انور مجید کیس میں مسلسل اہم پیش رفت،سندھ حکومت مزید پریشانی کاشکار

انور مجید کیس میں مسلسل اہم پیش رفت،سندھ حکومت مزید پریشانی کاشکار

کراچی (رپورٹ/ندیم آرائیں )انور مجید کیس میں مسلسل اہم پیش رفت اور تحقیقاتی دائرہ وسیع ہونے کے باعث سندھ حکومت مزید پریشانی کا شکار ہو گئی ہے۔ اہم شخصیت کی گرفتاری کے لیے ٹھوس شواہد جمع کیے جارہے ہیں اور انور مجید کے دفتر پر چھاپہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں ایف آئی اے کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ آئندہ دو سے چار ہفتوں میں سندھ سے اہم شخصیات کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ملک بھر میں حوالہ ہنڈی کا کاروبار روکنے اور رقوم کی غیر قانونی طریقے سے منتقلی میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی اے نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم کو انور مجید کے دفتر سے کچھ ایسی دستاویزات بھی ملی ہیں جن میں رقوم بیرون ملک بھیجے جانے کے شواہد موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم شخصیت کی گرفتاری کے لیے ٹھوس شواہد جمع کیے جارہے ہیں اور انور مجید کے دفتر پر چھاپہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں ایف آئی اے کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ دو سے چار ہفتوں میں سندھ سے اہم شخصیات کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ ایف آئی اے کے ایک اور ذریعہ کے مطابق کراچی میں ہاکی اسٹیڈیم کے قریب اومنی گروپ کے دفتر پر ایک گھنٹے میں دو چھاپے مارے گئے۔ ایک گھنٹے کے دوران نیب اور رینجرز کی دو ٹیموں نے چھاپے مارے، دوسری ٹیم نے ملازمین کو حراست میں لے کر باقی ماندہ ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا۔ قبل ازیں ایف آئی اے نے اومنی گروپ کے دفتر پر چھاپہ مارا اور ایک گھنٹے تک دفتر کی تلاشی لے کر ریکارڈ تحویل میں لے لیا، اومنی گروپ کا دفتر ہاکی اسٹیڈیم کے قریب واقع ہے دفتر کو سیل کر دیا گیا۔ ایف آئی اے حکام نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسران کے ساتھ اومنی گروپ کے 3 ملازمین سے پوچھ گچھ کی، ریکارڈ کے ہمراہ 2 کمپیوٹر کے سی پی یو اور 3 لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لے لیے۔ چھاپے کے دوران سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ بھی تحویل میں لیا گیا، ایف آئی اے حکام کے ہمراہ عدالتی حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی کے ارکان بھی تھے۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے اومنی گروپ کے چیف فنانس افسر اسلم مسعود اور اکانٹنٹ عارف خان کے کمروں کی تلاشی لی اور ان کے کمپیوٹر اور کمروں میں موجود اہم دستاویزات ضبط کرلیں۔ قبضے میں لیے گئے ریکارڈ کی فارنسک جانچ نئے مقدمات قائم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ایف آئی اے سائبر کرائم اور اسٹیٹ بینک سرکل کے افسران پر مشتمل ٹیم نے دفتر سے ریکارڈ قبضے میں لیا، رینجرز کی بھاری نفری نے سیکورٹی فراہم کی۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی ہدایت پر بننے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے نئے شواہد سامنے آنے پر اومنی گروپ کے کراچی میں ہاکی اسٹیڈیم کے قریب قائم دفتر پر چھاپہ مار کر کمپیوٹر اور بعض دستاویزات ضبط کی ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ اومنی گروپ کے ملک بھر میں قائم ہونے والے دفاتر میں یہ پہلا دفتر ہے جہاں سے انوسٹمنٹ کمپنی کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس دفتر کو اومنی گروپ کے اکانٹنٹ سطح کے افسران چلاتے تھے جن کے نام سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی نے اپنی آخری رپورٹ میں دیے تھے۔ ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ 29 بینک اکانٹس سے شروع ہونے والی تحقیقات میں 300 سے زائد نئے اکانٹس سامنے آئے ہیں اور ان افراد کو جے آئی ٹی کے توسط سے ایف آئی اے حکام مختلف دنوں میں نوٹسز کے ذریعے طلب کر رہے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر