پی ٹی آئی،وقت بہت کم ہے 

پی ٹی آئی،وقت بہت کم ہے 
پی ٹی آئی،وقت بہت کم ہے 

  

پاکستان کی معاشی حالت کئی دہائیوں سے ابتر ہے۔ اِس کو سدھارنے کے لئے کئی سال در کار ہوں گے ۔ اقتصادی اور معاشی تباہ حالی کے علل و اسباب ڈھونڈنے کے لئے مغز ماری کی ضرورت نہیں۔ اخبارات اور ٹی وی پر ان اسباب پر تفصیل سے ہر روز بحث کی جاتی ہے۔ عمران خان صاحب کا یہ کہنا کہ کرپشن سے مُلک برباد ہُوا ہے، جزوی طور پر بجا ہے۔ لیکن مُلک کو تباہ کرنے کے لئے جنرل ضیا ء سے لیکر اب تک کی تمام حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ ہم نے بلا سوچے سمجھے افغانستان کی جنگ میں شرکت کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ وزیر اعظم بھٹو کو معزول کرنے کے بعد جنرل ضیاء اور اُنکے رفقاء نے مسندِ اقتدار سنبھال لی تھی۔ امریکہ نے نے کسی حد تک جنرل ضیاء کی حکومت کو تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن بین الاقوامی طور پر فوجی حکمر انوں کوجمہوری آداب کے پیش نظر قبول نہیں کیا جاتا۔ اُس وقت جنرل ضیاء کو بین الاقوامی طور پر قبولیت کی اشد ضرورت تھی۔ اس اثنا ء میں روس نے افغانستان پر فوجی یلغار کر دی اور اپنی فوجوں کو افغانستان میں تعینات کر دیا۔ روس کو افغانستان سے نکالنے کے لئے امریکہ اور دوسرے نیٹو ممالک کو ایک ایسے مُلک کی ضرورت تھی جو بفر سٹیٹ کے طور پر اتحادی فوجوں کی مدد کر سکے۔ 

پاکستان کا رجحان چونکہ شروع ہی سے امریکہ کی جانب تھا۔ اس لئے امریکہ نے سعودی عرب، قطر اور دوسرے مُسلم مما لک کے توسط سے پاکستان کی قیادت کو قائل کیا کہ وُہ امریکہ کی مدد کریں اور مُسلم برادر مُلک کی آڑے وقت میں مدد کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو روس پاکستان پر بھی کسی وقت حملہ کر سکتا ہے۔ پاکستان کو آ مادہ کرنے کے لئے مالی امداد کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ، وُہ ممالک جو فوجی حکومت کو نا پسندیدیگی کی نظر سے دیکھتے تھے، پاکستان کی حکومت اور افواج کے گُن گانے لگے۔ پاکستان کی جمہوریت کے تمام نقائص دُنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ ہم پر تعریفوں کے ڈونگھرے

بر سائے گئے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی اور معزولی پر اچانک پردہ پڑ گیا۔ جنرل ضیاء صاحب مُسلم ممالک میں ہیرو بن کر اُبھرے۔ مر د مومن جیسے القابات سے اُن کو نواز گیا۔ لیکن افغانستان کی جنگ میں ملوث ہونے کا خمیازہ ہمیں اس طرح ملا کہ مُلک میں افغان بھائیوں کی آمد سے نا جائیز اسلحے اور منشیات کا کارو بار اپنے عروج تک پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ، تین ملین افغان بھائیوں کی کفالت کا بوجھ پاکستان کے ناتواں کندھوں پر ہمشیہ ہمیشہ کے لئے پڑ گیا۔ نا جائز اسلحے اور منشیات کی وجہ سے ہمارے مُلک کی اقتصادی ، نفساتی اور معاشرتی حالت پر منفی اثر پڑا۔ منشیات اور کلاشنکوف کلچر کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت نے کوئی خاص کوشش نہیں کی۔ کیونکہ حکومت اور فوج افغانستان میں بُری طرح ملوث ہو چُکی تھی۔ نو جوانوں کے مُستقبل کو تباہ کرنے کے لئے ہیروئین ایک مُہلک ہتھیار ثابت ہوئی۔

