’بھدی، بدصورت خواتین جنسی ہراسانی کا الزام لگا رہی ہیں‘

’بھدی، بدصورت خواتین جنسی ہراسانی کا الزام لگا رہی ہیں‘
’بھدی، بدصورت خواتین جنسی ہراسانی کا الزام لگا رہی ہیں‘

  

ممبئی (ویب ڈیسک)بالی ووڈ فلم و ڈرامہ انڈسٹری میں می ٹو مہم کا نشانہ بننے والے اداکار ایک کے بعد ایک سامنے آرہے ہیں،اداکار نانا پاٹیکر، ہدایت کار وکاس بہل اور الوک ناتھ کے بعد اب بھارتی گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریا پر بھی جنسی ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔ اپنے اوپر الزام لگائے جانے پر ابھیجیت کا کہنا ہے کہ بھدی اور بدصورت خواتین جنسی ہراسانی کا الزام لگا رہی ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک فضائی میزبان کی جانب سے گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریا پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سال 1998 میں کولکتہ کے ایک ڈسکو میں انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر فضائی میزبان نے پوسٹ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’ابھیجیت نے مجھے ڈانس کرنے کے لیے کہا، میرے منع کرنے پر انہوں نے زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچا۔ میرے منع کرنے پر انہیں غصہ آگیا اور انہوں نے مجھے گالیاں دینا شروع کردیں اور کہا کہ تم خود کو کیا سمجھتی ہو؟ میں تمہیں سبق سکھاتا ہوں، اور یہ کہہ کر انہوں نے زبردستی میرا بوسہ لینے کی کوشش بھی کی‘گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریانے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ الزام بے بنیاد ہے، میں اپنی پوری زندگی میں کبھی ڈسکو نہیں گیا اور نہ ہی پارٹیز میں جاتا ہوں۔ یہ سب کچھ شہرت حاصل کرنے کے لیے کیا جارہا ہےجس پر انہیں توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

بھارتی میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ’جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی خواتین میں زیادہ تر بھدی اور بدصورت خواتین ہیں جن کا مقصد صرف شہرت پانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الزام لگانے والی خواتین میں کوئی موٹا ہے کوئی پتلا ہے، کسی کو توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہےکیونکہ صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے ہی یہ خواتین سامنے ا?رہی ہیں۔‘ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ ابھیجیت بھٹاچاریا پر کسی خاتون نے ہراساں کیے جانے کا الزام لگایا ہے بلکہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ان کے خلاف شکایات درج کروائی جا چکی ہے، اور سال 2015 میں ایک 34 سالہ خاتون کو جنسی ہراساں کرنے پر بھارتی پولیس نے گلوکار کے خلاف ایکشن بھی لیا تھا۔

مزید : تفریح