وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی صحبت کا مزہ 

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی صحبت کا مزہ 
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی صحبت کا مزہ 

  

عثمان بزدار کی وزیر اعلیٰ نامزدگی کے وقت سے ہی اعتراضات اٹھ رہے تھے۔ تنقید ہو رہی تھی،خیال کیا جا رہاتھا کہ انکے مخالفین حلف اٹھانے کے فوری بعد کھڑاک کرینگے اور ایسا کچھ ہواء بھی، ایک بے بنیادمقدمہ بنا کر انکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا،جہانگیر ترین کا امیدوار قرار دیکر شاہ محمود قریشی کو انکے مقابل لانے کی کوشش کی گئی، مگر عمران خان نے ہر قسم کے منفی پراپیگنڈہ کو مسترد کر کے عثمان بزدار پر کھلے اعتماد کا اظہار کیا،الزامات لگانے والوں کو ہر موقع پر منہ کی کھانا پڑی توبتدریج سب کے منہ بند ہونے لگے،حرف آخر کے طور پر عمران خان نے بزدار کے مخالفین کوکھلے الفاظ میں بتا دیا کہ جب تک تحریک انصاف کی حکومت ہے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے ،سو اب عثمان بزدار ’’ جیسے ہیں جہاں ہیں کی‘‘ بنیاد پر سب کیلئے قابل قبو ل ہو گئے ہیں۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کچھ لوگوں کو عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور کیوں ہضم نہیں ہو رہے،شائد ان کا قصور یہی ہے کہ وہ ہماری طرح ایک عام آدمی ہیں۔اچھا ہوا ، وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی کے اندر اور باہروزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے مخالفین پرواضح کر دیا ہے کہ جب تک تحریک انصاف کی حکومت ہے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدارہی رہیں گے۔

کچھ روز قبل وزیر اعلیٰ بزدار سے ملاقات میں انکی شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور انکی ’’صحبت،، سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملا۔ صحبت ، انکے قبائلی علاقے کی مشہور ڈش ہے جو مہمانوں کی تواضع کیلئے خاص مواقع پر پیش کی جاتی ہے۔صحبت مٹن اور چاولوں سے بنائی جاتی ہے ، اسے پودینے اور دہی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ عثمان بزدار ایک اچھے آدمی ہیں اور انکی زندگی کھلی ہوئی کتاب ہے،سادہ منش انسان،دیہی ثقافت میں رنگے ایک صاف گو مگر کم گو شخصیت کے مالک عثمان بزدار کی سیاست خدمت کیلئے ہے،جوڑ توڑ،اٹھا پٹخ ،خرید و فروخت ،جھوٹ فریب ،وعدے وعید کی سیاست سے انکا دور کا بھی واسطہ نہیں،مفاد پرستی کی سیاست انکے پاس سے بھی نہیں گزری۔اگر وہ مفادات کی سیاست کرتے تو اپنے دور تحصیل ناظم تونسہ شریف میں وہ بہت کچھ حاصل کر سکتے تھے لیکن وہ اپنے آبائی گاؤں میں بجلی جیسی بنیادی سہولت حاصل نہ کر سکے،یارلوگ بجلی کی سپلائی حاصل نہ کر پانے کو ان کی نا اہلی قرار دیتے ہیں مگر دراصل یہ انکی نا اہلی نہیں بلکہ میرٹ پر کا م کرنے کا بین ثبوت ہے،اعتراض کرنے والے دراصل جنوبی پنجاب خاص طور پر ڈیرہ غازیخان کے علاقوں اور آبادی کی دور دراز تقسیم سے واقفیت رکھتے ہیں نہ جانتے ہیں کہ ایک شہر،بستی،آبادی کا دوسری سے کتنا فاصلہ ہے۔ راستے کتنے دشوارگزار ہیں،تحصیل ناظم خواہ کتنی بڑی تحصیل کا ہو وہ یہ فاصلے نہیں مٹا سکتا، کیونکہ یہ تحصیل یاضلع ناظم کا کام نہیں بلکہ مرکزی حکومت کا دائرہ اختیار ہے۔بجلی کی فراہمی،کھمبوں کی تنصیب،تاروں کی بچھائی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے،مقامی حکومت بلکہ صوبائی حکومت بھی اس معاملہ میں بے بس ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان ہیں،انہوں نے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی، بعد ازاں لاء کالج سے وکالت کا امتحان شاندارحیثیت میں پاس کیا۔2001ء میں مسلم لیگ (ق) کو جوائن کیا اوراسی سال مقامی حکومت کے الیکشن میں کامیابی کے بعد تحصیل ناظم تونسہ شریف منتخب ہوئے اور 2008ء تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔ 

عثمان بزدار کے بارے میں مخالفین کی رائے ہے کہ وہ فیصلہ سازی کی قوت سے عاری ہیں،مگر یہ بات کہتے مخالفین ان کے قبضہ گروپوں اور تجاوزات کیخلاف پنجاب بھر میں منظم اپریشن کو بھول جاتے ہیں،یہ اپریشن آج بھی کامیابی سے جاری ہے،واضح رہے کہ شہباز شریف 10سال پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے اس دوران تجاوزات کی وجہ سے بازار سکڑ گئے،شہریوں کیلئے پید ل چلنا مشکل ہو گیا ،ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا،جس کے باعث متعدد حادثات میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہواء۔ مگر پنجاب کے خودساختہ نیلسن منڈیلا تاجر مافیا کی طاقت کے سامنے ڈھیر ہو گئے،صرف ووٹ کے لالچ میں و ہ بڑے شہروں سے تجاوزات کا خاتمہ نہ کر سکے ، مگر عثمان بزدار مخالفت اور سیاسی فوائد کی پرواہ کئے بغیر پنجاب کو تجاوزات سے پاک اور قبضہ مافیا کیخلاف کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں،مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس آپریشن میں غریبوں کو تنگ نہیں کیا جائے گا۔

عثمان بزدارکو اقتدار سنبھالے ابھی چندہفتے ہوئے ہیں ، وہ بہر حال انسان ہیں کوئی فرشتہ بھی اتنی مختصر مدت میں سالہا سال کی خامیوں کو درست نہیں کر سکتا اس لئے ان کو عوامی مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے کا موقع اور مہلت دینا ہو گی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