برطانیہ میں مہنگی دکان پر کروڑوں خرچ کرنے والی عورت قانون کی گرفتار میں، اب کوئی بھی کرپٹ بندہ برطانیہ عیاشی نہیں کرسکے گا۔۔۔ جان کر پاکستانی عوام خوش ہوجائیں گے

برطانیہ میں مہنگی دکان پر کروڑوں خرچ کرنے والی عورت قانون کی گرفتار میں، اب ...
برطانیہ میں مہنگی دکان پر کروڑوں خرچ کرنے والی عورت قانون کی گرفتار میں، اب کوئی بھی کرپٹ بندہ برطانیہ عیاشی نہیں کرسکے گا۔۔۔ جان کر پاکستانی عوام خوش ہوجائیں گے

  

لندن(نیوز ڈیسک) غریب ملکوں کے عوام اپنے اُن کرپٹ حکمرانوں کا کچھ نہیں کر سکتے جو اُن کی دولت لوٹ کر بیرون ملک جا کر عیاشی کرتے ہیں، لیکن اگر غیرت جاگ جائے تو وہ ملک تو کچھ کر سکتے ہیں جہاں کرپشن کا مال لٹایا جاتا ہے۔ برطانیہ میں کچھ ایسا ہی ہوا ہے، اس ملک کی غیرت جاگ گئی ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی عوام کا پیسہ لوٹ کر برطانیہ میں عیش و عشرت کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہو گی۔

برطانیہ کے نئے قانون "Unexplained Wealth Order" کا پہلا نشانہ آذربائیجان کے ایک سابق اعلٰی عہدیدار کی اہلیہ بنی ہے جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران لندن کے صرف ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور سے کروڑوں پاﺅنڈ کی خریداری کرچکی ہے۔ یہ تمام رقم، زیورات، مہنگی شراب اور لگژری اشیاءخریدنے پر خرچ کی گئی ہے۔

ضمیرہ حاجیوہ نامی خاتون نے یہ خریداری گزشتہ سالوں کے دوران لندن کے مشہور ہیرڈز ڈیپارٹمنٹل سٹور سے کی۔ اسی سٹور کے قریب ہی اُس نے سوا کروڑ پاﺅنڈ، یعنی تقریباً سوا دو ارب پاکستانی روپے، کا ایک عالیشان گھر بھی خرید رکھا ہے، جبکہ شہر سے باہر ایک گالف کورس بھی اس کی ملکیت ہے جس کی مالیت ایک کروڑ پاﺅنڈ، یعنی تقریباً پونے دو ارب پاکستانی روپے، ہے۔ برطانوی عدالت کی جانب سے 55 سالہ ضمیرہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ وضاحت کرے کہ اتنا پیسا اس کے پاس کہاں سے آیا۔ اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضمیرہ کا خاوند جہانگیر حاجیوہ انٹرنیشنل بینک آف آذربائیجان کا سابق چیئرمین تھا۔ فراڈ اور خرد برد کے الزامات میں دو سال قبل اسے آذربائیجان کی عدالت سے 15 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

برطانیہ میں نئے قانون ”ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر“ کے تحت یہ پہلی کارروائی ہے۔ یہ قانون ان غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کے لئے بنایا گیا ہے جو اپنے ملکوں سے پیسہ لوٹ کر لندن میں بڑے پیمانے پر جائیدادیں خرید رہے ہیں اور عیش و عشرت کی زندگی گزاررہے ہیں۔ اس قانون کے تحت حکام 50ہزار پاﺅنڈ، یعنی تقریباً 88 لاکھ پاکستانی روپے، سے زائد مالیت کی کسی بھی ایسی جائیداد کو اپنی تحویل میں لے سکتے ہیں جس پر شبہ ہو کہ اسے کرپشن کے مال سے بنایا گیا ہے۔ اگر جائیدا دکا مالک یہ وضاحت نہیں کرسکے گا کہ اس کی خریداری کے لئے رقم کہاں سے آئی تو ناصرف جائیداد ضبط ہوجائے گی بلکہ مالک کو قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