فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر534

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر534
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر534

  

اس بار عصمت چغتائی نے اپنے ناول ’’ضدی‘‘ کو فلم اسکرپٹ کی شکل میں ڈھالا اور شاہد لطیف نے اشوک کمار کو یہ کہانی سنائی تو انہیں بہت پسند آئی۔ ’’ضدی‘‘ کی تکمیل کا تذکرہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار بھی شاہد لطیف تھے۔ ان کی پہلی اور عصمت چغتائی کی دوسری ناکامی کے بعد ’’ضدی‘‘ ایک سپرہٹ ثابت ہوئی۔ یہ فلم 1948ء میں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی اور اس سال کی کامیاب ترین فلموں میں شامل تھی جسے نقادوں نے بھی بہت سراہا تھا۔ فلمی دنیا میں کامیابی سے بڑھ کر اور کوئی کارنامہ نہیں ہوتا۔ فلم کامیاب ہو جائے تو اس سے وابستہ ہر شخص کامیاب ہو جاتا ہے اور فلم ساز اس کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں۔ یہی معاملہ ’’ضدی‘‘ کے بعد عصمت چغتائی اور شاہد لطیف کے ساتھ بھی پیش آیا۔ کھیم چندر پرکاش تو پہلے ہی صف اول کے موسیقار تھے۔ دیو آنند اور کامنی کوشل بھی مقبول فنکار تھے مگر اس فلم میں ان دونوں نے پہلی بار ایک ساتھ کام کیا تھا اور بہت اچھا کام کیا تھا۔ ان دونوں کی مانگ میں بھی مزید اضافہ ہو گیا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر533 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

عصمت چغتائی کے لئے یہ فلم ایک خزانہ ثابت ہوئی۔ اسکرپٹ لکھنے کے لئے انہیں بیس ہزار روپے معاوضہ ملا تھا اور یہ بہت بڑی فلم تھی۔ ایک افسانہ نگار تو کسی ایک تخلیق کا اتنا معاوضہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اگر عصمت چغتائی صرف افسانہ نگاری ہی کرتیں اور ساری زندگی افسانے لکھتی رہتیں پھر بھی بیس ہزار مشکل ہی سے کماتیں۔ اس فلم نے ان کے لئے کامیابی اور آمدنی کی نئی راہیں کھول دی تھیں۔ اب وہ اور شاہد لطیف سکہ بند مصنف اور ہدایت کار تسلیم کیے جاتے تھے۔ فلم سازوں کی کمی نہیں تھی۔ ہر کوئی ان دونوں سے فلم بنوانے کا خواہش مند تھا۔

’’ضدی‘‘ کے بعد ان دونوں کی فلم ’’آرزو‘‘ کا آغاز کیا گیا اس فلم میں دلیپ کمار اور کامنی کوشل مرکزی کرداروں میں پیش کیے گئے تھے۔ اس وقت یہ فلمی جوڑی سب سے زیادہ مقبول تھی لیکن کسے معلوم تھا کہ ’’آرزو‘‘ ان دونوں کی رومانی آرزوؤں کی شکست ثابت ہو گی۔ دلیپ کمار اور کامنی کوشل کے عشق کی داستانیں عام ہو چکی تھی اور خبریں بھی گرم تھیں کہ کامنی کوشل کے شہر مسٹر سود اور کامنی کوشل کے مابین کشیدگی پیدا ہو گئی ہے پھر واقفانِ راز یہ خبر لائے کہ آئندہ کامنی کوشل دلیپ کمار کے ساتھ کام نہیں کریں گی۔ ان خبروں نے بھی فلم بینوں میں ’’آرزو‘‘ دیکھنے کی آرزو کو دوچند کر دیا تھا۔

