نائیک صاحب!پارٹی کے لوگوں کوبتائیں جج کسی سے ملے نہیں ہوتے،منصف متعصب نہیں ہوتے،چیف جسٹس پاکستان کے این آر او کیس میں ریمارکس

نائیک صاحب!پارٹی کے لوگوں کوبتائیں جج کسی سے ملے نہیں ہوتے،منصف متعصب نہیں ...
نائیک صاحب!پارٹی کے لوگوں کوبتائیں جج کسی سے ملے نہیں ہوتے،منصف متعصب نہیں ہوتے،چیف جسٹس پاکستان کے این آر او کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں این آر او کیس سابق صدر آصف زرداری نے اپنے بچوں کے اثاثوں کی تفصیل جمع کرا دی، عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نائیک صاحب!پارٹی کے لوگوں کوبتائیں جج کسی سے ملے نہیں ہوتے،منصف متعصب نہیں ہوتے،اس ادارے کوطاقتور ہونے دیں،یہی آپ کامسیحابنے گا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ میں این آراوکے ذریعے ملکی خزانے کواربوں روپے نقصان کامعاملے کی سماعت کی،پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اپنے اوربچوں کے اثاثوں کی تفصیل جمع کرادی،سپریم کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پردلائل طلب کرلئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نائیک صاحب!پارٹی کے لوگوں کوبتائیں جج کسی سے ملے نہیں ہوتے،منصف متعصب نہیں ہوتے،اس ادارے کوطاقتور ہونے دیں،یہی آپ کامسیحابنے گا،فاروق ایچ نائیک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سر اپنی پارٹی کے لوگوں کوسمجھاتاہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ جب این آراوختم ہوگیاتواس کاکیانتیجہ نکلناچاہئے تھا؟،درخواستگزار نے کہا کہ نتیجہ یہی نکلناتھاریفرنسز دائرہو جاتے،لندن میں ایک سفارتکارسوئس عدالتوں کی دستاویزاٹھاکرلے گیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد