اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری

اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری
اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری

  

آشیانہ سکیم مبینہ سکینڈل کی آڑ میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری استحکام پذیر سیاسی ماحول کو دگرگوں کرنے کے علاوہ ہمارے آئینی اور قانونی نظام کی کمزوریوں کا پردہ چاک کرنے کا سبب بھی بنی،یوں محسوس ہوتا ہے کہ ناتواں سیاستدانوں نے اپنی پراگندہ مساعی کے ذریعے پچھلے بیس سالوں میں جتنا سیاسی استحکام حاصل کیا تھا،پی ٹی آئی کی پرجوش قیادت اپنی ناتجربہ کاری کے باعث ماحول میں تلخیاں پیدا کر کے قومی سیاست کو ایک بار پھر عدم استحکام کی طرف دھکیل کے اس حصول کو برباد کر دے گی لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ ستّر سالوں پہ محیط وسیع تجربات کے باوجود ہماری مقتدرہ اب بھی اس حقیقت کو نہیں جان سکی کہ ریاستی قوت کے بے رحمانہ استعمال سے سیاستدانوں کو جھکانے کی کوششیں کبھی اچھے نتائج نہیں دے سکتی، ذہن انسانی میں برپا اضطراب کو قانونی تشدد کی مدد سے روکنا ممکن نہیں ہوتا،

ایسی مہم جوئی ہمیشہ عوامی اشتعال کو بھڑکانے اور معتوب سیاست کاروں کی مقبولیت میں اضافہ کا سبب بنتی رہی،آج بھی اپوزیشن لیڈر کی قانون سے ماورا گرفتاری نوازشریف کے سویلین بالادستی کے بیانیہ کو تقویت پہنچانے اور ضمنی الیکشن میں مسلم لیگی امیدواروں کے ساتھ ووٹرز کی ہمدوردی بڑھا نے کا وسیلہ بنے گی،تاہم نیب یا اسکی پشتی بانی کرنے والی قوتوں کے انداز فکر سے قطع نظر جمہوری حکومت کے منتخب وزیراعظم کی طرف سے ماورائے قانون اقدامات کی کھلی حمایت نے حکومت اور نیب کے گٹھ جوڑ کے تاثر کو تقویت پہنچائی،جس سے قومی و بین الاقوامی سطح پر پی ٹی آئی کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں جس بے حجابی کے ساتھ نیب کی جارحانہ کاروائیوں کا دفاع کیا اور سخت لہجہ میں اپوزیشن کو سبق سکھانے کی جو بات کی اس سے انکی عزت میں اضافہ نہیں ہوا۔

انیس سو نوے کی دہائی میں جب نواز شریف اور بے نظیر بھٹو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خاطر کٹ پتلیوں کے کھیل کی مانند ایسی ہی احمقانہ سیاست میں الجھ کے ایک دوسرے پر بدعنوانیوں کے مقدمات بنانے میں سرگرداں ہوئے تو اس مشق ستم کیش کے مضمرات صرف سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی ساکھ تک محدود تھے لیکن پچھلے بیس سالوں میں عدالتی فعالیت نے جس طرح تقسیم اختیارات کے آئینی فارمولا کو تہہ و بالا کرکے سیاسی بحران کو راہ دی اور نیب نے سول بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے خلاف بے رحمانہ کارروائیاں کر کے جس طرح سسٹم کو ضعف پہنچایا اس سے ملک کے موثر طبقات ریاست کے خلاف صف آرا ہونے پر مجبور نظر آئے اور اب پی ٹی آئی حکومت کے عہدہ داروں کی بے مقصد کی تلخ نوائی اس خطرناک رجحان میں نہایت تیزی سے اضافہ کا سبب بن رہی ہے،چانکیہ کوٹلیہ نے کہا تھا’’جب کوئی مملکت اپنے عزت مند افرادکو بے آبرو کرتی ہے تو زیرعتاب لوگوں کی ریاست کے ساتھ وفاداری ختم ہو جاتی ہیں‘‘۔

سنہ انیس سو نوے کی دہائی میں سیاست دانوں کی باہمی کشمکش کی کوکھ سے جنم لینے والے جنرل مشرف کے مارشل لاء نے اپنی فطری کمزوریوں کے باعث ملک کو معاشی بحران اور تشدد کی آگ میں جھونک دیا جس کے مضمرات سے تاحال ملک باہر نہیں نکل سکا لیکن اس مہیب مارشل لاء کی جبریت کا ایک مثبت پہلو یہ نکلا کہ اس عہد کے ابھرتے ہوئے سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں کے ازالہ کے لئے کچھ ناقابل فراموش عہد وپیماں باندھے، مئی 2006 میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے لندن میں تاریخی اہمیت کے حامل میثاق جمہوریت پر اتفاق کر کے ملکی سلامتی کے تقدس، سیاسی نظام کے تحفظ اور جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور باہم دست و گریباں ہونے کی بجائے سسٹم کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی اپنا کر جنرل مشرف کی آمریت کو ہلا ڈالا تھا،اگرچہ پوری نیک نیتی سے میثاق جمہوریت پہ عمل کی نوبت تو اب تک نہیں آئی لیکن جتنی حد تک اس میثاق پر عمل درآمد ممکن ہوا، سیاسی طور پہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئے،تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے سوا ملک کی تمام قابل ذکر سیاسی و مذہبی جماعتیں اسی میثاق کی بدولت باہمی عداوتوں کے آسیب سے باہر نکل کے جمہوری عمل کے تسلسل کو قائم رکھنے کی خاطر یکسو ہو گئیں،

کاش اکتوبر 2007 میں بے نظیر بھٹو جنرل مشرف سے این آر او نہ کرتیں تو آج اس ملک کی تاریخ مختلف ہوتی لیکن اس سب کے باوجود اسی میثاق کے نفسیاتی اثرات اب بھی سیاستدان کو غیر جمہوری اور ماورا آئین قدام کی کھلی حمایت سے روکتے ہیں،جن لوگوں نے ماضی سے سیکھنے کی کوشش کی وہ اپنے مستقبل کو سنوارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،ماضی کے تلخ و شیریں تجربات زندہ لوگوں کے کردار اور مقاصد کو متاثر کرتے ہیں بلاشبہ تاریخ ہمیں اپنے حال کو درخشاں اور مستقبل کی راہوں کو روشن بنانے کا ہنر سیکھاتی ہے،نپولین نے کہا تھا’’خدا کرے میرا بیٹا تاریخ کا مطالعہ کرے کیونکہ تاریخ ہی صحیح فلسفہ ہے جو تمام ماضی کو کسی ایک ہی تصویر میں سمونے کی کوشش کرتی ہے‘‘ لیکن بد قسمتی سے قومی سیاست کے افق پر ابھرتی ہوئی نئی سیاسی قوت تحریک انصاف کی لیڈر شپ اپنی مبینہ کمزوریوں کی بدولت قومی قیادت کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی اور سیاسی اتفاق رائے سے گریز پا رہ کر 1990 ء کی دہائی کی ان نامطلوب روایات کو دہرانے پر کمر بستہ نظر آتی ہے،

جس سے سیاستدان بدنام اور جمہوریت کمزور ہوئی تھی،بہرحال ان ظاہری اقدامات کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ تحریک انصاف کی لیڈر شپ سیاسی استحکام کی اہمیت سے پوری طرح واقف اور ان حقائق کا پورا ادراک رکھتی ہو گی جن سے سیاسی نظام کمزور یا مستحکم ہوتا ہے لیکن بادی النظر میں جن شرائط کے تحت انہیں اقتدار ملا ہو گا اسی کے تقاضے انہیں اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری جیسے ناپسندید اقدامات پر مجبور کرتے ہوں گے،ہم یہ حسن گمان رکھ سکتے ہیں کہ عمران خان کی جمہوری حکومت قائد حزب اختلاف کی گرفتاری سے ہچکچائی ضرور ہو گی لیکن رانا مشہود سے بیان دلوا کے انہیں پنجاب میں تختہ الٹنے کی جو وعید سنائی گئی اسی کے خوف کے تحت وہ قائد حزب اختلاف کی گرفتاری پہ آمادہ ہوئے ہوں گے،بیشک سیاست میں طریقہ کار کے ہتھکنڈوں کے استعمال کو مباح سمجھا جاتا ہے اور زیرک سیاستدان اپنے مخالفین کو تڑپانے کی خاطر ایسی درفنطنیاں چھوڑ کے گمراہ کرتے رہتے ہیں،ابھی حال میں وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے پہلے سرکاری دورہ کے دوران افغان مہاجرین کو نیشنیلٹی دینے کے ایشو کو ہائی لائٹ کر کے پختون قوم پرستوں کو ٹریپ کرنے کی کوشش کی لیکن کہنہ مشق سیاستدانوں نے اپنی بے رحم خاموشی کے ساتھ اسے ناکام بنا دیا۔

بلاشبہ پی ٹی آئی کی قیادت کو اس امر کا احساس ہو گا کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے ایک بار پھر سسٹم لرز جائے گا اور منتخب سویلین حکومت کی ساکھ مجروح ہو گی لیکن انکی بے بسی سے پتہ چلتا ہے کہ جن قوتوں نے انہیں اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچایا ان کی منشا کے خلاف جانے کا ابھی وقت نہیں آیا،اپوزیشن عمرانی حکومت سے الجھنے کی بجائے انہیں سکھ کی سانس لینے کی مہلت دیتی تو وہ بہت جلد اس ذہنی کیفیت تک پہنچ جاتے، جس کیفیت ذہنی میں اس وقت نوازشریف اور مولانا فضل الرحمٰن مبتلا نظر آتے ہیں، سیاست دانوں میں بڑھتی ہوئی ذہنی تفریق ہی شاید مقتدرہ کیلئے حکومتوں کو اپنی گرفت میں رکھنے کا موثر ہتھیار ہو گی۔

مزید : رائے /کالم