شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی یاد میں 

شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی یاد میں 
شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی یاد میں 

  

شہید پاکستان حکیم محمد سعید موجودہ اور آئندہ صدیوں کے لیے لوگوں خصوصاً نوجوانوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان کا ہر منصوبہ پیش بینی کا غماز ہوتا تھا ۔وہ اس عہد کے بڑے مصلح ،معالج ،سیاح ،محقق ،منتظم اور ادیب تھے ۔ان کی زندگی کا ہر لمحہ بامقصد اور نتیجہ خیز فکر و عمل میں گزرتا تھا ۔انہوں نے طب مشرق میں علاج بالدوا کے شعبہ جو دسویں صدی عیسوی یعنی بو علی سینا کے بعد انحطاط کا شکار تھا ، اس عمل یعنی طب مشرق کی دواؤں پر مریضوں کا اعتماد بحال کیا ۔آج دُنیا بھر جہاں طب مشرق کے فروغ کی بات ہوتی ہے وہاں شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی کوششوں کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔اُنکی عمر نے وفا نہ کی اگر وہ مزید کچھ عرصہ ہمارے درمیان موجود ہوتے تو یقیناًوہ طب مشرق میں سرجری کے شعبہ کی نشاۃ ثانیہ اور فروغ کے لیے کام کرتے اور ہمدرد یونیورسٹی سے نئے ابو القاسم الزھراوی جیسے عظیم سرجن پیدا ہوتے جو دسویں صدی عیسوی کے مسلم اسپین (ہسپانیہ)کے مسلمان سرجن ابو القاسم الزھراوی کی یاد تازہ کر دیتے جو دنیا کا پہلا قابل ذکر سرجن تھا ۔طب مشرق میں علاج باالدوا کے ساتھ علاج باالجراحت کا قیام بھی ضروری ہے ۔یہ کام شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی شہادت سے تشنۂ تکمیل رہ گیا ہے جسے رائج کرنے پر اُمید ہے ،پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن (PAEM)اور حکومت نتیجہ خیز توجہ دے گی۔

گزشتہ دنوں جب حکیم صاحب کی بیسویں برسی کا اہتمام کیا گیا تو اس موقع پر کچھ ایسے نابغہ روزگار شخصیات کے خیالات سننے کا موقع ملا ۔ فلیٹیز میں پاکستان ایسوسی ایشن فارایسٹرن میڈیسن کے زیر اہتمام ’’شہید پاکستان حکیم محمد سعید ایثار ،ہمدرد اور محبت کا پیکر ‘‘کے موضوع پر انتہائی اہم سمینیار منعقد کیا گیا تھا ۔ سیمینار کی صدارت پیٹرن انچیف پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن محترمہ سعدیہ راشد نے کی ۔صوبائی وزیر صحت محترمہ یاسمین راشد کی بوجوہ عدم شرکت مشیر صحت پنجاب محترم حنیف پاتافی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے ۔جبکہ تجزیہ کار وچیف ایڈیٹر روزنامہ ’’پاکستان‘‘ محترم مجیب الرحمن شامی ،ممبر اسلامی نظریاتی کونسل محترم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی ،ایم ایس فاؤنٹین ہاؤس لاہورمحترم ڈاکٹر عمران مرتضیٰ ،سینئر نائب صدر’ پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن ‘پنجاب حکیم راحت نسیم سوہدروی ،شاعر و کالم نگارمحترم پروفیسر ناصر بشیر،محترم حکیم محمد حامد نظامی ،محترم حکیم بشیر بھیروی ،محترم پروفیسر حکیم سید صابر علی شاہ ،محترم حکیم امجد امین نے اظہارخیال کیا۔سیمینار میں شوریٰ ہمدرد کے اراکین کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھرپورشرکت کی جن میں پنجاب بھرسے آئے ہوئے اطباء کرام کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔سیمینار کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جسکی سعادت قاری حکیم محمد یسین صاحب جبکہ نعت رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت معروف ثناء خوانِ مصطفیٰ ﷺ حافظ حکیم مرغوب احمد ہمدانی نے حاصل کی ۔

