تھر میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ ماؤں کی کم عمری میں شادیاں اور حاملہ خواتین کی قبل از وقت زچگی ہے: ڈاکٹر ثمرینہ ہاشی

تھر میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ ماؤں کی کم عمری میں شادیاں اور حاملہ خواتین ...
تھر میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ ماؤں کی کم عمری میں شادیاں اور حاملہ خواتین کی قبل از وقت زچگی ہے: ڈاکٹر ثمرینہ ہاشی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عمرکوٹ (سید ریحان شبیر )معروف گائنالوجسٹ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نےکہا ہےکہ تھر میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ خواتین میں غذائی قلت کم عمر میں شادیاں اور قبل از وقت حاملہ خواتین کی زچگی کا ہونا بچوں کی  پیدائش میں وقفہ کےنہ ہونا بڑی وجوہات  ہے معروف گائنالوجسٹ ڈاکٹر ثمرینہ  نے دو روزہ میڈیکل کیمپ میں دس "10"خواتین کے مختلف میجر آپریشن کیے ۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن " SDA"لندن کے تعاون سے پارس میڑنیٹی اسپتال اینڈ نیو بورن کئیر سینٹر عمرکوٹ میں خواتین کی مخصوص بیماریوں سے متعلق   دو روزہ مفت میڈیکل کیمپ لگایا گیا اس میڈیکل کیمپ میں کراچی کی معروف گائنالوجسٹ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کی قیادت میں خواتین مریضوں کا معائنہ کیا گائنالوجسٹ سرجن  ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے "نمائندہ ڈیلی پاکستان آن لائن "سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا عوام کے گھروں کے نزدیک صحت کے بنیادی مراکز کا ہونا ضروری ہے تاکہ بروقت ضرورت ماں اور بچے کو صحت کی سہولیات فوری مل سکیں ۔

ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں تھر وغیرہ میں خواتین کو غذائی قلت خون کی کمی کا سامنا ہے  اور تھر میں بچوں کی اموات کی چند بڑی وجوہات میں حاملہ خواتین کی قبل از وقت زچگی کا عمل  خواتین میں خون کی شدید کمی غذائی قلت کی   وجہ سے کمزور بچے پیدا ہوتے ہیں کمزور   بچے میں بیماری سے بچنے کی قوت نہیں ہوتی جس کے باعث بچے پر نمونیا اور سینے کے انفیکشن حملہ آور ہوجاتے ہیں جو بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نےکہا کہ ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کم عمر میں شادیاں ضرورت سے زیادہ بچوں کی پیدائش میں وقفے کا نہ ہونا خواتین اور بچوں میں بڑھتے ہوئے امراض کا بنیادی سبب ہے اس کے علاوہ صحت کے مراکز میں عملے کا غیر تربیت یافتہ ہونا صحت کے مراکز میں بنیادی سہولیات کا نہ ہونا وغیرہ شامل  ہے ۔

ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے  بتایا کہ ہم نے اس دوروزہ میڈیکل کیمپ میں دس "10"کےقریب خواتین کی مخصوص  بیماریوں کے میجر آپریشن کیے ہیں یہ آپریشن کراچی یا حیدرآباد میں ہی ہوسکتے تھے لیکن انہیں خوشی ہےکہ عمرکوٹ پارس میڑنیٹی اسپتال میں تمام جدید سہولیات موجود ہے ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نےکہا کہ حکومت کوتھر میں بچوں کی اموات کے واقعات کی روک تھام اور خواتین میں بچوں کی پیدائش میں وقفے کے حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہوگی حکومت کو تھر سمیت پسماندہ علاقوں میں غذائی قلت کے خاتمے مستقل  ٹھوس بنیادوں پر اقدامات لینا ہونگے ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کےلیے عملی اقدامات حکومت کو لینا ہونگےاور سب سے بڑھ کرحکومت کو پسماندہ علاقوں میں صحت کے  مراکز میں اسکل ڈیویلپمنٹ فیکٹر پر خصوصی توجہ دینا  ہوگی ۔

اس سے قبل پارس میڑنیٹی اسپتال نیو بورن کئیر کے ایڈمنسٹریٹر اقبال میمن نے میڈیا کو بتایا کہ پارس میڑنیٹی اسپتال نیو بورن کئیر کو کئیر رلیف فاونڈیشن یوکے اور سندھ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن لندن کی سرپرستی حاصل ہے ہم انسانیت غریبوں کی اللہ تعالی کی رضا خاطر کام کررہے ہیں ہم میڈم ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی اور ان کی ٹیم کے خصوصی شکرگزار ہے جو کراچی سے غریب خواتین کےلیے آئی اور آپریشن کیے  اور خواتین مریضوں کا چیک اپ کیا اقبال میمن نےکہا کچھ عناصر کو ہماری خدمت کا یہ جذبہ پسند نہیں مگر ہم معاشرے کے غریب لوگوں خصوصاً خواتین کے صحت "ماں اور بچے "کے صحت کے حوالے سے کام کرتے رہے گئے۔

مزید : علاقائی /سندھ /عمرکوٹ