’کل ایک وزیر نے کہا کہ 14اکتوبر کو ہم اختر مینگل کے دباؤ سے نکل جائیں گے کیونکہ ۔ ۔ ۔‘ حامد میر کا ایسا انکشاف کہ آپ کی بھی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی

’کل ایک وزیر نے کہا کہ 14اکتوبر کو ہم اختر مینگل کے دباؤ سے نکل جائیں گے ...
’کل ایک وزیر نے کہا کہ 14اکتوبر کو ہم اختر مینگل کے دباؤ سے نکل جائیں گے کیونکہ ۔ ۔ ۔‘ حامد میر کا ایسا انکشاف کہ آپ کی بھی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی

  

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت پرامید ہے کہ ضمنی انتخابات میں انہیں آٹھ سے نو نشستیں مل جائیں گی اور وہ بعض چھوٹی جماعتوں کے محتاج نہیں رہیں گے ، پھر وہ دباؤ سے بھی نکل جائیں گے لیکن اس کیلئے 6  ماہ کا انتظار کرنا ہوگا۔ 

روزنامہ جنگ میں چھپے اپنے کالم میں حامد میر نے لکھا کہ’’کل تحریک انصاف کے ایک وزیر نے مجھ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہر دوسرے دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری حکومت صرف پانچ ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہے یہ پانچ ووٹ بی این پی مینگل کے ہیں اور اگر لاپتا افراد کا مسئلہ حل نہ ہوا تو بی این پی مینگل حکومت سے نکل جائے گی۔ وزیر صاحب نے کہا کہ 14اکتوبر کو ہم اختر مینگل کے دبائو سے بھی نکل جائیں گے۔ قومی اسمبلی کی گیارہ نشستوں پر ضمنی الیکشن ہورہا ہے اور ہم آسانی سے آٹھ یا نو نشستیں جیت جائیں گے پھر آپ ہمیں اپنے لاپتا افراد یاد نہ کرائیے گا۔

میں نے بڑے احترام سے وزیر صاحب کو کہا کہ لاپتا افراد کیلئے میں نے نہیں عمران خان نے سب سے پہلے آواز اٹھائی تھی میں تو آپ کو صرف آپ کے پرانے وعدے یاد دلاتا ہوں۔ وزیر صاحب نے کہا ہمیں صرف چھ مہینے دیدیں۔ ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔ میں نے کہا آپ چھ مہینے لے لیں لیکن یہ تو بتائیں کہ 14اکتوبر کو ضمنی الیکشن میں آپ نے جن صاحبان کو ٹکٹ دیئے ہیں کیا وہ نئے پاکستان کے نمائندے ہیں؟ کیا آپ نے این اے 131لاہور سے ولید اقبال کی جگہ ہمایوں اختر خان کو ٹکٹ دیکر اپنے حامیوں کو مایوس نہیں کیا؟ کیا آپ نے این اے 35بنوں سے مولانا فضل الرحمان کے سابق ساتھی مولانا نسیم حسن شاہ کو ٹکٹ دیکر علامہ اقبالؒ کے خواب کی تعبیر دی ہے؟

وزیر صاحب نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا ہم نے این اے 53اسلام آباد سے اپنے پرانے ورکر علی نواز اعوان کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہ بات درست تھی۔ میں نے مان لیا کہ اسلام آباد میں ٹکٹ صحیح آدمی کو ملا لیکن جب یہ پوچھا کہ رحیم یار خان میں خسرو بختیار کی خالی نشست پر ان کا بھتیجا امیدوار بن گیا، راولپنڈی میں شیخ رشید کا بھتیجا آپ کا امیدوار بن گیا، مظفر گڑھ میں ایک ایم این اے کی والدہ آپ کی امیدوار بن گئیں، ڈیرہ غازی خان میں آپ کے ایم این اے نے صوبائی اسمبلی کی جو نشست چھوڑی وہاں سے ان کے والد امیدوار بن گئے،

پرویز خٹک نے بھی نوشہرہ میں جو صوبائی نشست چھوڑی وہ اپنے بیٹے کو دیدی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنی خالی کردہ صوبائی نشست اپنے بھائی کو دیدی، علی امین گنڈاپور کی خالی کردہ صوبائی نشست ان کے بھائی کو مل گئی اور اگر آپ یہ سب نشستیں جیت جائیں تو کیا یہ موروثی سیاست کی فتح نہیں ہوگی؟ وزیر صاحب پہلے مسکرائے، پھر تلملائے۔ کچھ کہتے کہتے رک گئے پھر بولے میں آپ کو چھ مہینے کے بعد ملوں گا۔ میں نے اپنے اس پرانے دوست کو گلے لگایا اور کہا کہ میری باتوں پر ناراض نہ ہوں صرف یہ اعتراف کرلیں کہ آپ لوگ بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرح پاور پالیٹکس کررہے ہیں اور پاور پالیٹکس کرنے والوں کا انجام وہی ہوتا ہے جو ماضی کے حکمرانوں کا ہوا، لہٰذا اپنے بارے میں غلط فہمی سے نکل آیئے آپ سابق ڈاکوئوں کے ساتھی ہیں‘‘۔

مزید : قومی