دوا لیتے ہوئے چکوترہ بالکل نہ کھائیں۔۔۔ دوائی اور چکوترے کا وہ تشویشناک تعلق جو سب کو پتہ ہونا چاہیے

دوا لیتے ہوئے چکوترہ بالکل نہ کھائیں۔۔۔ دوائی اور چکوترے کا وہ تشویشناک تعلق ...
دوا لیتے ہوئے چکوترہ بالکل نہ کھائیں۔۔۔ دوائی اور چکوترے کا وہ تشویشناک تعلق جو سب کو پتہ ہونا چاہیے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جسم میں کولیسٹرول کا لیول کم کرنے کے لیے سٹیٹنز (Statins)نامی دوا دی جاتی ہے لیکن اب ایک فزیشن اور ماہر غذائیات نے اس کے استعمال کے متعلق ایک تنبیہ کر دی ہے جو ہر شخص کو معلوم ہونی چاہیے۔ میل آن لائن کے مطابق ڈاکٹر سارا بریور نے کہا ہے کہ سٹیٹنز کو کبھی بھی چکوترے کے جوس کے ساتھ استعمال نہیں کرنا چاہیے ورنہ اس کے نتائج خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔چکوترے کے جوس میں ایک اجزاءہوتے ہیں جو اس دوا کے جزو بدن بننے کے طریقے کے خلاف کام کرتے ہیں۔“

ڈاکٹر سارا کا مزید کہنا تھا کہ ”سٹیٹنز ہی نہیں بلکہ 53ایسی ادویات ہیں جو چکوترے کے جوس کے ساتھ نہیں کھانی چاہئیں۔ان ادویات میں کینسر اور انفیکشن کی ادویات، دل اور خون کی وریدوں کی بیماریوں سے متعلق اور ڈپریشن اور اعصابی نظام کی بیماریوں سے متعلق ادویات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یورینری ٹریکٹ کی میڈیسنز، جنسی قوت کی گولی ویاگرا ، متلی کی دوا ڈومپیریڈن اور دیگر ادویات اور سپلیمنٹس بھی ان دوائیوں میں شامل ہیں جو چکوترے کے جوس کے ساتھ کبھی نہیں لینی چاہئیں۔“

ڈاکٹر سارہ کا کہنا تھا کہ”چکوترے کا جوس ادویات اور سپلیمنٹس کے جزو بدن بننے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس سے بلڈ لیول میں بہت زیادہ اضافہ ہونے کا امکان ہوتا ہے جس سے آدمی کے منہ اور ناک وغیرہ سے خون بہنا شروع ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص لوواسٹیٹن کی ایک گولی، ایک گلاس چکوترے کے جوس کے ساتھ لیتا ہے تو اس کا بلڈ لیول اتنا بڑھ جائے گا جتنا لووا سٹیٹن کی 12گولیاں پانی کے ساتھ کھانے سے بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ یہ انسان کے صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سپلیمنٹس اور ادویات کو چائے اور کافی کے ساتھ لینا بھی مضرصحت ہے کیونکہ اس سے بھی بلڈلیول زیادہ بڑھ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔“

مزید : تعلیم و صحت