حکومت کی عدم توجہی کے علاوہ، منشیات کے کاروبار نے پاکستان کے فوجی، سماجی اور سیاسی حلقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہر کوئی شخص کروڑ پتی بننے کے چکر میں اس مناقع بخش کاروبار میں ملوث ہو گیا۔ افغان بھائیوں کی چاندی ہو گئی۔ ایک طر ف اُن کو پُر تعیش زندگی گُزارنے کے لئے پاکستان کی شکل میں سائبان مِل گیا۔ دوسری طرف اُنکو پیسہ کمانے کے لئے پاکستان میں ایک نئی منڈی مل گئی۔ جہان پر ہیروئین اور نا جائز اسلحے کی خرید و فروخت کے مواقع آ سانی سے دستیباب تھے۔ مُلک کے اعلیٰ حُکام اور سیاستدان بھی اس کاروبار میں شامل تھے بلکہ ہیروئین کی بیرون مُلک ترسیل کے لئے اپنے افغان بھائیوں کی خوشدلی سے مدد کر نے پر آمادہ رہتے تھے۔ امریکہ ، سعودی عرب اور دوسرے ممالک کی اقتصادی امداد کو ہم نے دائمی سمجھ کر اپنی صعنت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ افغان بھائیوں کی آمد اور ہماری عد م فُر صتی کی وجہ سے مُلک کی پیدوار کو شدید نقُصان پہنچا۔ 

امریکہ اور دوسرے ممالک کے سامنے جب بھی ہم نے اپنے مالی خسارے کا ذکر کیا انہو نے ہماری جھولی میں پیسہ ڈال دیا۔ کبھی گرانٹ کو صورت میں اور کبھی قرضوں کی شکل میں۔ بالآخر امریکہ افغانستان سے روس کی فوجوں کو نکالنے میں کامیاب رہا۔ امریکہ اور اُسکے حواری ممالک جو مقاصد پاکستان سے حاصل کر سکتے تھے انہوں نے آسانی سے حاصل کر لئے۔ ہم نے اپنے مُلک کا امن، صعنت اور سرمایہ کاری کے امکانات کو داؤ پر لگا دیا۔ ہم نے خود انحصاری کو چھُوڑ کر دوسرے آقاؤں پر بھروسہ کرنا شروع کر دیا۔ امریکہ اُس زمانے میں پاکستان کو بالُکل فراموش کر چُکا تھا۔ پاکستان اپنے مسائل میں اتنا گُم ہو چکا تھا کہ کسی کو کوئی خبر نہ تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔

جنرل ضیاء کی حکومت کے بعد متحرمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت وجود میں آئی۔ انہوں نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو قایم رکھنے کے لئے طالبان جیسی تنظیم کی نہ صرف داغ بیل ڈالی بلکہ اُس کو پروان چڑ ھانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے۔

