وفائیں  امتحان  لیتی  ہیں

وفائیں  امتحان  لیتی  ہیں
وفائیں  امتحان  لیتی  ہیں

  

کیا نیا  ،کیا پرانا- یہ نیا پرانا ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ رہا ہے- میرے تئیں تو ہمیں نعرہ بدلنا ہوگا اور وہ نعرہ ہونا چاہیئے "میرا تیرا ایک پاکستان"- پاکستان سے محبتیں اور ہماری وفائیں امتحان لے رہی ہیں- وہ وفائیں تقاضا کرتی ہیں  کہ  ہر ایک پاکستانی  اور اس کا ایک پاکستان ہی ہماری بقا ہے – یکجہتی اور اخوت ہی میں وہ راز مضمر ہے جو انا کے بت کو پاش پاش کرکے وطن سے عقیدتوں کے دیے جلاتا ہے- روز سوشل میڈیا پہ چلتی ہوئیں  مہمات ہمیں خودغرض بنا رہی ہیں-ہم میں دیواریں اٹھا رہی ہیں   اور ایک قوم کے تصور کی پشت میں خنجرگھونپ رہی ہیں – ایک موقع ایک  چانس اسے بھی  خندہ پیشانی سے دو  جو کہتا ہے کہ " انشااللہ  میں نکالوں گا اس پاکستان کو مشکلات سے"- ایک معمولی سے حاصل پارلیمانی برتری میں اسے بوڑھوں کی دعائیں، جوانوں کے دست و بازو اور بچوں کے روشن مستقبل  کے لئے مل جل کر کی جانے والی کوششیں چاہئیں اور ہر ایک کے لبوں پہ ایک ہی صدا ہونی چاہیئے کہ ایک دوسرے کو الزام مت دو اور الفتوں میں بندھ جاؤ- اگر تو  مدد کے لئے پکارنے والے نے اپنے لئے کچھ لیا ہے یا کوئی ایسا معاہدہ کیا ہے کہ اس  کا اور اس کے ساتھیوں کا  مال پانی بن رہا ہے تو آؤ سب مل کے  اس کے خلاف ایک آواز اٹھاتے ہیں  لیکن اگر اس وقت  کا لیا جانے والا قرض  نا گزیر اور پاکستان کو چلانے کے لئے ہے تو مشکل وقت میں الزام تراشی ، طعنہ زنی اور نفرتوں کے خطابات سے دور بہت دور ہوکے سچے دل کے لئے خدارا پاکستان کے لئے اپنے بچوں کے لئے سوچیئے- 

سیاسی جماعتوں کی وابستگی میں ایک دوسرے پہ چلائے گئے تیر دلوں کو چھید ضرور رہے ہیں لیکن کسی طور بھی مرہم کا کام نہیں کر رہے ہیں-معاشی بدحالی سنگین سے سنگین ہوئی جاتی ہے-بڑھتی مہنگائی اور کانپتے ہاتھوں سے دور ہوتی ہوئی روٹی باہمی اتحاد کے لئے بانہیں وا کئے ہوئے ہے کہ اسی میں برکت ہے اور دشوار حالات سے نبرد آزما ہونے کی کنجی بھی  اسی کی تہوں میں پوشیدہ ہے- قرضوں کا بوجھ مزید نو سو ارب تک بڑھ گیا ہے- ملک کو چلانے کے لئے اٹھائیس ارب ڈالرز کی فوری ضرورت ہے- ملک سے بیرونی کرنسی ڈالرز، پاؤنڈز اور یورو باہر اسمگل ہورہے ہیں تاکہ ملک کی ٹوٹتی کمر پہ اور کاری وار کیا جاسکے- اسلام آباد سے پچھتر ہزار ڈالرز کی تھائی لینڈ  کو پکڑی جانے والی اسمگلنگ اسی کا ایک حصہ ہے- پاکستان کا کاروباری طبقہ محتاط ہوا ہر قسم کی سرمایہ کاری روکے ہوئے ہے- جس سے کاروباری سرگرمیاں سست اور مارکیٹ میں مندی ہے- تاجر پریشان ، بڑھتے ہوئے ٹیکس اور ہوتی ہوئی محکمانہ کاروائیوں سے مغموم بھی ہیں  – انہیں بھی حوصلہ دینے کی ضرورت ہے- ان  کو اعتماد میں لیا جانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ دوسرے کاروباری حکومتی امور –

 وزیر اعظم صاحب نے سو دن کا پروگرام دیا تھا لیکن موجودہ حالات میں جب سب کچھ دگرگوں ہے تو بلا وجہ کی تنقید اور انگشت طرازی معاملات کو اور الجھاؤ دے رہی ہے- جس سے مایوسی پھیل رہی ہے اور  گومگوں کی کیفیت  پیدا ہو رہی ہے- حکومت کے لئے سمت کا درست تعین ،وفاقی و صوبائی چیمبر ز آف کامرس کے عہدے داروں کے ساتھ ساتھ بڑے صنعت کاروں سے یہ  مل بیٹھنے وقت ہے تاکہ کوئی مربوط پالیسی بنائی جائے – سرمایہ دار اور صنعت کار کی بڑھائی ہمت ہی انشا اللہ کو ئی کامیابی کی راہ کھولے گی- وزیر اعظم ، وزیر خزانہ ، سیکریٹری  خزانہ ، وزیر تجارت اور ایف بی آر کے نمائندوں  کواس طبقے سے بیٹھ کر ان کی شکایات سننی چاہیئں  اور اپنی بات سنانی چاہیئے کہ آپس میں اعتماد کی فضا بحال ہو – یہ سب ملکی کاروبار کو بھی ایک سمت دے گا اور ترقی کا پہیہ بھی گھومے گا- پاکستان عالمی سطح پہ جس تنہائی اور  دباؤ کا شکار ہے  اس سے مل بیٹھ کے ہی نبٹا جا سکتا ہے نہ کہ ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونا اس کا حل ہے- مہنگائی ، دہشت گردی، پانی کا بحران، زراعت کے شعبے میں تباہی  کا حل ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے  بغیر ممکن نہیں- ملک کی اقتصادی تاریخ میں اس معاشی افراتفری کی کوئی دوسری مثال ڈھونڈنا  بہت مشکل ہے۔ ایسے گھمبیر  حالات سے شاید  ہم پہلی دفعہ روشناس ہوئے ہیں کہ ہمیں کوڑی کوڑی کا محتاج  کیا جا رہا ہے- اس صورت حال کا علم حکومت کو اقتدار میں آنے کے بعد ہوا اور یہی موجودہ ابتری کا  بھی اصل سبب ہے۔ شاید حکومت کا پہلے سے تیار کردہ لائحہ عمل اور اس معاشی پراگندی  سے نمبٹنے کے لئے  تیاری  میں  بہت سے خلا موجود تھے جن کو آپس میں باندھا نہیں گیا تھا- اقتدار  میں آنے سے پہلےخوش گمانیوں کے سبب قوم سے اتنے بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے جن کی تکمیل کے ابھی بھی  دور دور تک کوئی آثار  دکھائی نہیں دیتے ۔نئی حکومت کے پچاس دنوں کے اقدامات سے پتا چلتا ہے کہ وہ بعض دوست ملکوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے مالی تعاون کی  بہت ہی زیادہ امید لگائے بیٹھی تھی لیکن اب جب کہ  اس  طرف  کی جانے والی کوششوں کے کم از کم فوری طور پر کچھ زیادہ حوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں آ رہے تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ  کرنا بھی  کچھ آسان نہیں تھا - 

ماہرین معاشیات مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی پر جلد قابو نہ پایا گیا تو شدید معاشی ابتری رونما ہوگی مگرحکومتی حلقوں پر کئی ہفتے اس حوالے سے تذبذب کی کیفیت ہی  طاری رہی- اب جب کہ  وزیرِ خزانہ انڈونیشیا میں ہیں اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کو  تیار ہو رہے ہیں تو ایسے میں اگر ملک سے روانہ ہونے سے پہلے قوم کو اعتماد میں لے لیا جاتا تو بہتر تھا- ملک میں دو  سو بائیس کمپنیاں ایسی ہیں کہ  جن کے ذمہ قرض ہے اور ایسے ہی بہت سے اور بھی بااثر افراد ہیں جنہوں نے قرضہ معاف کروایا ہوا ہے ان کے خلاف فوری  موثر کاروائی کے بغیر اس دلدل سے نکلنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے- ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین  ہونی چاہیئے کہ یہ ابتری  پچاس دن کی وجہ سے نہیں ہے – اس کے پیچھے کئی سالوں کی کرپشن اور  منی لانڈرنگ ہے جس کے لئے ہم ایف اے ٹی ایف سے  محوِ بحث ہیں- اس وقت کیچڑ اچھالنے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم مل بیٹھ کے سلجھاؤ  کے لئے ریاست ِپاکستان کا ہاتھ بٹائیں کیونکہ وفائیں امتحان لیتی ہیں-                                                                

 ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