’’آرزو‘‘ کی کاسٹ میں ششی کلا، گوپ، رقاصہ ککو بھی شامل تھے۔ انل بسواس اس فلم کے موسیقار تھے۔ نغمات مجروح سلطان پوری اور پریم دھون نے لکھے تھے۔ یہ فلم 1950ء میں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی اور ہر اعتبار سے ایک قابل دید اور یادگار فلم تھی۔ دلیپ کمار اور کامنی کوشل کی جدائی کی افواہوں نے اس کی کشش میں کچھ اور اضافہ کر دیا تھا پھر جان بوجھ کر یا انجانے میں عصمت چغتائی نے ایک ایسی کہانی تخلیق کی تھی جو ان دونوں فنکاروں کی حقیقی زندگی کی عکاس تھی۔ فلم کے رومانی اور المیہ مناظر میں دلیپ کمار اور کامنی کوشل نے اتنی اچھی اداکاری کی تھی کہ اس پر حقیقت کا گمان گزرتا تھا۔

’’آرزو‘‘ اپنی موسیقی کے اعتبار سے بھی ایک ممتاز فلم تھی۔ یوں تو اس کے سبھی گانے ہٹ ہوئے تھے مگر مجروح سلطان پوری کا تحریر کردہ اور طلعت محمود کا گایا ہوا یہ ایک نغمہ گلی گلی گایا جاتا تھا۔ اس کے بول تھے۔

اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو

اپنا پرایا مہرباں نا مہرباں کوئی نہ ہو

کچھ اور نغمات بھی بہت اچھے اور دل پر اثر کرنے والے تھے۔ مثلاً

کہاں تک تک ہم اٹھائیں غم جئیں بھی یا کہ مر جائیں

ارے ظالم زمانے تو بتا دے ہم کدھر جائیں

یہ گیت مجروح سلطان پوری نے لکھا تھا اور لتاکی آواز میں صدا بند کیا گیا تھا۔

انہیں ہم جو دل سے بھلانے لگے

وہ کچھ اور بھی یاد آنے لگے (مجروح سلطان پوری)

ایک سیچویشن پر دلیپ کمار، کامنی کوشل کو سنانے کے لئے بظاہر اس کی نند کے سامنے یہ گیت گاتے ہیں۔

اپنے پہلو میں سمجھتا تھا کہ دل رکھتی ہے تو

دل نہیں سینے میں ایک پتھر کی سل رکھتی ہے تو (شاعر۔ جاں نثار اختر)

ہمیں مار چلا یہ خیال یہ غم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے (مجروح سلطان پوری)

’’آرزو‘‘ کی کہانی کے بارے میں ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں۔ مختصراً یہ ایک رومانوی کہانی تھی۔ دلیپ کمار اور کامنی کوشل ایک گاؤں میں رہتے ہیں اور بچپن ہی سے ایک دوسرے کو چاہتے ہیں مگر دلیپ کوئی کام نہیں کرتے۔ جب کامنی کوشل کہتی ہے کہ شہر جا کر کام کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم سے جدا ہونے کی ہمت نہیں ہے۔ آخر ایک دن وہ بتاتی ہے کہ میرے رشتے آرہے ہیں۔ میں ہمیشہ تمہارے انتظارمیں کنواری تو نہیں بیٹھی رہوں گی۔ اگر کماؤ گے نہیں تو میں کسی اور کی ہو جاؤں گی۔ غرضیکہ دلیپ کو بہت برا بھلا کہہ کر اور سمجھا بجھا کر شہر جانے پر آمادہ کرتی ہے۔ وہ دل پر پتھر رکھ کر جانے کو تیار ہو جاتا ہے۔ ایک جھونپڑی میں رات گزارنے کے لئے رکتا ہے مگر پھر کٹیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ کٹیا میں آگ لگ جاتی ہے۔ صبح لوگ ایک جلی بھنی لاش دیکھتے ہیں تو اسے دلیپ کمار کی لاش سمجھتے ہیں۔ کامنی کوشل پر غم سے سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔ کافی عرصے تک سوگواری کے عالم میں زندگی گزارتی ہے پھر مجبوراً اس کی شادی ایک زمیندار سے کر دی جاتی ہے جس کی حویلی میں وہ اور دلیپ کمار ایک بار گئے تھے اور کامنی اس کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئی تھی۔ دلیپ نے اس کو طعنہ دیا تھا کہ پھر ایسی ہی حویلی کے مالک سے شادی کر لے۔ اتفاق سے کامنی کی اسی زمیندار سے شادی ہو جاتی ہے۔ وہ بڑی عمر کا آدمی ہے لیکن بیوی سے بہت محبت کرتا ہے۔ اس کی ایک نوجوان بہن بھی ہے۔ کامنی زندہ تو ہے لیکن کھوئی کھوئی اور غمگین رہتی ہے۔ جس کا سبب اس کا شوہر نہیں جان سکتا مگر اس کے لئے بہت پریشان رہتا ہے۔

