منی لانڈرنگ کیس، ملزم انور مجید ایک بار پھر ادارہ امراض قلب منتقل

منی لانڈرنگ کیس، ملزم انور مجید ایک بار پھر ادارہ امراض قلب منتقل

کراچی(سٹاف رپورٹر) منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ملزم انور مجید کو ایک بار پھر قومی ادارہ برائے امراض قلب منتقل کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ کیس کی تفتیش میں تیزی کے ساتھ ہی انور مجید ایک مرتبہ پھر بیمار ہوگئے ہیں، جس کے باعث انہیں دوبارہ سینٹرل جیل سے ادارہ امراض قلب منتقل کردیاگیاہے۔گذشتہ شب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہاکی اسٹیڈیم کے قریب واقع انور مجید کی شوگر ملزکے صدر دفتر پرچھاپہ مارا تھا، اس موقع پر آفس کی جامع تلاشی لی گئی،35ارب سے زائد منی لانڈرنگ کیس کے نامزد مرکزی ملزم انور مجید کے دفتر پر چھاپے کے دوران دفتر کے اطراف ناکہ بندی کرکے کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں نہ تھی۔اومنی گروپ کے وکیل نے تفتیشی ٹیم کی جانب سے اومنی گروپ کے دفتر پر چھاپے کی تصدیق کرتے ہوئے دعوی کیاکہ دفتر پر چھاپہ بغیر سرچ وارنٹ کے مارا گیا۔ذرائع کے مطابق سرجن جنرل آف پاکستان کی جانب سے جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ملزم انور مجید کو قومی ادارہ برائے امراض قلب سے کراچی کی لانڈھی جیل منتقل کیا گیا۔انور مجید کئی ہفتوں سے عارضہ قلب کی وجہ قومی ادارہ برائے امراض قلب میں زیر علاج تھے اور اس دوران ان کے کئی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم تین گھنٹے سے زائد دفتر میں موجود رہی۔ اس دوران چھان بین کی جاتی رہی اور دفتر میں موجود پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنی کے ملازمین سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔ذرائع نے بتایاکہ چھاپہ مارنے والی ٹیم میں نیب، ایف آئی اے حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل تھے۔

مزید : صفحہ آخر