ہمارا نظام تعلیم

ہمارا نظام تعلیم
ہمارا نظام تعلیم

  

ہمارا نظام تعلیم ہمارا نہیں ہے،ہمارے ہاں کہیں برطانیہ کا نظام تعلیم رائج ہے تو کہیں امریکا کا، کہیں نیوزی لینڈ کاہے تو کہیں آسٹریلیا کا ہے ۔ ہم اپنے ہونہار بچوں کو پاکستان کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے لئے تیار کرر ہے ہیں۔ ہمیں پیسے غرض ہے ، پاکستان سے نہیں!

ہم سے انگریز کی غلامی سے نکلنے کا خواب دیکھتے تھے ، انگریز نے ہمارے لئے انگریزی کو وبالِ جان بنادیا ۔ اب جو کوئی انگریزی میں مہارت حاصل کرتا ہے اسے امریکہ اور برطانیہ بلالیا جاتا ہے اور عوض میں ہمیں ڈالر دے دیئے جاتے ہیں۔

ایک امریکی نے پھبتی کی تھی کہ پاکستانی ڈالر کے عوض ماں تک بیچ دیتے ہیں ، اب ماؤں نے بیٹے بیچنے شروع کر دیئے ہیں ، ہمارے ہاں نظام تعلیم کے ملغوبے نے ہم سب کے گلوں میں پاکستان فار سیل کا بورڈ لٹکادیا ہوا ہے ۔

آج ہم پاکستان کو ٹھیک کرنے کیلئے مغرب اور امریکہ سے مثالیں ڈھونڈتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو بتاتے نہیں تھکتے ہیں کہ مذہب اسلام کے تمام زریں اصول مغرب نے اپنا رکھے ہیں جبکہ اہل مغرب کا رویہ بتاتا ہے کہ ان سے بڑھ کر کوئی اور مذہب اسلام سے خوفزدہ نہیں ہے، مغرب کو اسلام کا فوبیا ہو چکا ہے جبکہ ہم مغرب سے اسلام کی مثالیں ڈھونڈتے رہیں ۔

مغرب والوں کو اگر پتہ چل جائے تو وہ فوری طور پر اپنا طرز زندگی تبدیل کرلیں۔ قصور ان کا نہیں ہمارا ہے ، ہم مغرب زدہ ہیں ، ہمارا نظام تعلیم مغرب زدہ ہے ، ہماری سوچ مغرب زدہ ہے ، ہمارا رہن سہن مغرب زدہ ہے ، ہمارے کام مغرب زدہ ہیں۔ہم مغربی دنیا کے رنگ میں رنگ کر پاکستان کو ترقی دینا چاہتے ہیں ۔

افسوس یہ ہے کہ ہم ریاست مدینہ کے داعی ہیں مگر ہمارے لئے تمام مثالیں مغرب سے آتی ہیں ۔

ہمیں اپنے نظام تعلیم سے پاکستان کے لئے ڈاکٹر، انجنیئر اور ایم بی ایز نہیں چاہئیں کیونکہ ہمارے بچے مغرب کے خواب دیکھتے ہیں ، امریکہ جانے کی دھن میں مرے جاتے ہیں اور ہم یہاں بیٹھ کر ان کی راہ تکتے ہیں مگر ان کے اور ہمارے درمیان ڈالروں کی دیوارحائل ہے۔

ایسے میں اگر ہم نے نظام تعلیم تبدیل کردیا تو پرانے نظام تعلیم میں پڑھے لکھوں کا کیا کریں گے؟ 1960اور 1970کی دہائی میں سمجھا جاتا تھا کہ بی اے اور ایم اے کرلینے سے سرکاری نوکری مل جاتی ہے اور پھر ساری عمر سرکار آپ کا سسرال بنی رہتی ہے ۔ گزشتہ تیس برسوں میں سرکاری شعبے میں موجود ملازمتیں ابل کر باہر آپڑیں اور سرکار کی نوکری کے لئے اتنی دھماچوکڑی مچی کہ اب وہاں کوئی جگہ باقی نہیں بچی ہے۔ پھر بھی سرکار کی نوکری کے لئے مقابلے کے امتحان سے لے کر ہر ذریعے کو استعمال کیا جاتا ہے ، تب کہیں جا کر سرکاری نوکری ملتی ہے کیونکہ کبھی سرکاری نوکری سرکار کی نوکری کے لئے کی جاتی تھی ، اب سرکار آپ کی نوکر بنی رہتی ہے اور آپ کے آگے پیچھے بچھ بچھ جاتی ہے ۔ کیا اس صورت حال کو محض نظام تعلیم بدل کر تبدیل کیا جا سکتا ہے ؟گلوبل ویلج میں رہتے ہوئے اب چیزوں کو مقامی تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا ۔ اب دنیا سمٹ کر ہماری ہتھیلی میں آچکی ہے ، اب نظام تعلیم بدل بھی دیا جائے تو بھی بات نہیں بنے گی، اب تو حالات بدلنے ہوں گے تاکہ دنیا کے ساتھ چلا جا سکے!

ہمارے ہاں ویسے بھی نظام تعلیم کے نام پر بھیڑ چال کا نظام رائج ہے ۔ ہمارے ہاں انجینئر بننے کی دھن سمائی تو ہر طرف انجینئر نظر آنے لگے، ڈاکٹر بننے لگے تو ہر گھر میں ڈاکٹر پیدا ہوگیا، ایم بی اے کرنے نکلے تو یونیورسٹیاں تو یونیورسٹیاں ، کوٹھیوں تک سے ایم بی اے گھڑ گھڑ کر مارکیٹ میں پھینکے جانے لگے ۔ اب ہم یکساں نظام تعلیم کی بات کرنے لگے ہیں ۔

ایسا تو تبھی ممکن ہے اگر معاشرہ یکساں رفتار سے ترقی کر رہا ہو، وگرنہ ایک طرح کے نظام تعلیم سے ایک طرح کے لوگ ہی پیدا ہوں گے ، لیڈر پیدا نہیں ہوں گے۔

تعلیم برائے نوکری کے تصور نے بہت خرابی پیدا کی ہے ، لوگوں میں مایوسی بڑھی ہے کیونکہ ریاست کے اندر اتنے وسائل نہیں ہیں کہ اتنی ساری نوکریاں پیدا کر سکے۔

ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو اپنا کام کرنے کی ترغیب دی جائے ، انہیں تیار کیا جائے کہ وہ اپنے تئیں کچھ نہ کچھ کریں ۔ انہیں اپنے اندر مہارت پیدا کرناہوگی جس کی مارکیٹنگ سے وہ اپنے لئے معاشی امکانات پیدا کر سکتے ہیں وگرنہ نظام تعلیم سے نئی طرح کے کاروباری لوگ عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے سامنے آجائیں گے۔

مزید : رائے /کالم