ادھر دلیپ کمار شہر میں دن رات محنت کرتا ہے اور پیسے جمع کرتا ہے۔ وہ ایک معزز حیثیت بھی حاصل کر لیتا ہے۔ جب کافی رقم اکٹھی ہو جاتی ہے تو وہ خوشی خوشی گاؤں واپس آتا ہے جہاں اس کو کامنی کی شادی کا علم ہوتا ہے۔ اسے سخت غصہ آتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ کامنی کوشل نے دولت کے لالچ میں زمیندار سے شادی کی ہے۔ وہ اس کو بے وفا سمجھ کر اس سے نفرت کرنے لگتا ہے اور اس سے انتقام لینے کی تاک میں رہتا ہے۔

ایک روز اس کی ملاقات کامنی کوشل کے شوہر سے ہوتی ہے جو اس سے بہت متاثر ہوتا ہے اور اس کو اپنے گھر لا کر بیوی اور بہن سے تعارف کراتا ہے۔ کامنی دلیپ کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔ دلیپ بالکل انجان بن کر اس سے ملتا ہے۔ کامنی کی نند دلیپ کمار کو پسند کرنے لگتی ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس گھر میں اس کی آمدورفت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد کے مناظر میں دلیپ کمار بظاہر کامنی کی نند سے محبت کی باتیں کرتا ہے لیکن درحقیقت کامنی سے مخاطب ہے۔ وہ اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ ایک جوان شخص کا یوں ہمارے گھر آنا مناسب نہیں ہے۔ ہمارے گھر میں ایک جوان لڑکی بھی ہے۔

شوہر کہتا ہے کہ مجھے یہ لڑکا بہت پسند ہے اور میری بہن بھی اسے پسند کرتی ہے۔ کیا حرج ہے اگر ان دونوں کی شادی ہو جائے۔ اس طرح دلیپ کو گھر میں آنے کی کھلی چھٹی مل جاتی ہے۔ کامنی کی نند سمجھتی ہے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ ایک دن کامنی کوشل اس سے کہتی ہے کہ وہ تجھے دھوکا دے رہا ہے۔ اس کی باتوں میں نہ آنا مگر نند کو یقین نہیں آتا۔

دلیپ کمار کامنی کوشل کو ذہنی اذیت پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ وہ عجیب کشمکش میں مبتلا ہے اور ایک نفسیاتی مریضہ بن چکی ہے۔ اس طرح یہ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ فلم کا انجام المناک ہے۔ دلیپ کمار کو بعد میں اصلیت کا علم ہوتا ہے مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہے۔

’’آرزو‘‘ دیکھنے والوں پر ایک دیرپا تاثر چھوڑتی تھی۔ جب ہم یہ فلم دیکھ کر سینما سے باہر نکلے تو کئی دن تک اسی کے حصار میں گرفتار رہے۔

عصمت چغتائی اور شاہد لطیف اب فلمی دنیا کے بڑے نام تھے۔ انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے ذاتی فلم ساز ادارہ ’’فلم آرٹس‘‘ قائم کر لیا اور اس کے بینر تلے فلم ’’بزدل‘‘ بنانے کا اعلان کر دیا۔ اس کی کہانی اور مکالمے عصمت چغتائی نے لکھے تھے۔ ہدایت کار شاہد لطیف تھے۔ نمی اور پریم ناتھ اس میں مرکزی رومانی کردار تھے مگر فلم کا سب سے اہم کردار کشور ساھو کو سونپا گیا تھا اور انہوں نے یہ الجھا ہوا نفسیاتی کردار نہایت خوبصورتی سے ادا کیا تھا۔ یہ ایک زمیندار کا کردار تھا جو پریم ناتھ کا بڑا بھائی تھا اور بھائی سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ وہ ایک نیک اور انتہائی ہمدرد شخص مشہور تھا جس نے شادی نہیں کی تھی اور تجرد کی زندگی گزار رہا تھا۔

