تخلیقی ادب میں خواتین کا کردار’’ مذاکرہ و مشاعرہ‘‘ کا انعقاد

تخلیقی ادب میں خواتین کا کردار’’ مذاکرہ و مشاعرہ‘‘ کا انعقاد

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیراہتمام تخلیقی ادب میں خواتین کا کردار’’ مذاکرہ و مشاعرہ‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت امریکہ میں مقیم معروف دانشور شاعرہ پروفیسر رضیہ سبحان نے کی، مہمان خصوصی معروف دانشور طلعت آفتاب تھے ۔ اعزازی مہمان افروز رضوی، شاہینہ فلک، کلثوم آفتاب تھے ۔ اس موقع پر اپنے پروفیسر رضیہ سبحان صدارتی خطاب میں خصوصی لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ عورت کی ایک اپنی دنیا بھی ہے انسان کے عمومی مسائل کے ساتھ ساتھ اس کے اپنے مسائل بھی ہیں جوصرف وہ ہی جانتی سھتی خون میں رچاتی اور ان کے فنی اظہار کیلئے مضطرب رہتی ہے۔ نسائی حیثیت کوئی فارمولا نہیں کہ سامنے رکھ کے وہ ادب تخلیق کردے یہ تو اس کی زندگی کے منفرد تجربے اور طرز احساس ہی کا نام ہے۔نصیحت آموز ادب کا زمانہ ختم ہوا تو عورت نے لحاف کے باہر اور اندر کی داستان لکھنی شروع کی انسان ہونے کی کوشش میں حائل عذایوں کو شعراء اور کہانی میں تحلیل کیا۔ میری نظر میں وہ منفرد طرز احساس اور تجربہ جو مخصوص حالات حنفی اور جبلی تقاضے سے پھوٹنا ہے اور ادب کی بنیاد بنتا ہے یوں تو امریکا میں men on menقسم کے سلسلے وار مجموعے مقبول ہورہے ہیں مگر تجربات کے دائرے کے حوالے سے وہ بات بھی بر محل ہے۔ جو ورجینا ولف نے جین آسٹن کے ناولوں کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھی تھی کہ گھر آنگن کے معاملات پر لکھنے کا محدود کیوں سمجھا جاتا ہے۔ ادب کی محفل میں پوری آب و تاب کے ساتھ اپنا کام مکمل کرنے والی ان خواتین سے تعارف کے بعد ہم یہ جان سکتے ہیں کہ اس تجربے میں گھرائی بھی ہے اور گیرائی بھی ہنرمند فنکارکے ہاتھوں میں بظاہر محدودپابندنظر آنے والے موضوعات بھی انوکھے اوراچھوتے نظر آنے لگتے ہیں اس عہد کے ادب میں یہ ہی ان خواتین کا سب سے نمایاں کا رنامہ ہے۔ اس موقع پرمہمان خاص طلعت آفتاب کہاکہ برصغیر ۰۶ کی دھائی میں لسانی تشکیلات ایلیٹ اور ایذرا پاؤنڈ کے ساتھ کا فکا کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ہمارے نقادوں اور عصری تخلیقاروں نے دیکھا کہ لکھنے والیاں نہ صرف اعدادی طورپر زیادہ ہیں بلکہ نئی نہج کو سربلند کئے اس بات پر معر ہیں کہ خواتین کی تحریروں میں زنانہ پن تلاش کرنا بند کرو۔ نام نہاد وزنانہ جذبات کا اظہار تانیثی ادب کا حق ادا کرنے سے قاصر ہے تانیثیت تو نام نہاد و زنانہ پن کی نفی کرتی ہے لیکن وہ اس بات کی تو ثیق بھی کرتی ہے۔ کہ عورت کی اپنی شخصیت ہے اور اسے مرد سے الگ پڑھنا اور سمجھنا چاہئے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر