پاکستانیوں کو سنسان گلیوں کے نعرے پسند نہیں!

پاکستانیوں کو سنسان گلیوں کے نعرے پسند نہیں!
پاکستانیوں کو سنسان گلیوں کے نعرے پسند نہیں!

  

ڈالر 140روپے کا ہو گیا ہے۔۔۔ حکومت کشکول لے کر آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے چلی گئی ہے۔۔۔بھکاری وزیر خزانہ جکارتہ جا پہنچے ہیں۔۔۔ سٹاک ایکسچینج کریش کر گئی ہے۔۔۔ مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے۔۔۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دن رات چیخ رہا ہے کہ عوام بُرے دنوں کے لئے تیاریاں پکڑ لیں۔۔۔ پی ٹی آئی کے وعدے جو اس نے انتخابی مہم کے دوران کئے تھے، سارے کے سارے باطل ہو چکے ہیں۔۔۔ شہبازشریف کو اس لئے حوالہ ء زنداں کیا گیا ہے تاکہ ضمنی الیکشن کے نتائج تحریک انصاف کی گود میں جا گریں۔۔۔ میاں نوازشریف اس لئے خاموش ہیں کہ اپنی اہلیہ محترمہ کے سوگ میں سوگواری کی کیفیت میں ہیں،

اس لئے فی الحال کھل کر باہر نہیں آ رہے۔۔۔آشیانہ ہاؤسنگ سکیم، پانی کی 57کمپنیوں اور پیراگون سوسائٹی کا حساب کتاب منگوایا جا رہا ہے۔۔۔اعلیٰ عدالتیں گزشتہ دس پندرہ برسوں کے کھاتے اور لیجر سمیت ان لوگوں کو طلب کر رہی ہیں جو برسوں تک عوام کے محبوب نمائندے رہے ہیں اور جن کے دور میں زمین سونا اگل رہی تھی اور آسمان سے ہُن برس رہا تھا۔۔۔ بے نامی کھاتہ داروں کے بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپوں اور ڈالروں کے ٹرانزیکشن نکل رہے ہیں۔۔۔ فالودہ فروشوں کے بینک اکاؤنٹ میں اربوں کا لین دین منکشف ہوا ہے جبکہ خود فالودہ فروش کو کچھ خبر ہی نہیں۔۔۔ اپوزیشن کے ٹاپ لیڈروں کے گرد شکنجے کَسے جا رہے ہیں۔۔۔ بحریہ ٹاؤن کے کرتا دھرتاؤں کے بخیئے ادھیڑے جا رہے ہیں۔۔۔ 

پوچھا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ اگر انتقامی سیاست کے مظاہرے نہیں تو اور کیا ہیں؟

عام پاکستانی حیران ہے کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے جب نون لیگ کی حکومت تھی تو عمران خان عوام کا ہیرو تھا اور پی ٹی آئی ہیروئن تھی لیکن جب سے عمران خان نے وزیراعظم کی مسند پر قدم رکھا ہے وہ دلیپ کمار سے اوم پوری بن گئے ہیں اور بی بی تحریک انصاف، فلم مغلِ اعظم کی مدھو بالا سے فلم آن کی نادرہ بن گئی ہے۔ 

میڈیاکی یہ فوری اور باجماعت کایا پلٹ کیا ہے اور کیوں ہے، مجھے تو اس کی ہرگز سمجھ نہیں آ رہی۔ میڈیا کو چھڑی سے گاجر اور گاجر سے چھڑی بننے کے پیچھے کون کون سے عوامل کار فرما ہیں وہ بھی سمجھ میں نہیں آتے۔ امیدیں اور آرزوئیں جب ٹوٹتی ہیں تو اس شکست و ریخت کے لئے بھی کچھ وقت تو درکار ہوتا ہے۔میں شائد غلط ہوں گا لیکن میرے خیال کے مطابق جب عمران خان نے کفائت شعاری اور سادگی کو ان حدوں تک پہنچانے کی کوشش کی کہ جن سے میڈیا کی رگِ جاں (اشتہارات اور من پسند صحافیوں پر نوازشات) گھائل ہونے لگی تو سیاہ، سفید اور سفید، سیاہ بن گیا!

میں کوئی ماہر معاشیات نہیں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو فرخ سلیم کی کرسی پر جا بیٹھتا۔ لیکن گزشتہ دو برسوں نے میڈیا کے ایسے ایسے لوگ پیدا کئے جو وزیراعلیٰ ، وزیروں اور مشیروں کے عہدوں تک جا پہنچے۔ یہ فہرست طویل ہے کس کس کا نام لیا جائے۔ اور وہ فہرست بھی مختصر نہیں جو آج کی حزبِ اختلاف کا پرچم اٹھائے پھرتی تھی اور آج بھی پھر رہی ہے۔ سیاست میں یہ اتار چڑھاؤ، یہ زیرو بم اور یہ نشیب و فراز اگرچہ نئے نہیں لیکن نئی بات وہی ہے جس کا ذکر اوپر کر آیا ہوں کہ یہ سب کچھ راتوں رات کیسے ہو گیا۔ اتنی عجلت سے تو رات، دن میں تبدیل نہیں ہوتی اور دن بھی شام میں نہیں ڈھلتا۔

بعض اور اشاریئے بھی توجہ طلب ہیں۔۔۔ مثلاً ڈالر اگر مہنگا ہو گیا ہے تو صرف وہ چیزیں مہنگی ہونی چاہئیں جو ڈالروں میں خریدی جاتی ہیں اور درآمدات (Imports) کہلاتی ہیں۔ یہ تو نہیں ہونا چاہیے کہ اگر میڈیا پر ایک روز یہ شور برپا ہو جائے کہ ڈالر 125سے بڑھ کر 140روپے کا ہو گیا ہے تو اگلے روز آلو دس روپے فی کلو مہنگے ہو جائیں اور بسوں کے کرائے 20فیصد بڑھ جائیں۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں روزمرہ کی بہت سی اشیائے صرف چین اور دوسرے ملکوں سے آتی ہیں، لیکن ان کا پاکستانی ورشن بھی تو ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ میک تھری بلیڈ کا پیکٹ جو چار بلیڈوں پر مشتمل ہوتا ہے، 900 روپے میں خریدیں۔ ان کی جگہ پاکستانی بلیڈ بھی خرید کر استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ بس تھوڑی سی (اور بہت تھوڑی سی) تکلیف برداشت کرنی پڑے گی۔ شیو کرنے میں وہ آسانی پیدا نہیں ہوگی اور وہ صفائی بھی نہیں آ سکے گی جو میک تھری کے استعمال سے آتی ہے۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

لیکن ہم : ’’پاکستانی بنو، پاکستانی خریدو‘‘ کے نعرے کو باعثِ ننگ سمجھتے ہیں۔ اور یہ نہیں جانتے کہ ہم تیسری دنیا کے لوگ ہیں اور جن ملکوں سے یہ اشیائے صرف آتی ہیں وہ بھی کبھی ہماری طرح تیسری دنیا میں شامل تھے۔لیکن ہم نے تو بالکل اس طرف نہیں جانا۔۔۔ صرف یہ شور مچاتے رہنا ہے کہ دیکھو حکومت کشکول بدست در در کی ٹھوکریں کھانے لگی ہے۔ یہ خیال نہیں کرنا کہ ہر نئی حکومت جب برسراقتدار آتی ہے تو خزانہ خالی پاتی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت تو ایک بالکل نووارد نسل کی حکومت ہے۔ فوج، پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے عادی پاکستانی اس نئی اور چوتھی نسل کے عادی نہیں۔ اگرچہ اس نسل میں بھی کئی پرانی نسلوں کے جغادری شامل ہو چکے ہیں لیکن ان کا سربراہ تو نیا ہے۔کیا ہوا اگر فنِ حکمرانی میں تازہ وارد ہے اور رموزِ مملکت کم کم جانتا ہے۔ ملک چلانا آتے آتے ہی آئے گا۔ ہمیں یہ کُشن پیریڈ تو عمران خان اور ان کی پارٹی کو دنیا چاہیے۔ پارٹی سے غلطیاں ضرور سرزد ہوں گی،لیکن گزشتہ حکومتیں بھی تو بڑی بڑی غلطیوں کا ارتکاب کرتی رہی ہیں اس لئے تحریکِ انصاف کو آزمانے کے لئے تھوڑا وقت دیا جانا چاہیے۔

