لاپتہ افراد کیس ،عدالت کا پولیس کی کارکردگی پر اظہار برہمی

لاپتہ افراد کیس ،عدالت کا پولیس کی کارکردگی پر اظہار برہمی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں پولیس کی کارکردگی پر برہمی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ۔بدھ کو 50سے زائد لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی جہاں عدالت نے پولیس کے کارکردگی پر افسوس اور برہمی کا اظہار کیا عدالت کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کیلئے پریشان ہوتے ہیں ان کی داد رسی کون کرے گا ؟؟عدالت کا پولیس افسران سے کہنا تھا آپ لوگ اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے ر روایتی رپورٹس لے کر آجاتے ہیں ،ہمیں کاغذی کارروائی نہیں رزلٹ چاہیے ۔ عدالت نے سندھ پولیس ،ڈی جی رینجرز اور دیگر فریقین سے 21 اکتوبر تک پیش رفت رپورٹ طلب کرلی لاپتہ قاری نذیر کا کہنا تھا کہ ہمارے عزیز کو 4 سال گذر گئے ہے 7 جی آئی ٹی بن چکی ہے مگر اسکا کچھ پتا نہیں چلا۔ لاپتہ فیضان کا کہنا تھا کہ فیضان کو 2106 سے پی ایس بغدادی سے لاپتہ کیا گیا تھا ۔ فیضان کے گمشدگی کے حوالے سے سندھ پولیس نے 4 جی آئی ٹی بنائی مگر کچھ نہیں ہوا ،عمر علی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ عامر علی کو 2015 میں گورنگی سے لاپتہ کیا گیا اس بازیاب سے متعلق جی آئی ٹی 2018 میں بنائی گی،ہمارے پیاروں پر اگر کو الزم ہے تو انکو کورٹ میں پیش کیا جائے ۔4 ،4 سال سے ہمارے پیارے ہم سے دور ہے انکو بازیاب کروالیا جائے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر