آکے بیٹھے بھی نہ تھے کہ اٹھائے بھی گئے

آکے بیٹھے بھی نہ تھے کہ اٹھائے بھی گئے
آکے بیٹھے بھی نہ تھے کہ اٹھائے بھی گئے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا پولیس سروس کے دو بہترین افسروں کو پنجاب میں متعین کیا گیا۔ ایک تو ریٹائرڈ آئی جی ناصر خان درانی ہیں، جن کی آئی جی پولیس کے پی کے کی حیثیت سے ایک اساطیری شہرت یہ بن گئی ہے کہ انہوں نے صوبے کی پولیس کو مثالی پولیس بنا دیا۔ اب ظاہر ہے جو افسر صوبے میں پولیس کے کلچر کو تبدیل کرنے کا کریڈٹ رکھتا تھا، وہ تحریک انصاف کے چیئرمین وزیراعظم عمران خان کے ویژن کو بھی کماحقہٗ سمجھتا ہوگا تبھی تو اس نے صوبے کی پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے اس طرح آزاد کیا کہ نہ صرف چار دانگ عالم میں اس کی شہرت ہوئی بلکہ وزیراعظم عمران خان بھی اس کے لئے رطب اللسان پائے گئے۔ آپ دھرنے کے دن سے شروع ہو جائیں اور ایک ایک کرکے عمران خان کی تقریریں سننا (یا پڑھنا) شروع کر دیں، خدا جھوٹ نہ بلوائے، ان میں اگر زیادہ نہیں تو آدھی تقریریں ضرور ایسی ہوں گی جن میں وہ خیبرپختونخوا پولیس کی تعریف اور پنجاب پولیس کی تذلیل و تضحیک کرتے پائے گئے۔ دھرنے کے دنوں میں تو انہوں نے اسلام آباد کے اس وقت کے آئی جی طاہر عالم کو نام لے کر دھمکیاں دیں کہ برسر اقتدار آکر ان سے نپٹ لیں گے، یہ تو طاہر عالم خان کی قسمت اچھی تھی کہ تحریک انصاف کی 2014ء میں فوری اقتدار کی حسرت پوری نہ ہوئی اور اسے 2018ء تک انتظار کرنا پڑا۔ طاہر عالم اگر ریٹائر نہ ہوگئے ہوتے تو شاید انہیں پہلی ہی فرصت میں عہدے سے اسی طرح ہٹا دیا جاتا جس طرح ذوالفقار علی بھٹو (اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے) نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹے بعد ہی بہت سے جرنیلوں کو ریٹائر کر دیا تھا۔ پہلی نشری تقریر میں انہوں نے ان کے نام لے لے کر کہا کہ فلاں جنرل آج سے ریٹائر ہوگئے، ان بہت سے ناموں میں ایک نام جنرل غلام عمر کا بھی تھا، جو وزیر خزانہ اسد عمر اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے والد محترم تھے۔ یہ تو خیر جملہ معترضہ درمیان میں در آیا۔ ہم عرض کر رہے تھے کہ خیبرپختونخوا میں پولیس فورس کی بہتری کے سلسلے میں جھنڈے گاڑنے والے ناصر درانی ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ تک تو آرام کرتے رہے۔ تحریک انصاف ان کے اس کارنامے سے اس حد تک متاثر تھی کہ جب نگران حکومتیں بننے لگیں تو ان کا نام پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے لئے پیش کیا گیا، لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔ تاہم تحریک انصاف چونکہ ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کی دل سے مداح تھی، اس لئے جب اس کی حکومت بنی تو عمران خان نے ایک بار پھر ان کی اہلیت سے استفادے کا فیصلہ کیا اور یہ کام ان کے ذمے لگایا کہ وہ اسی طرح پنجاب پولیس کو بھی مثالی بنا دیں، جس طرح انہوں نے صوبہ خیبرپختونخوا کی پولیس کو بنا دیا ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک خصوصی کمیشن تشکیل دیا گیا جس کا نام پنجاب پولیس اصلاحات کمیشن رکھا گیا۔ اس کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے ناصر درانی نے ایک مسودہ قانون تیار کیا جس میں انہوں نے پولیس کو اتنے زیادہ اختیارات دے دئیے کہ وزیراعلیٰ بھی پولیس کے سامنے پانی بھرتے نظر آئے۔ ناصر درانی کو شاید یہ مسودہ تیار کراتے ہوئے احساس نہیں ہوا کہ وہ یہ مسودہ پنجاب پولیس کی اصلاح کے لئے تیار کر رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے لئے نہیں یا پھر وہ ان سینکڑوں تقریروں کے خمار میں ہوں گے جو انہوں نے عمران خان کی زبان سے سن رکھی تھیں، لیکن انہیں شاید یاد نہ رہا کہ عمران خان اب وزیراعظم ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی ضروریات اور تقاضے بدل چکے ہیں۔ اب انہیں ایک ایسی پولیس فورس درکار ہے جو بلا چون و چرا ان کے احکامات پر عمل کرتی رہے۔ جیسے انہوں نے پنجاب کے آئی جی طاہر خان کو حکم دیا کہ وہ ان سب پولیس افسروں کو او ایس ڈی بنا دے جو ماڈل ٹاؤن کے واقعہ میں ملوث تھے۔ آئی جی پولیس نے اس حکم کو بلا حیل و حجت ماننے کی بجائے، اس میں اپنے طور پر یہ ترمیم کرلی کہ ان پولیس افسروں کو دوسری جگہوں پر ٹرانسفر کر دیا، جو ان کے خیال میں ماڈل ٹاؤن واقعہ میں ملوث نہیں تھے اور جے آئی ٹی نے بھی انہیں کلیئر کر دیا تھا۔ آئی جی کا یہ ‘‘اجتہاد‘‘ ایسا تھا جو پسند نہیں کیا گیا۔ حالانکہ دیکھا جائے تو عمران خان کا یہ حکم بہرحال ایک سیاسی حکم تھا اور ایسا ہی سیاسی حکم تھا جو ان کے خیال میں پولیس کو سیاسی بنا دیتا تھا، اس لئے اگر آئی جی نے اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے تھوڑی بہت تبدیلی کر دی تو کچھ برا نہیں کیا لیکن یہ ان کا قصور ٹھہرا اور ان کا تبادلہ کر دیا گیا، وہ تو الیکشن کمیشن نے مداخلت کرکے تبادلہ رکوا دیا، لیکن تحریک انصاف کے جوشیلے وزیر الیکشن کمیشن کے اس حکم کو ماننے کے لئے تیار نہیں، ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے، ایسا ہوا ہے یا نہیں یہ تو پتہ چل جائے گا، لیکن طاہر خان کے تبادلے کے احکامات کے ساتھ ہی ناصر درانی نے بھی استعفا دے دیا ہے، کیونکہ ان کے مسودہ قانون برائے تبدیلی کو نہیں مانا گیا۔ ناصر درانی کو پتہ چل گیا ہوگا کہ پنجاب کی سرزمین پولیس اصلاحات کے حوالے سے اتنی زرخیز نہیں ہے جتنی خیبرپختونخوا کی رہی ہے۔ اس لئے انہوں نے استعفا دینے میں عافیت سمجھی اور موقع ایسا منتخب کیا جب آئی جی کو تبدیل کیا جا رہا تھا۔ یہ وہی آئی جی ہیں جن کے ابھی کل تک صدقے واری جایا جا رہا تھا۔ اب یہ معاملہ اعلیٰ عدالتوں میں جائے گا تو معلوم ہوگا کون درست ہے اور کون غلط۔ ضمنی الیکشن تک تو طاہر خان آئی جی ہیں، اس کے بعد وہ کہاں ہوں گے، کچھ کہا نہیں جاسکتا، کیونکہ تازہ موقف یہ سامنے آیا ہے کہ وہ گریڈ 21 کے افسر ہیں جبکہ پنجاب کا آئی جی گریڈ 22 میں ہونا چاہئے، لیکن جب انہیں لگایا گیا تھا تو کیا اس وقت یہ نہیں سوچا گیا تھا، فیصلہ پہلے، سوچ بچار بعد میں، یہی ہمارا شعار ہے۔

پولیس اصلاحات

مزید : تجزیہ