یہ جو دال سبزی میں مہنگائی آ رہی ہے وہ ہمارے اپنے پاکستانی بھائیوں کی لائی ہوئی ہے۔ کدو اور بھنڈی توری یورپ سے نہیں آتی، گندم کا آٹا امریکہ سے درآمد نہیں کیا جاتا، بجلی انڈیا سے نہیں منگوائی جاتی، گیس ، قازقستان سے پاکستان نہیں لائی جاتی۔۔۔ اور یہی وہ چیزیں ہیں جو عام پاکستانیوں کے روزمرہ استعمال میں آتی ہیں۔۔۔ کیا ایسا نہیں کہ ہمارے تاجر، اتنے سنگدل ہیں کہ چشم زدن میں پاکستان میں پیدا ہونے والی اور بنائی جانے والی چیزوں کو ڈالر کی قیمت کے ساتھ نتھی کر دیتے ہیں!

ایک اور جانب بھی توجہ فرمایئے۔۔۔ کیا کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دوسرے شہروں کی سڑکوں پر جو لاکھوں نئی نکور اور قیمتی گاڑیاں دوڑتی نظر آتی ہیں، وہ سب غریب غربا کی ملکیت ہیں؟۔۔۔ کیا موٹر سائیکلوں کی جو ٹریفک دن رات شہروں اور گاؤں میں رواں دواں رہتی ہے وہ کسی مفلس اور بھکاری قوم کی نشانی ہے؟۔۔۔ یادش بخیر، جنرل مشرف بھی یہی کہتے تھے کہ زیادہ موٹرسائیکل قوم کی زیادہ خوشحالی کا انڈکس ہیں۔

یہ پیسہ جس سے یہ گاڑیاں خریدی جاتی ہیں، کہاں سے آتا ہے؟ کیا آپ کو ملک کی معروف شاہراہوں پر کوئی بھی آدمی یا عورت آپ کو پیدل چلتی نظر آتی ہے؟۔۔۔ بازاروں اور گلیوں میں جو مخلوق پیدل نظر آتی ہے اس کی گاڑیاں (کاریں یا موٹرسائیکلز) کہیں دائیں بائیں پارک کھڑی ہوتی ہیں۔ اور کچھ نہیں تو رکشا اور چنگ چی کے ٹریفک پر ہی نظر ڈال لیں۔ کیا یہ تمام اشاریئے غریب عوام کی نشانیاں ہیں؟ میں گاؤں میں بھی اکثر جاتا رہتا ہوں، ان کا رہن سہن بھی آج سے 15،20برس پہلے کی نسبت بہت بہتر ہو چکا ہے۔

اب ایک اور پہلو کو بھی نظر انداز نہ کیجئے۔۔۔ اور وہ یہ کہ نیب (NAB) کا ایک قانون یہ ہے کہ جس شخص کے اثاثے اس کی آمدن سے زیادہ ہوں گے اس کو کرپشن کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔ اس قانون میں یہ تخصیص نہیں کی گئی کہ کتنی قیمت کے اثاثوں اور کس قیمت کی آمدنی پر یہ قانون لاگو ہوگا۔ اس قانون میں یہی سقم ہے (اور بہت بڑا سقم ہے)۔ میری آمدن اگر دس لاکھ سالانہ ہے اور اثاثے 10ارب ہیں تو اس کی سمجھ تو آتی ہے لیکن اگر میرے اثاثے دس لاکھ آمدنی کے مقابل کچھ برسوں میں 5کروڑ ہو جائیں تو اس میں میری محنت، مشقت، تجارتی عقل و دانش اور کمرشل اسرار و رموز کی تفہیم کو مدنظر رکھا جائے گا یا اسے کرپشن کا نام دیا جائے گا؟۔۔۔

