ٹوائلٹ انڈسٹری اور قومی آمدن!

ٹوائلٹ انڈسٹری اور قومی آمدن!
 ٹوائلٹ انڈسٹری اور قومی آمدن!

  

ٹی وی کے سامنے بیٹھیں تو خبریں دیکھ دیکھ کر دل بیٹھنے لگتا ہے، مشکلوں سے نیند آتی ہے کہ ’’کیا کریں موت کا اک دن معین ہے اور خودکشی حرام ہے۔‘‘ صبح اٹھیں تو اخبارات کی سرخیاں، سیاست اور انسانیت سے یقین اٹھا دیتی ہیں۔

حالات ایسے گھمبیر ہیں کہ ’’صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا۔‘‘ جو جو کچھ دیکھتے ہیں زبان پر آ سکتا نہیں، بس کڑھنے ہی میں کٹ جاتی ہے۔ منہ سے الفاظ کم اور سرد آہیں زیادہ نکلتی ہیں، معاملات حیات کچھ ایسے الجھے اور حالات ایسے دگرگوں ہیں کہ

عاقل کو خاموشی زیبا

عارف کو بے ہوشی زیبا

پچھلے کئی دن کی غیر حاضری کے بعد، ابھی دفتر میں آیا اور دوستوں سے مل ملا ہی رہا تھا کہ ایک ساتھی نے، حال احوال پوچھنے کی بجائے، چیختے ہوئے بتایا ’’لو جی ڈالر 140کا ہو گیا ہے ۔۔۔!‘‘

سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے، کچھ افاقہ ہوا تو تبصرے شروع ہو گئے، جو ماہرانہ کم تھے اور پریشان کن زیادہ تھے، ہر ایک اپنے حالات کے مطابق تجزیہ کر رہا تھا کہ تنخواہ اپنی جگہ ڈٹ کر رہنی ہے اور اشیاء ضروریہ کی قیمتیں اونچی سے اونچی اڑان بھرنی اور غریبوں کے ہوش اڑاتی چلے جائیں گی۔ ہر کوئی اپنی اپنی کہہ اور ٹھنڈی سانسیں لے کر اپنی راہ ہوا، میں نے قلم اور کاغذ سنبھالا کہ کچھ واردات قلب ہی کاغذ پر منتقل کر سکوں، الفاظ کے دروازے کو کھٹکھٹانے کی خاطر، ابھی سر کھجا ہی رہا تھا کہ ’’جیلا بی بی سی‘‘ آوارد ہوا، اس پر اس کا آنا دھماکے دارانہ، نہ تھا، نہ ہی وہ غل مچاتا اور شور اڑاتا ہوا آیا، وہ دروازے کو دھیرے سے کھول کر کسی دوسرے کے اندر آنے کا فدویانہ انداز میں، انتظار کرنے لگا، میں حیران رہ گیا کہ بدتمیزی کی حد تک، بے تکلف ’’جیلا بی بی سی‘‘، اس انداز اور اس اخلاق کا مظاہرہ کیونکر کر رہا ہے اور وہ کون سی ہستی ہے جس کو اس فدویانہ انداز میں لایا جا رہا ہے۔

اس ہستی کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا، عام سے لباس میں جو قدرے میلا بھی دکھائی دے رہا، ایک پراگندہ بالوں والا، عام سی شکل و صورت کا (شاید منہ بھی نہیں دھلا تھا) فرد ادھر ادھر دیکھتا میرا سامنے آ بیٹھا، بیٹھتے ہی کھردرے لہجے میں بولا،’’سلام صاحب جی!‘‘

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

میں نے جیلے کی طرف دیکھا تو وہ دانت نکال کر کہنے لگا، یہ منگو صاحب ہیں، مستقبل کے ایک بڑے سرمایہ کار اور ملک و قوم کے بہت بڑے محسن و خدمت گزار ۔۔۔! میں نے ’’منگو صاحب‘‘ پر اچٹتی نظر ڈالی اور پھر جیلے کے چہرے پر نظریں جما کر، ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ایک بڑے سرمایہ کار اور ملک و قوم کے بڑے محسن کا سن کر، جیلے پر بھی رشک آنے لگا کہ وہ اتنی بڑی ہستی کو چلا کر میرے پاس لے آیا ہے، میرا جی چاہا میں ’’جیلا بی بی سی‘‘ کو اٹھ کر سیلوٹ پیش کروں اور اونچی آواز سے ’’حضرت جیلا صاحب‘‘ کا نعرہ بلند کروں ۔۔۔ مگر مزید تعارف کی خاطر، خاموشی سے جیلے کو سنتا اور سوالیہ نظروں سے دیکھتا رہا ۔۔۔ اس نے مزید ’’ارشاد فرمایا‘‘ کہ

جناب منگو، آنے والے دنوں میں ایک اہم ذمہ داری پر فائز ہونے والے ہیں۔۔۔

تم نے سنا تو ہو گا کہ مقتدرانہ طور پر سوچا جا رہا ہے کہ ’’باقاعدہ‘‘ سیاحت کی خاطر، ٹوائلٹ صاف ستھرے رکھے جائیں اور اس کی خاطر سرکاری سطح پر منظم اور سائنٹیفک طریقے اختیار کئے جائیں گے۔‘‘۔۔۔ جناب منگو ٹوائلٹ کے حوالے سے وسیع تجربات کے حامل ہیں، خصوصاً ان کی صفائی ستھرائی کے اور ہر طرح کی بندش و رکاوٹوں کے کھولنے کے ماہر ترین فرد ہیں، ان کو تو یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ کس قد کاٹھ یا جسامت و ضخامت کے فرد کے لئے کون سی بناوٹ کا ٹوائلٹ، ٹھیک رہے گا۔ بلکہ یہ کسی کی شکل دیکھ کر ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ ٹوائلٹ میں جا کر کون سی کارروائی ڈالے گا اور کتنا وقت لے گا، بلکہ جو فراغت کے بعد باہر آتا ہے، اس کا چہرہ دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس نے اپنے کئے کرائے پر پانی بھی ڈالا ہے یا اپنی ہی سوچوں میں پڑا رہا ہے ۔۔۔!

