العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کے تمام گواہوں کے بیانات مکمل

العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کے تمام گواہوں کے بیانات مکمل

اسلام آباد(آئی این پی ) احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت میں تمام 22 گواہوں کے بیانات مکمل ہوگئے، نواز شریف کے وکیل نے چھٹے روز تفتیشی افسر پر جرح مکمل کرلی،تفتیشی افسرنے کہا کہ کمپنیز شیئرز کی تقسیم سے واقفیت رکھنے والے کسی فرد کا بیان قلمبند نہیں کیا، شریف خاندان کی کون سی کمپنیاں بند ہوچکیں، کون سی کمپنیاں آپریشنل ہیں، اس حوالے سے بھی تحقیقات نہیں کیں،کسی گواہ نے نہیں کہا کہ حسین اور حسن نے ایچ ایم ای میں نواز شریف کی معاونت کی، نواز شریف نے العزیزیہ اور ہل میٹل کے اندر ہونے کا دعوی نہیں کیا، تمام افراد نے کہا کہ العزیزیہ اسٹیل مل میاں شریف نے قائم کی۔ بدھ کو احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت ہوئی، جج محمد ارشد ملک نے ریفرنس کی سماعت کی۔سابق وزیر اعظم احتساب عدالت میں پیشی کے لیے لاہور سے اسلام آباد پہنچے۔سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے تفتیشی افسر محبوب عالم پر جرح کی۔تفتیشی افسرنے کہا کہ نواز شریف کے قوم سے خطاب کی ڈی وی ڈی بنانے والے کا بیان قلمبند نہیں کیا، قوم اور قومی اسمبلی سے خطاب کی ڈی وی ڈی بنانے والے کا نام بھی معلوم نہیں۔تفتیشی افسر کے مطابق العزیزیہ اسٹیل ملز کب قائم ہوئی، کسی گواہ نے نہیں بتایا نہ العزیزیہ اسٹیل کے قیام کے لیے اسپانسر فنڈنگ کا بھی نہیں بتایا۔ العزیزیہ، ہل میٹل کے لیے فنڈ حسین نواز نے دیے یہ بھی کسی گواہ نے نہیں بتایا۔ تمام افراد نے کہا کہ العزیزیہ اسٹیل مل میاں شریف نے قائم کی۔خواجہ حارث نے پوچھا کہ تفتیش میں کسی ایسے شخص کو شامل کیا جو شیئرز کی تقسیم سے واقف تھا؟جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ ایسے کسی شخص کو شامل تفتیش نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے آزادانہ تفتیش نہیں کی اور صرف جے آئی ٹی رپورٹ پر انحصار کیا۔ صرف جے آئی ٹی کی ریفر کی گئی دستاویزات پر ریفرنس تیار نہیں کیے۔تفتیشی افسر نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے کوئی متعصبانہ تفتیش کی یا طے شدہ منصوبے کے تحت نواز شریف کو کیس میں پھنسایا، نواز شریف نے کسی خطاب یا جے آئی ٹی میں خود کو کمپنیز کا مالک نہیں کہا۔تفتیشی افسر پر جرح مکمل ہونے کے بعد نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ملزم کا 342 کا بیان قلمبند کرلیا جائے، خواجہ حارث نے کہا کہ 342 کا بیان شروع کیا گیا تو کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ پہلے فلیگ شپ ریفرنس میں واجد ضیا کا بیان قلمبند کیا جائے۔جج نے کہا کہ سپریم کورٹ سے ٹائم فریم آجائے تو مستقبل سے متعلق طے کر لیں گے۔ مزید سماعت (آج) جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔

مزید : صفحہ اول