بعد ازاں نائین الیون کے واقعہ کے بعدامریکہ کو پاکستان کی پھر یاد ستانے لگی کیونکہ اطلاعات کے مُطابق حملہ کرنے والے القائدہ تنظیم سے تعلق رکھتے تھے جنکی پُشت پناہی طالبان کی حکومت، جس کے سربراہ مُلا عُمر تھے، کر رہے تھے۔ انہوں نے اسامہ بن لادن اور دوسرے مطلوب اشخاص کو امریکہ کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ لہذا امریکہ نے فوجی طاقت کیساتھ طالبان کی حکومت کو گرانے کے لئے پاکستان کے سربراہ جنرل مشرف سے مدد مانگی۔جنرل ضیاء کی طرح جنرل مشرف کو بھی بین الاقوامی طور پر قبولیت کی اشد ضرورت تھی لہذا انہوں نے امریکہ کی ہر طرح سے مدد کرنے کی حامی بھر لی۔ حتیٰ کہ پاکستان کی سر زمین پر امریکی اڈوں کی اجازت بھی دے دی گئی۔پاکستان کے اس تعاون کے بدلے، پاکستان کو ہر مُلک سے تعریف کے ساتھ مالی مدد بھی ملی۔ لیکن مُلک میں دہشت گردی بڑھ گئی۔ جس کو فوج اور سول ادارے آج تک کماحقہ طور پر ختم نہیں کر سکے۔ عدم استحکام اور نہ پائیدار امن کی بدولت صعنت کاری بُر ی طرح متاثر ہُوئی۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے کوئی شخص رضامند نہ تھا۔ تاہم یہ بات جنرل مشرف کے کریڈٹ پر جاتی ہے کہ اُنکے دور میں مہنگائی کے عفریت نے اِس شدت سے سر نہیں اُٹھا تھا اور نہ ہی مُلک اس حد تک قرضوں کے تلے دبا ہُوا تھا۔ لیکن اس کے بعد پیپلز پارٹی اور مُسلم لیگ ن کی حکومتوں نے مُلک کوچلانے کے لئے ہر طرف سے اندھا دھند قرضے لئے۔ دونوں ہی حکومتوں کے سیاستدان اور حکام بُری طرح کرپشن میں ملوث رہے۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

منی لانڈرنگ کا رواج بڑ ھتا رہا اور ہر شخص نے دبئی میں اپنی املاک خرید لیں۔سرمایہ پاکستان سے دوسرے ممالک کو نا جائز ذرائع سے منتقل ہوتا رہا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم حکومتوں کے لئے گئے قرضوں کے سُود کو بھی بر وقت چُکانے کے قابل نہیں رہے۔ آئی ایم ایف قرضے کو ہم نے مُلک کے لئے نا سُور سمجھ لیا۔ عمران خانصاحب نے وعدہ کیا کہ وُہ اقتدار میں آنے کے بعد آئی ایم ایف کے پاس کبھی نہیں جائیں گے لیکن اُن کو بھی اب اُنکے پاس جانا پڑ رہا ہے۔ عمران خان صاحب کی حالیہ پریس کانفرنس سے خفت کے آثار اُنکے چہرے پر نمایا ں نظر آتے تھے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جب سیاستدان اقتدار میں نہیں ہوتے تو اُن کو اصل صورتِ حال کا اندازہ نہیں ہوتا۔ وہ عوام کا دل جیتنے کے لئے ایسے وعدے کر دیتے ہیں۔ لیکن ہمیں خانصاحب سے ایسی امُید نہ تھی۔ عوام عمران خان سے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ وعدوں کی خلاف ورزی سے عوام میں اُن کا تاثیر بگڑتا جائے گا۔ عمران خان صاحب کو ایسے بیانات دینے سے حتی الامکاں گریز کر نا چاہئے۔ عوام کرپشن کی تکرار کو سُننا نہیں چاہتے۔ بلکہ وُہ مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ وُہ عوام جو تحریک انصاف کو اقتدار کے ایوان تک آئے ہیں۔ وُہ اُنکو حکومت چھوڑنے پر مجبور بھی کر سکتے ہیں۔شہباز شریف کی گرفتاری سے نواز شریف کو اپنی سیاست پھر سے چمکانے کا مواقع ملاہے۔ پییپلز پارٹی اور مُسلم لیگ کے پھر متحد ہونے کے چانسز پیدا ہو چُکے ہیں۔ لہذا تحریک انصاف کو اپنی کار کردگی پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔ عدالت عالیہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے بارے میں جو ریمارکس دئے ہیں، وُہ بھی قابل غور ہیں۔ عوام مُلک میں سو دن میں واضع تبدیلی دیکھنے کے متمنی ہیں۔ اُمید ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت الزامات لگانے کی بجائے اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے کے لئے اپنی صلاحیتیں استعمال کرے گی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