حکومت کا اول دور،شعبہ تعلیم لاہور میں مافیا!

حکومت کا اول دور،شعبہ تعلیم لاہور میں مافیا!
حکومت کا اول دور،شعبہ تعلیم لاہور میں مافیا!

  

ہم بھی انہی سنجیدہ فکر حضرات کی پیروی میں ہیں کہ موجودہ حکمرانوں (تحریک انصاف) کو کچھ وقت ملنا چاہئے کہ یہ حالات کو سمجھ اور جان کر حکومت چلانے کا سلسلہ شروع کر سکیں،لیکن کیا کِیا جائے کہ وزیراعظم عمران خان خود اور ان کے مقلد مسلسل یہ کہتے چلے جا رہے ہیں کہ وہ پہلے سو دن میں وہ کچھ کر کے دکھائیں گے کہ عوام حیرت زدہ رہ جائیں گے، لیکن یہ تو عوام کی بدقسمتی ہے کہ وہ حیرت زدہ ہونے کی بجائے غمزدہ ہوتے جا رہے اور ان کی چیخیں سسکیوں میں بدلنے لگی ہیں،ڈالر اور مہنگائی ایسے ساتھ ساتھ چلے ہیں کہ عام مزدور اور لگی بندھی آمدنی(تنخواہ دار) والے طبقے کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ وہ کیا کرے کہ اب تو سر یا پاؤں دونوں میں سے کچھ بھی نہیں ڈھکا جا سکتا،چیئرمین تحریک انصاف وزیراعظم عمران خان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ساتھیوں کی مشاورت سے ہوم ورک کر لیا ہے اور قوم کو جلد ہی مثبت نتائج دیں گے،لیکن قوم کو تو پٹرولیم،

گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور خود اپنی ملکی کرنسی کی قدر میں پہلے سے ہوئی پانچ سے سات فیصد تک کمی کے ساتھ ہی مزید آٹھ سے نو فیصد تک قدر کم ہو جانے کا تحفہ ملا، مجموعی طور پر 15سے18فیصد کی کمی نے ڈالر139روپے تک پہنچا دیا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ غیر رسمی کمی اِس وقت مزید بڑھ جائے گی جب آئی ایم ایف سے پیکیج مانگا اور اس کی طرف سے شرائط رکھی گئیں،یوں ڈالر اور روپے کی قدر میں 50فیصد فرق ہو کر ڈالر150 روپے پر آ کر رُکے گا،اس سے پہلے ہی مہنگائی ایک بَلا کی طرح چمٹی ہوئی تھی، اب تو سونامی ہی آ جائے گا اور جن عوام کے نام پر یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے وہ زندہ درگور ہو جائیں گے، بقول حبیب جالب:

یہ جو چند لوگ ہیں، زندگی کا روگ ہیں

ان کا گھونٹ دے گلا،ان کی کاٹ دے زباں

اِس سلسلے میں مزید لکھنے کے لئے بہت وقت پڑا ہے۔ ہم ذرا صبر کرتے ہیں اور منتظر ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے رفقاء کیا کرتے ہیں،اِسی طرح سیاسی ہلچل سے بھی گریز ہی سہی کہ ایک دو دن تو دیکھ لیا جائے،حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں کہ معروضی حالات میں محاذ آرائی ملک کے لئے مفید نہیں،چاہے اس کا ارتکاب کسی بھی طرف سے ہو۔یوں بھی تحریک انصاف تو حکومت بنا کر بھی کنٹینر پر ہی سوار ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بار بار اداروں کو ٹھیک کر کے ’’اچھی حکمرانی‘‘ کی آس دلائی ہے، ابھی دو چار روز قبل لاہور آئے تو بھی گڈ گورننس (اچھی حکمرانی) ہی کی بات کی، اور پھر دہرایا ’’ہم اداروں کو ٹھیک کر رہے ہیں، یہ ٹھیک ہوں گے تو حالات بھی درست ہو جائیں گے‘‘ خان صاحب کا یہ کہنا بالکل درست ہے،لیکن کیا ان کے وزراء اور ساتھی اس پر عمل شروع کر چکے ہیں؟ اور کیا انہوں نے (خصوصاً وزراء) اپنے اپنے محکموں کی غلط کاریوں کو جاننا شروع کیا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے، کیونکہ وزراء کو بھی حلف اٹھائے قریباً پچاس دن ہو چلے،اب تک ان کو اپنی اپنی ماتحت وزارت کے امور کو جانچ کر غلطیوں اور خصوصاً کرپشن والے امور کی نشاندہی کر کے درستگی کی طرف قدم بڑھا لینا چاہئے تھا،لیکن افسوس کہ یہ بھی نہیں ہوا اور محکموں کا حال وہی ہے۔

ہم یہاں لاہور کے شعبہ تعلیم کی مثال دیتے ہیں،جس میں کام تو کیا ہونا ہے، وہاں مافیا سرگرم ہیں،اس شعبہ میں اساتذہ میں ایک بڑا مافیا پنجے گاڑھے ہوئے ہے،جس کے سامنے یا تو شعبہ تعلیم کے ضلعی حکام مجبور ہیں یا پھر اس کے ساتھ ملے ہوئے اسی مافیا کا حصہ ہیں۔یہ مافیا سکولوں کے اقتدار پر قابض ہے،دلچسپ امر یہ ہے کہ اس مافیا نے بی ایڈ کی جعلی اسناد کے ذریعے ترقیاں پا لی ہوئی ہیں اور گریڈ 18تک پہنچ گئے، کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا،اُلٹا یہ مافیا حکام کو بھی بلیک میل کرتا اور دیانت دار عملے کے خلاف جھوٹی درخواستیں چلاتا رہتا ہے۔لاہور کے ایک ہیڈ ماسٹر جو اِسی گروہ میں سے ہیں جعلی ڈگری پر ترقی پا چکے ہوئے ہیں،ان محترم کے خلاف بڑی مشکل سے تحقیقات شروع ہوئی،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے تحقیقاتی افسر بھی مقرر کئے یہ صاحب ان کے روبرو پیش ہی نہیں ہوتے،اُلٹا دوسرے محنتی عملے کو پریشان کرتے ہیں،

ان کی اہلیہ بھی ٹیچر ہیں یہ ان کے تحفظ کے لئے ہر نوع کی بلیک میلنگ کرتے ہیں،جھوٹی اور غلط درخواستیں دینا ان کا کام ہے،ان کی طرف سے دی گئی کئی درخواستوں پر تحقیق ہوئی اور وہ غلط قرار پائیں،لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اُلٹا ڈی ای او صاحب ان کی زیادتی کا ذکر کر کے فریاد کرنے والوں کو آرام سے گھر بیٹھنے کو کہتے ہیں۔ یہ اور ایسے کئی واقعات اور حقائق ہیں جو عوامی زبان پر ہیں،لیکن وزیر محترم کو شاید پتہ نہیں چلتا، حالانکہ تحقیقات سیکرٹری تعلیم کی ہدایت پر شروع کی گئی تھی،دیکھنا تو یہ ہے کہ یہ وزیر حضرات اپنے اپنے محکمے پر کتنی توجہ دیتے اور معاملات کو درست کرتے ہیں،لیکن یہاں ایسا نہیں ہو رہا،وزیر تعلیم چاہیں تو ان کو اس مافیا کی کارروائیوں کا ریکارڈ بھی دیا جا سکتا ہے۔ تعلیم اور شعبہ تعلیم کو درست رکھنا ہے تو ایسے مافیا پر مضبوط ہاتھ ڈال کر طلباء اور والدین کو نجات دِلانا ہو گی۔

مزید : رائے /کالم