معاشی عدم توازن ، 2سال پاکستانی معاشی ترقی کی رفتارکم ،روزگار سے متعلق پیشرفت ہوسکے گی ، ورلڈ بینک

معاشی عدم توازن ، 2سال پاکستانی معاشی ترقی کی رفتارکم ،روزگار سے متعلق ...

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) پاکستان کی معاشی ترقی یقیناًبہتری کی طرف گامزن ہے لیکن اس کیساتھ ساتھ میکرو اقتصادی عدم توازن میں اضافہ ہور ہا ہے۔ یہ تجزیہ ورلڈ بینک کی پاکستان کے بارے میں تازہ رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ جائزے میں بتایا گیا ہے ابھی کم از کم مزید دو سال معاشی ترقی موجودہ گرداب میں ہی رہے گی جس کے بعد کمزور معاشی صورتحال اور غربت میں اضافے کا سلسلہ قابو میں آسکے گا۔ ابھی ملک کو غربت سے نکالنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں دشواری درپیش ہے۔ یاد رہے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے ایک کروڑ نئی ملاز متیں پیدا کرنے کے منصوبے کااعلان کیا ہے جس کے مثبت نتائج پیدا ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے اگر پاکستان بڑھتے ہوئے خسارے کو کم کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک طویل مدتی ترقی کا منصوبہ وضع کرنا پڑے گا۔ جائزہ پاکستان کیلئے ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر النگا نوپیچا نے تیار کیا ہے جن کا کہنا ہے طویل المدتی ترقی کے منصوبے کے ذریعے ملازمتوں کی تعد اد بڑھے گی اور تنخواہوں میں بھی اضافہ ہوگا جو مستقبل کی معاشی ترقی اور استحکام کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہ رپورٹ آئی ایم ایف کے موجودہ سالانہ اجلاس کے دوران پیش کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس کے راستے محدود ہیں اور یہ چڑھتی اور گرتی معیشت کے حصار میں پھنسا ہوا ہے جس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ امریکی میڈیا کے مبصرین نے اپنے تبصرے میں کہا ہے پاکستان اس ہفتے قرضے کے حصول کیلئے آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع کرنیوالا ہے جس میں موجودہ بحران سے نکلنے کیلئے چھ سے سات ارب ڈالر قرضے کے حصو ل پر غور ہوگا۔ پاکستان کو یہ قرضہ مل گیا تو وہ اس سے اپنا خسارہ پورا کرے گا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے قرضے کے حصول کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں ڈ الر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں 9 فیصد کمی ہوگئی ہے۔ اس وقت اوپن مارکیٹ میں ڈالر 135 روپے تک پہنچ گیا ہے اور یہ صورتحال برقرار رہی تو دو تین مہینوں میں اس کی قیمت 140 سے 150 روپے کے درمیان پہنچ سکتی ہے۔

مزید : صفحہ اول