میں جیلے کی باتیں سن کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا، مجھے جیلے پر غصہ آ رہا تھا اور اپنے آپ پر افسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ میں ایک شرمندگی کی کیفیت میں بیٹھا تھا، ’’بدی کرتا ہے دشمن اور ہم شرمائے جاتے ہیں‘‘ والی کیفیت طاری تھی ۔۔۔ ایسے میں ’’منگو صاحب‘‘ کو دیکھا تو وہ جیلے کی زبانی اپنی تعریف پر اکڑتے چلے جا رہے تھے۔۔۔

جیلے کی زبان مسلسل چل رہی تھی، اس نے مزید کہا ’’ذرا سوچو، اگر ٹوائلٹ کی ضرورت کو انڈسٹری کی شکل دے دی جائے تو قومی آمدن میں کتنا اضافہ ہو گا اور روزگار کا کتنا بڑا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا، بلکہ صرف اس ایک انڈسٹری سے ایک کروڑ افراد کو با آسانی ملازمت بھی مل سکتی ہے۔ میں نے غصیلی نظروں سے جیلے کو دیکھا اور جلے بھنے لہجے میں پوچھا، ’’وہ کس طرح ۔۔۔؟جیلے نے فخریہ انداز میں بتایا

’’حکومتی سطح پر پچاس لاکھ عوامی ٹوائلٹ بنائے جائیں ڈیوٹی پر شفٹ میں ملازم رکھے جائیں تو ایک ایک ٹوائلٹ پر دو دو افراد کے حساب سے ایک کروڑ ہوا یا نہیں!

میں نے پوچھا، ان ملازموں کی اجرت کہاں سے آئے گی؟ جیلے نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگا،

’’صرف ان ایک کروڑ کی اجرت ہی نہیں، قومی آمدن میں بھی اضافہ ہو گا، ہو سکتا ہے ’’ٹوائلٹ انڈسٹری‘‘ ہی سارے قرضے ختم کرا دے۔۔۔۔۔۔

ذرا سوچو، ہر فرد کو ’’قضائے حاجت‘‘ کی مجبوری سے گزرنا پڑتا ہے، اب جو ان ٹوائلٹس کو استعمال کرے گا۔ اس کے لئے زر تعاون مقرر کیا جا سکتا ہے ’’چھوٹے کے لئے پانچ روپے بڑے کے لئے دس روپے بڑی مجبوری سے جان چھڑانے کے لئے تو یہ بہت کم رقم ہے۔ حاصل کردہ رقم سے کمیشن کے طور پر ملازمین کی اجرت دی جائے گی باقی قومی خزانے میں جمع کرا دیا جائے گا۔

میں نے طنز کرتے ہوئے پوچھا یہ فیصلہ کون کرے گا کہ چھوٹا ہوا ہے یا بڑا ہوا ہے؟ جیلے نے مسکراتے ہوئے کہا، جن کی ڈیوٹی لگائی جائے گی ان کو منگو صاحب باقاعدہ تربیت دیں گے، دوسرا فلش کرنے کی ڈیوٹی انہی ملازمین کی ہو گی تاکہ یہ دیکھ کر فلش کریں کہ کہیں کوئی جھوٹ بول کر کرپشن کا مرتکب تو نہیں ہو رہا۔‘‘

میں نے سر پیٹتے ہوئے کہا ’’گوبر سے بجلی بنانے کا تو سنا تھا، اس طرح قومی آمدن کا خیال تمہارے ہی ذہن میں آ سکتا ہے۔ تم مہربانی کرو اور منگو صاحب کو ساتھ لے کر باہر کا راستہ لو۔۔۔ جیلا غصے سے اٹھا اور کہنے لگا، ’’بھلائی کا دور ہی نہیں رہا، میں قومی خدمت کے جذبے سے آیا، تھا اور سوچا تھا’’منگو صاحب‘‘ کے تہلکہ خیز انٹرویو سے، سرکار کو نئی راہ سجھاؤں گا۔۔۔ مگر تم ملک و قوم کے خلاف ذہن بنائے بیٹھے ہو اور ’’ٹوائلٹ انڈسٹری‘‘ کو بننے ے پہلے ہی تباہ کرنے پر تلے ہو۔۔۔

میں نے چیختے ہوئے باہر نکلو اور یہ ٹوائلٹ سیاحت اور ٹوائلٹ انڈسٹری کے ’’خیالی پلاؤ‘‘ ساتھ ہی لے جاؤ ۔۔۔ بڑے آئے ٹوائلٹ کے ذریعہ آمدنی کا منصوبہ لے کر ۔۔۔ ٹوائلٹ تو وہ جائے گا جو پیٹ بھر کر کھائے گا، یہاں تو جان کے لالے پڑے ہیں مہنگائی اتنی بڑھ رہی ہے کہ لوگ کھانے کی بجائے اب صرف کیپسول کھایا کریں گے۔

مزید : رائے /کالم