحمن سے ملیں تو اُن پر انکشاف ہوا کہ موصوف کو جدید تعلیم کا کوئی شعور نہیں۔اب یہ قلمدان ایک پڑھے لکھے سابق بیوروکریٹ شفقت محمود کو دیا گیا ہے، لیکن تعلیم کا شعبہ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبائی سبجیکٹ بن چکا ہے، لہٰذا یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ شفقت صاحب اس میں کیا کچھ کر سکیں گے۔ ہمارا خواندگی کا تناسب اس وقت کم از کم 80فیصد ہونا چاہئے تھا، لیکن وہ کہیں 58 فیصد کے قریب ہے، خواندگی کے تناسب کا قومی ترقی سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ 1991ء میں جب سنٹرل ایشیا کی ریاستیں روس سے آزاد ہوئیں تو اُن کا خواندگی کا تناسب 90 فیصد تھا۔

ہمارے پڑوس میں بھارت کا خواندگی کا تناسب 74.4 فیصد، ملائشیا میں 94.6 فیصد اور ایران میں 85 فیصد ہے، حتیٰ کہ مالدیپ میں 99.3 ۔ یہ کمی اب ہمیں خصوصی اقدامات کے ذریعے پوری کرنی ہوگی ورنہ ترقی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔عمران خان نے اپنے خطاب میں اس قسم کے مسائل کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے، حتیٰ کہ مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم این اے جاوید لطیف نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں اُن پر کسی این جی او کے سربراہ کی پھبتی کسی تھی۔ عمران خان کے اس طرف جھکاؤ سے فائدہ اُٹھا کر مَیں ایک دو اور چیزوں کی طرف اُن کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ ہمارے ہاں ایک ایسی کمیونٹی بھی پائی جاتی ہے یہ لوگ کہیں مستقل رہائش نہیں رکھتے، بلکہ کچھ عرصے کے بعد اپنا سامان اُٹھا کر کہیں اور چلے جاتے ہیں، لہٰذا وہ مکان بھی نہیں بناتے اور ٹینٹوں میں رہتے ہیں، ظاہر ہے ان کے بچوں کے پڑھنے کا کوئی سوال نہیں، روزگار بھی اُن کے پاس کوئی نہیں ہوتا۔ یہ کمیونٹی ملک کے مختلف حصوں میں پائی جاتی ہے، مثلاً ان کا ایک گروپ آج کل پنجاب میں پیر محل شہر کے باہر قیام پذیر ہے۔

یہ بہت سارے لوگوں کے لئے حیرت کا باعث ہو گا کہ یہ کمیونٹی سپین اور فرانس جیسے ملکوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ سپین میں فرانس کے بارڈر کے قریب ایک قصبے Perpignan میں انتظامیہ نے کچھ عرصہ پہلے راٹ آئرن اور گھاس پھونس سے بنے ہوئے اس کمیونٹی کے گھر گِرا دیئے۔ فرانس کے قصبے Saint Jacques میں تین سے پانچ ہزار ایسے ہی لوگ رہائش پذیر ہیں، جن میں 90 فیصد لوگ بیروزگار ہیں۔ حال ہی میں اس کمیونٹی کے لیڈروں نے مظاہرے کئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ لوگ ہم سے بات نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم گندے ہیں۔ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ وہ سوشل ایجنڈے کے تحت ان لوگوں کی قسمت بدلنے پر بھی غور کریں۔ماضی میں اس قسم کے ایشوز کو کسی نے درخواعتنا نہیں سمجھا۔اسلام آباد ایک آرگنائزڈ اور نسبتاً نیا شہر ہے، لیکن اس میں بھی کچھ قباحتیں پیدا ہو گئی ہیں، مثلاً ایف 6 اور ایف 7 جیسے مہنگے سیکٹروں میں ناجائز کرسچین کچی آبادیاں بنی ہوئی ہیں، ان Slums کا بھی حل نکالنے کی ضرورت ہے۔

ہونا یہ چاہئے کہ اِن سے یہ جگہ خالی کرائی جائے اور یہی زمین فروخت کرکے ان کے لئے شہر سے باہر کسی مناسب جگہ پر فلیٹ تعمیر کئے جائیں تاکہ یہ لوگ شریفانہ زندگی بسر کر سکیں۔ میری اطلاع کے مطابق اسد عمر نے ان لوگوں سے پچھلے دور میں کچھ وعدے کئے تھے، لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔بھیک مانگنا ایک پیشہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد جیسے شہر میں بازار جائیں تو بھکاری آپ کو گھیر لیتے ہیں جب غیرملکی سفارت کار یہ دیکھتے ہوں گے تو پاکستان کے بارے میں اُن کا تاثر کیا بنتا ہو گا۔ اگرچہ ان کی اکثریت افغان مہاجرین پر مشتمل ہے۔بھیک مانگنا باقاعدہ ایک پیشہ بن چکا ہے، اس مقصد کے لئے بڑے بڑے روپ بھرے جاتے ہیں۔ بچے کرایہ پر لئے جاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ خواجہ سرا ایک بڑی مظلوم مخلوق ہیں، اُن کی بھی رہائش اور روزگار کا کوئی انتظام سوچا جانا چاہئے۔بھکاریوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے مسلم لیگ کی حکومت نے اسلام آباد کی حد تک کچھ وعدے کئے تھے، لیکن وہ وعدے وفا نہ ہو سکے۔ اب پی ٹی آئی حکومت کو ان شعبوں میں کام کرنا چاہئے،جنہیں ماضی میں روایت پسند حکومتیں نظر انداز کرتی رہی ہیں۔

مزید : رائے /کالم