مشیرِ صحت حکومت پنجاب محترم حنیف پاتافی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید نہ صرف طب دنیا کی عظیم شخصیت تھے بلکہ تعمیر پاکستان میں بھی انکا کردار انتہائی اہم ہے ۔ان جیسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔شہید حکیم محمد سعید عجز و انکساری کے پیکر سچے انسان اور محب الوطن پاکستانی تھے وہ ہندوستان سے نیک نیتی ،سچائی اور ایک مضبوط ارادہ اپنے ساتھ لے کر آئے پاکستان کی بقاء اور وطن عزیز کی آبیاری کیلئے دن رات محنت کی اور خطیر رقم کمائی اور پاکستان کے نام وقف کر دی ۔ اُنکی سوچ ،مال اور جان سب کچھ پاکستان کے لئے تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ حکیم صاحب کے قائم کردہ ادارے آپ کی صاحبزادی سعدیہ راشد کی سرپرستی میں انکے مشن ’’پاکستان سے محبت کرو اور پاکستان کی تعمیر کرو ‘‘اور صحت مند پاکستان کیلئے سرگرم عمل ہے۔حکیم صاحب وزیر رہے گورنر رہے مگر مطب کرنا نہ چھوڑا ،انکا مطب علی الصبح نماز فجر سے شروع ہو کر نماز عصر تک چلتا کوئی ڈھائی تین سو مریضو ں کے دُکھوں کا مداوا کی سعی کرتے،مریضوں کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرتے ،مستحق مریضوں کو مفت دواء دیتے بلکہ ساتھ مالی مدد بھی کرتے ۔اُنکی اَن گنت خدمات میں شہر مدینۃ الحکمہ ،ہمدردیونیورسٹی ، مطبِ ہمدرد،مطبوعاتِ ہمدرد،کم وسائل مگر ذہین طلباء و طالبات کے لیے تعلیمی وظائف کا اجراء ، ناداروغرباء کے مفت علاج کیلئے ہمدرد فری موبائل ڈسپنسریز کا نیٹ ورک،بیواؤں اور یتیموں کے لیے ماہانہ وظائف ،رمضان میں راشن پیکج کا اہتمام ،سردیوں میں کمبل کی تقسیم ،دیہا ت کے بچوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے ہمدرد ویلج اسکول جیسے کئی فلاحی کام شہید حکیم محمد سعید کے لیے بلند درجات کا ذریعہ ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت طب کی ترقی کے لیے اقدامات کرے گی اور اطباء کا ہسپتالوں میں تقرری کا جائزہ لینے کے لیے دائریکٹرجنرل ہیلتھ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرے گی جس میں پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کی نمائندگی بھی ہوگی۔

محترم مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ میرا حکیم صاحب کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے ۔ اُن کے اس تعلق کو چیدہ وسعتوں میں سیمٹنا ممکن نہیں ہے ۔ہم سب تلقین کرتے ہیں کہ عوام کو کم خرچ کرنا چاہئے ،سادہ زندگی بسر کرنی چاہیے وغیر ہ وغیرہ لیکن جب حکیم صاحب کی زندگی کو دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی ساری زندگی سادگی اور کفائت شعار ی سے بھر پور تھی ۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے علاوہ آج تک کوئی دوسرا مجھے نظر بھی نہیں آیاجو دَرس دینے کی بجائے عمل کر کے دیکھائے۔ قیوم نظامی نے کہا کہ شہیدحکیم محمد سعید وی آئی پی کلچر کے سخت مخالف تھے وہ سندھ کے گورنر بنے تو انہوں نے بلا وجہ پروٹوکول سے گریز کیا ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ’ امت کو علمی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط اورطاقتور ہونا چاہیے ‘۔ حکیم محمدسعید نے اس آیت پر پوری زندگی عمل کیا ۔وہ خوب جانتے تھے کہ جب تک پاکستانی قوم تعلیمی اور جسمانی لحاظ مضبوط نہیں ہوگی ترقی نہیں کر سکے گی۔مختصر وقت میں چھ یونیورسٹیاں قائم کردیں اورافراد کی صحت کیلئے ہمدرد دواوخانہ اورشوریٰ ہمدردجیسے فکری ادارے قائم کئے جوآج بھی مصروف عمل ہیں اور انسانیت ان سے فائدہ اُٹھا رہی ہے۔ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس قوم کو ہمیں جہالت کے اندھیروں اور پستی سے نکالنا ہے توہمیں شہید حکیم محمد سعید کے اس قول پر توجہ کرنا ہوگی جسمیں وہ تحریر کرتے ہیں کہ ’’قوموں کے عروج و زوال کاتعلق علم و حکمت کے پیمانے سے لگایا جاتا ہے جاہل قوم کبھی سر بلند ہو نہیں سکتی ‘‘ آج گھٹا گور اندھیروں سے چھٹکارے کیلئے ہمیں ایک ہی راستے کا انتخاب کرنا ہے اور وہ ہے علم کا راستہ جس کی ترویج کے لیے شہید پاکستان حکیم محمدسعید نے آخری سانس تک کوششیں کیں۔

تقریب میں ڈاکٹر عمران مرتضیٰ نے کہا کہ مجھے ۳ اللہ والوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اُن میں سے ایک شہید حکیم محمد سعید ؒ تھے ۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے آٹھ سال ہمدرد یونیورسٹی میں بطور رجسٹرار اپنی ذمہ داریاں نبھائیں ،جسکی بدولت مجھے شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی رفاقت بھی میسر آئی ۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بد قسمتی ہے کہ ہمارے ہاں غیروں کو رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، آج اس ہال میں حکومتی نمائندے اور صاحب اختیار احباب بھی موجود ہیں تو کیوں نہ ہائیر ایجوکیشن کے نصاب میں حکیم صاحب کے کارہائے نمایاں شامل کیے جانے کی سعی کی جائے تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے حکیم صاحب جیسی ہمہ گیر شخصیت ایک مثال کے طور پر سامنے آئے۔حکیم راحت نسیم سوہدوری نے کہا کہ حکیم صاحب کا بنیادی میدان طب اور طبیب کا تھا۔انہوں نے اپنی زندگی کا آغاز بھی طب سے شروع کیا اور مقصد بھی اِسی کے فروغ کو بنایا۔حکیم صاحب واحد حکیم تھے جو علی الصبح فجر کی نماز کے بعد مطب شروع کر دیتے ۔وزارت یا گورنری اُنکے طب کے راستے میں کبھی بھی رُکاوٹ نہ بنی۔محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ میری بہن بشریٰ رحمن کے یہ الفاظ آج مجھے یاد آ رہے ہیں کہ ’’شہید پاکستان حکیم محمد سعید نے اپنی زندگی میں جتنے سانس لیے اُتنے کام کیے ‘‘انکی اولین ترجیحات میں صرف فلاح و بہبود اور انسانیت کی خدمت تھی وہ چاہتے تھے کہ ہر پاکستانی ترقی کرے اور ہر پاکستانی صحتمند ہو اس طرح پاکستان بھی صحتمند ترقی کرے گا ۔حکیم صاحب کا تذکرہ سُنتے اور سناتے محترمہ سعدیہ راشد آبدیدہ ہو گئیں اور شرکاء سے بھرے ہال میں میں عجب سی کیفیت ہوگئی ۔ پروفیسر ناصر بشیر نے حکیم صاحب کی شخصیت پر منظوم خطاب کیا ، یہ نظم پیشِ نظر ہے۔۔۔۔

قُدرت نے اُس کو ڈالا تھا حِکمت کی راہ پر ہر گام تھا ،وہ منزلِ تازہ کی اک خبر 

تھا اُس کی بات بات میں زخموں کا اِندمال روتے ہوئے بَشَر کاتھا ہمدرد سَر بَسَر

اُس کو قدم قدم پہ نئی مشکلیں مِلیں چھوڑی نہ اُس نے پھر بھی مسیحائی کی ڈَگر

کردار میں وہ کچھ بھی فرشتوں سے کم نہ تھا اور دیکھنے میں لکھتا تھا اک عام سا بَشر

شاعرنہیں تھا ،دِ یدۂ بینائے قوم تھا اندھوں کے شہر میں تھا وہ ایک صاحبِ نَظَر

انسانیت کا نُور ودیعت ہُوا اُسے کانٹوں میں پھول ،پتّھروں میں تھا وہ اک گُہر

ناصر بشیر اُس کو ملی عمرِ جادواں ویسے تو زندگی کی کہانی ہے مختصر

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