یاد کیجئے دورِ رسالت مآبؐ میں درجنوں غزوے اور بیسیوں سریئے لڑے گئے اور ہر غزوے اور سریئے سے پہلے آنحضور ﷺ مسلمانوں سے دفاعی فنڈ کی اپیل فرمایا کرتے تھے۔ اور اس کال پر صحنِ مسجدِ نبوی عطیات کی کثرت سے بھر جایا کرتا تھا۔ بعض غزووں کے درمیان تو چند ہفتوں کا دورانیہ حائل ہوتا تھا لیکن دفاعی چندہ مانگنے کی رسم جاری و ساری رہتی تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دفاعی فنڈ کا یہ مال و اسباب اور نقد رقومات ایک قلیل مدت میں بار بار کہاں سے جمع ہو جاتی تھیں؟۔۔۔ کیا مسلمان اپنے ذاتی اخراجات کا خیال نہ رکھتے ہوئے اپنا سبھی کچھ جہاد کے لئے پیش کر دیتے تھے یا کچھ نہ کچھ بیوی بچوں کے اخراجات کے لئے بھی رکھ لیا کرتے تھے؟

یاد کیجئے حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا وہ واقعہ جو اقبال نے نظم کیا ہے اور جس میں حضرت ابوبکرؓ کے ان سارے اثاثوں کی تفصیل دی ہے جو ایک غزوے کے دوران دفاعی فنڈ کی کال پر دے دیئے گئے تھے تو اس میں حضرت عمرؓ کا ذکر بھی ہے کہ وہ جب مسجدِ نبویؐ میں حضرت ابوبکر صدیق سے پہلے پہنچے تو رسالت مآبؐ نے ان سے پوچھا:

رکھا بھی کچھ عیال کی خاطر ہے تو نے کیا؟

مسلم ہے اپنے خویش و اقارب کا حق گزار

اس کے جواب میں حضرت عمرؓ نے فرمایا:

کی عرض نصف مال ہے فرزند وزن کا حق

باقی جو ہے وہ ملتِ بیضا پہ ہے نثار

اب ذرا پاکستان کی طرف آیئے۔۔۔ یہ چمکتی دمکتی اور نئی کاریں جن کا ہجوم روز بروز بڑھتا جا رہا ہے،یہ کس طرف اشارہ کرتا ہے؟۔۔۔ کیا ہمارا متوسط طبقہ غریب محض ہے؟۔۔۔ کیا وہ صرف نئی گاڑی خریدتا ہے اور گھر میں کچھ بھی پس انداز نہیں کرتا؟۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ متوسط طبقہ ء تنخواہ دار ملازمین، چھوٹے موٹے تاجروں، نجی کارخانوں اور کمپنیوں میں متوسط سکیل پر کام کرنے والے افراد اور کاریگروں پر مشتمل ہے۔ ان سے پوچھئے کہ ان کے پاس 15،20لاکھ (کم از کم) کی گاڑی خریدنے کے پیسے کہاں سے آجاتے ہیں؟۔۔۔ کیا یہ پیسہ، رشوت اور کرپشن کی عطا ہے یا ہر کار والا اتنا ہی محنتی اور کماؤ ہو گیا ہے کہ ایک قلیل مدت میں اس طرح کی گاڑیوں کی خرید کا متحمل ہو جاتا ہے۔

ذرا سوچئے کہ اس متوسط طبقے کے افراد کے ذرائع آمدن، کیا ان کے اثاثوں سے مطابقت رکھتے ہیں؟۔۔۔ میرا خیال ہے اس سوال کا اثبات میں جواب دینا بہت مشکل ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ ملک کا متوسط طبقہ، عمران خان کی ’تبدیلی‘ اور ’نئے پاکستان‘ کے نعروں پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہتا۔ اور حیران ہے کہ اگر اس حکومت کے دورانِ اقتدار ان کو واقعی کفائت شعاری، سادگی اور اپنی چادر کو دیکھ کر پاؤں پھیلانے پڑے تو آنے والے 5برسوں میں حجرہ شاہ مقیم کی ساری گلیاں ’’سنجیاں‘‘ ہو جائیں گی!۔۔۔اس لئے عمران خان اور ان کی حکومت کے خلاف ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔

مزید : رائے /کالم