ڈالر بے قابومہنگائی کا طوفان ، ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھا کر معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے

ڈالر بے قابومہنگائی کا طوفان ، ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھا کر معیشت کو سہارا دیا ...

بہاولپور(نامہ نگار)کشکول توڑنے کے دعوے دارحکمرانوں نے ہر شہری کے ہاتھوں کاسہ گدائی پکڑادیا۔آئی ایم ایف کی بھیک سے بہتر خودکشی کو ترجیح دینے والے نالائق حکمرانوں(بقیہ نمبر44صفحہ7پر )

نے غریب عوام کو خو دکشی پر مجبور کردیا ہے۔مخدوم سید احمد محمود سابق گورنر وصدراور محمد سلیم بھٹی ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن پی پی پی جنوبی پنجاب نے لٹیرے حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں کے اقتدار سنبھالنے سے قبل ملکی ذرمبادلہ کے ذخائرمیں تیزی سے کمی آرہی ہے۔موجودہ حکومت نے اقتصادی و معاشی بحران پر قابو پانے کے لئے آئی ایم ایف سے جس بیل آؤٹ پیکیج لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اس کے نتیجے میں سخت اقتصادی پالیسیوں کا سامنا ہوگا جو معاشی ترقی کی رفتار کوسست ترین کردے گا۔حکمرانوں کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے متبادل راستے اختیار کرنا چاہئے تھے لیکن حکمران دوررس نتائج کی پالیسیاں بنانے کی بجائے ابھی تک اپوزیشن کی سیاست کررہے ہیں۔معاشی بدحالی کی بناء پر ملکی معیشت کمزور ترین ہوتی جارہی ہے جس کا خمیازہ عام آدمی کے ساتھ ساتھ اب سفید پوش طبقہ کو بھی بھگتنا پڑرہا ہے۔روپے کی قدر میں کمی سے جہاں ڈالر کی قیمت 137 سے بھی مذید بڑھنے کا خدشہ ہے وہیں ضروریات ذندگی کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان کی بلندیاں چھو رہی ہیں۔پٹرول بجلی گیس اورسی این جی کی قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز کے داموں میں شدید اضافہ ہوگیا ہے دالیں،سبزیاں،فروٹ، گھی،کپڑے دھونے کا سرف،صابن اور آٹاسمیت ہر چیز کی قیمت غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگئی ہے۔سونے کے نرخوں میں 1700 روپے کا شدید اضافہ مذید مہنگائی کا باعث بنے گا۔جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 7 ڈالر تک کی کمی واقع ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران ٹیکس چوروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ماہرین کی مدد سے نئی پالیسیاں بنائے ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار بڑھا کر معیشت کو سہارا دیا جاسکتا ہے۔پیپلز پارٹی نے کبھی بھی غریب عوام پر بوجھ نہیں ڈالالیکن موجودہ حکمران غربت کی بجائے غریب کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ میڈیا پر غیر اعلامیہ سنسر شپ کی مذمت کرتے ہوئے غیر اعلامیہ سنسر شپ کا فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف مقامی اخبارات کے ڈیکلر یشن منسوخی کی مذمت کرتے ہیں بلکہ میڈیا ہاؤسز سے جبری برطرفیوں کے خاتمہ کیساتھ کارکنوں کو ان کے جائز مطالبات کو فوری حل کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔

مشورہ

مزید : ملتان صفحہ آخر