لیکن وہ پریم ناتھ اور نمی کے درمیان میں دیوار بن کر حائل ہو گیا۔ اس کو نمی پسند آ گئی تھی اور وہ اس کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔ نمی اس کی مہربانیوں کو پہلے بڑے بھائی اور ایک دنیا ترک کر دینے والے انسان کی محبت سمجھتی رہی مگر کشور سادھو اس کی محبت میں سب کچھ بھول بیٹھا اور نمی پر یہ ظاہر ہو گیا کہ اس کے ارادے کیا ہیں۔ چھوٹا بھائی اس کو دیوتا کا درجہ دیتا تھا۔ دوسرے لوگ بھی اس کو دیوتا ہی سمجھتے تھے مگر نمی کو معلوم ہو چکا تھا کہ دراصل وہ شیطان ہے جو کہ دیوتا کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ کشور ساھو پریم ناتھ اور نمی کے مابین فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا تاکہ اسے نمی کا قرب حاصل ہو سکے۔ جب نمی نے تنگ آ کر دبے لفظوں میں کچھ کہنا چاہا تو پریم ناتھ نے اسے ڈانٹ دیا اور اس سے ناراض ہو گیا کہ وہ ایک اوتار اور دیوتا کے بارے میں کس قدر پست خیالات رکھتی ہے۔

یہ ساری کہانی تین کرداروں کی کشمکش کی داستان ہے۔ عصمت چغتائی نے ایک مشکل اور غیر روایتی کہانی کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا تھا۔ کشور سادھو بذاتِ خود ایک ہدایت کار اور بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذہین انسان تھے۔ انہوں نے فلموں میں اداکاری بھی کی تھی مگر بہت کم۔ ’’بزدل‘‘ کا کردار انہوں نے اس خوبی سے نبھایا تھا کہ اس پر اصلیت کا گمان ہوتا تھا اور یہ ان کی دہری شخصیت کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ جس شخص کو لوگ دیوتا سمجھ کر پوجتے ہیں وہ ایک لڑکی کی خاطر (جو کہ اس کے چھوٹے بھائی کی محبوبہ بھی تھی) ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گیا ہے مگر اس نے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھا ہے۔ ایک طرف تو وہ پریم ناتھ کو نمی سے دور کرنا چاہتا تھا مگر دوسری طرف وہ چھوٹے بھائی سے بے پناہ پیار بھی کرتا تھا اور اس کی معمولی تکلیف دیکھ کر بھی پریشان ہو جاتا تھا۔ یہ ایک نفسیاتی کردار تھا جو کہ بھارتی فلموں میں کبھی پیش نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ انصاف کرنا بہت مشکل تھا مگر کشور ساھو، عصمت چغتائی اور شاہد لطیف نے اسے ایک سچ مچ کا جیتا جاگتا کردار بنا دیا تھا۔

اس فلم کے موسیقار ایس ڈی برمن تھے۔ کیفی اعظمی اور شیلندر نے نغمات لکھے تھے جو کہ مشکل سیچویشنز کے عین مطابق تھے۔ اس کے سبھی گانے ہٹ ہوئے تھے۔ یہ ایک انتہائی مشکل اور الجھا ہوا موضوع تھا۔

ہندوستانی اسکرین کے لئے یہ ایک انوکھا اور چونکا دینے والا تجربہ بھی تھا جس میں ایک شخص کی انسانی جبلت، خواہشات اور جذبات کو بہت عمدگی سے پیش کیا گیا تھا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