سینیٹ قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی ، توہین رسالت ترمیمی بل مولانا غفور حیدری کا شدید احتجاج ، واک آؤٹ

سینیٹ قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی ، توہین رسالت ترمیمی بل مولانا غفور ...

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں توہین رسالت کے ترمیمی بل پر مولانا عبد الغفور حیدری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے توہین رسالت کے بل میں ترمیم کا معاملہ چھیڑ کرنیا تنازع کھڑا کر دیا ہے، توہین رسالت کے قانون کو چھیڑگیا تو پورے ملک میں احتجاج کریں گے، اگر حکومت کا نیا بل منظور ہوگیا تو توہین رسالت کا جرم کبھی ثابت نہیں ہوگا،حکومت نے توہین رسالت میں ترمیم کا معاملہ چھیڑ کر سنگین گناہ کا ارتکاب کیا ہے،سینیٹر رحمٰن ملک کے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنا ہوگا،کمیٹی کا اجلاس ان کیمرا ہونا چاہیے تاکہ میڈیا میں غلط بات نہ پھیلے،پاکستان بین الاقوامی سطح پر بھی توہین رسالت روکنے کیلئے اپنے قانون میں نئی شقیں ڈال سکتا ہے۔بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں ہوا۔ اجلاس میں مولانا عبد الغفور حیدری، رحمن ملک، سینیٹر فدا محمد، سینیٹر ثنا جمالی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام نے شرکت کی۔ روبینہ خالد نے اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اجلاس میں عدم شمولیت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں انہوں نے توہین رسالت کے حوالے سے بل بھیجا ہے لیکن خود اجلاس میں نہیں آئے۔ وفاقی وزیر چونکہ اس بل کو پیش کرنیوالے ہیں اس لیے وفاقی وزیر کی غیر موجودگی میں بل پر کاروائی کا آغاز نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا کہ توہین رسالت کے حوالے سے ملک میں پہلے سے قانون موجود ہے تو پھر نئے قانون کی کیا ضرورت ہے۔توہین رسالت کے موجودہ قانون کو کمزور کرنے کیلئے نیا قانون لانا قابل قبول نہیں ہے۔سینیٹر رحمٰن ملک نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔توہین رسالت پر اب تک جتنے مقدمے درج ہوئے ہیں ان کی تفصیلات منگوا کر دیکھتے ہیں کہ اس جرم میں پہلے کتنی سزائیں دی جاتی ہیں۔ دنیاوی عزائم کیلئے کسی پر توہین رسالت کا الزام لگانا بھی بہت بڑا جرم ہے جس کو روکنا ہوگا۔کمیٹی کا اجلاس ان کیمرا ہونا چاہیے تاکہ میڈیا میں غلط بات نہ پھیلے۔

مزید : صفحہ آخر