منرل واٹراورمشروبات بنانے والی کمپنیاں پانی کی قیمت اداکرنے پرآمادہ ہو گئیں

منرل واٹراورمشروبات بنانے والی کمپنیاں پانی کی قیمت اداکرنے پرآمادہ ہو گئیں
منرل واٹراورمشروبات بنانے والی کمپنیاں پانی کی قیمت اداکرنے پرآمادہ ہو گئیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں منرل واٹرکمپنیوں سے متعلق کیس میں منرل واٹراورمشروبات بنانے والی کمپنیاں پانی کی قیمت اداکرنے پرآمادہ ہو گئیں۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وصول کی جانے والی قیمت آبی ذخائرکی بہتری میں استعمال ہوگی،اعتزازاحسن اورتمام وکلاکامشکورہوں،ملک کیلئے بڑاکام کردیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے زیرزمین پانی کے استعمال اور منرل واٹرکمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔وقفے کے بعدسماعت کے دوران منرل واٹر کمپنی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ میں پگھل گیاہوں،قیمت دینے پرتیار ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دلوں میں پاکستان کیلئے محبت پیداکردی۔

عدالت نے کہا کہ وصول کی جانے والی قیمت آبی ذخائرکی بہتری میں استعمال ہوگی،یہ حکمنامہ پورے ملک پرنافذ العمل ہوگا،اس حوالے سے حکومت کوقانون سازی بھی کرنی پڑتی ہے توکرے،،چاروں صوبے پانی کی قیمتوں کے حوالے سے پالیسی بنائیں اورایک ہفتے میں رپورٹ پیش کریں،عدالت نے سماعت 10 روز کیلئے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ آج صبح چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ میں عوام سے کہتا ہوں نلکوں کا پانی پیئیں، دیہات میں آج بھی سادہ پانی پیتے ہیں یہ نخرے شہریوں کے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کمپنیاں کام کرنا چاہتی ہیں تو ایک روپیہ فی لیٹر حکومت کو دیں جس پر اعتزاز احسن کے وکیل نے کہاکہ ہم پچاس پیسے فی لیٹر دے سکتے ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد