اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 28

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 28
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 28

  

ہند کا بادشاہ غیاث الدین تغلق حضرت نظام الدین اولیاؒ سے پرخاش رکھتا تھا۔ اس عقل کے اندھے بادشاہ نے بنگال کی جنگ پر روانہ ہوتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیاؒ کو حکم بھجوایا ۔ ’’ نظام الدینؒ ! میرے بنگال سے لوٹنے سے پہلے تیری بہتری اسی میں ہے کو تو دہلی چھوڑ دے ۔ ورنہ تجھے ایسی سزا دوں گا کہ ہندوستان کے لوگ قیامت تک یاد رکھیں گے۔‘‘ 

حضرتؒ نے بادشاہ کا حکم نامہ پڑھ کر اُس کی پشت پر لکھا۔ ’’ ہنوزدلی دوراست (ابھی دلی دور ہے) 

بنگال کی بغاوت کچلنے کے بعد غیاث الدین تغلق واپس لٹا تو وہلی میں فتح کا جشن منانے کے لیے جو نا خاں نے جمنا کے کنارے ایک محل تعمیر کروایا۔ جوں جوں بادشاہ دہلی کے قریب آرہا تھا حضرت کے مریدوں کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ مگر آپؒ مسکرا کر بار بار یہی کہتے رہے ’’ ہنوز دلی دوراست‘‘۔ 

غیاث الدین تغلق جشن میں شرکت کے لیے محل میں داخل ہوا ہی تھا کہ اچانک پورا محل دھڑام سے گر پڑا۔ بادشاہ اور اس کے ساتھی ملبے میں دب کر مرگئے۔ 

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 27 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ایک دفعہ رات کے وقت حضرت احمد حضرویہؒ کے ہاں چور آگیا۔ چور کو گھر میں کوئی شے نہ ملی۔ جب وہ خالی ہاتھ جانے لگا تو آپؒ نے فرمایا:

’’ میرے ساتھ رات بھر عبادت کرو اور اس عبادت کا جو کچھ صلہ مجھ کو ملے گا وہ میں تمہیں عطا کر دوں گا‘‘ 

چنانچہ وہ چور رات بھر آپ کے ہمراہ عبادت کرتا رہا اور صبح کو جب کسی دولت مند نے بطور نذرانہ سو دینار بھیجے تو آپ نے وہ سارے دینار چور کو دیتے ہوئے فرمایا: 

’’ یہ تو صرف ایک شب کی عبادت کا معاوضہ ہے۔ ‘‘ یہ سن کرچور نے کہا۔ ’’ لعنت ہے میری زندگی پر میں نے آج تک اُس خدا کو فراموش کیے رکھا جس کی ایک رات عبادت کرنے کا صلہ یہ ملتا ہے‘‘پھر اس چور نے ہمیشہ کے لیے توبہ کی اور آپ کے ارادت مندوں میں شامل ہوگیا۔ 

***

ابو الحسن سراجؒ کہتے ہیں کہ میں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے اپنے گھر سے چلا۔ راستہ میں ایک خوب صورت عورت جس کے حسن و جمال نے ایک عالم کو روشن کیا ہوا تھا نظر پڑی۔ ’’ خدا کی قسم آج تک کہیں ایسی حسین و جمیل عورت نظر نہیں آئی ، شاید یہ حسن و جمال بے فکری کی وجہ سے ہے۔ ‘‘میری یہ بات اُس عورت نے سن لی اور بولی۔ ’’ اے مرد! تونے یہ کیا کہا ۔ خدا کی قسم میں غموں سے جکڑی ہوئی ہوں۔ دل فکروں سے زخمی ہے۔ اس غم میں میرا کوئی شریک نہیں۔ ‘‘ 

میں نے پوچھا : ’’ وہ غم کیا ہے؟‘‘ 

اس نے بتایا ’’میرے شوہر نے ایک بکری قربانی کی ذبح کی۔ اس وقت میرے دو چھوٹے لڑکے آپس میں کھیل رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ شیر خوار میری گود میں تھا۔ میں کھانا پکانے اُٹھی۔ بڑے لڑکے نے چھوٹے سے کہا۔ ’’ آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ ہمارے باپ نے بکری کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ ‘‘چھوٹے نے کہا ۔’’ ضرور بتاؤ۔‘‘ 

اس پر بڑے لڑکے نے چھوٹے لڑکے کو پچھاڑ کر ذبح کر ڈالا اور خود پہاڑ پر بھاگ گیا۔ وہاں اس کو بھیڑیئے نے پھاڑ ڈالا۔ اس کا باپ اس کی تلاش میں گیا ، وہ شد پیاس سے مرگیا۔ چھوٹے بچے کو چولہے کے پاس چھوڑ کر میں دروازے تک گئی کہ دیکھوں وہ کہاں گیا ہے، ہانڈی چولہے پر تھی ، چھوٹے بچے نے گرم ہانڈی اپنے اوپر انڈیل لی اور وہ بھی جل کر مر گیا۔ یہ خبر میری بڑی لڑکی کو جو اپنے شوہر کے پاس تھی پہنچی ، وہ سنتے ہی پچھاڑ کھا کر زمین گری اور مر گئی ۔ زمانے نے مجھے تنہا کر کے چھوڑ دیا۔‘‘ 

پھر میں نے اس سے پوچھا ۔ ’’ تو ان بڑی مصیبتوں پر کیسے صبر کرتے ہے۔ ‘‘ 

اس نے جواب دیا ۔ ’’ کوئی ایسا نہیں جو صبر اور گھبراہٹ میں فرق محسوس کرے اور اس کو ان دونوں کے درمیان راہ نہ مل جائے۔ صبر کا انجام نیک ہے او رگھرانے والے کو کچھ عوض نہیں ملتا ۔‘‘ 

یہ کہہ کر وہ عورت چلی گئی ۔ 

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے