ہراسانی سے متعلق’ می ٹو‘ مہم سے لوگوں کی سوچ تبدیل نہیں ہوگی، سشمیتا

ہراسانی سے متعلق’ می ٹو‘ مہم سے لوگوں کی سوچ تبدیل نہیں ہوگی، سشمیتا
ہراسانی سے متعلق’ می ٹو‘ مہم سے لوگوں کی سوچ تبدیل نہیں ہوگی، سشمیتا

  

ممبئی(وائس آف ایشیا)نامور بالی ووڈ اداکارہ اور سابق ملکہ حسن سشمیتا سین نے کہاہے کہ مجھے نہیں لگتا می ٹو مہم لوگوں کی ذہنیت اور سوچ میں تبدیلی لائے گی۔ان خیالات کا اظہار اداکارہ سشمیتا سین نے ایک بھارتی ویب سائیٹ کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا۔انہوں نے جنسی ہراسانی معاملے اورمی ٹو مہم پر کھل کر اپنی رائے کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تنوشری دتہ کا انٹرویو پڑھا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ تبدیلی می ٹومہم کے بعد نہیں آئی بلکہ یہ تبدیلی آئی اور چلی جائے گی، وہ صحیح ہے، دراصل یہ لوگوں کی سوچ اور ذہنیت ہے جسے تبدیل کرنا ہوگا اس کے بعد ہی اصل تبدیلی آئے گی۔سشمیتا سین نے کہا می ٹو مہم لوگوں کی سوچ میں تبدیلی نہیں لاسکتی۔

بلکہ ہمیں اپنی آنے والی نسل کو ان کے حقوق اورذمہ داریوں سے متعلق آگاہ کرنا ہوگا، انہیں صحیح اور غلط سے متعلق تعلیم دینی ہوگی اس وقت ہی معاشرے کی سوچ تبدیل ہوگی۔سشمیتا سین نے مزید کہا اب وقت آگیا ہے جب ہمیں ہر چیز کومسئلے کے طور پر سمجھنا چھوڑنا ہوگا، یہ تمام انسانوں کا حق ہے کہ وہ وقار کے ساتھ اپنی زندگی جیئیں۔ انہوں نے خواتین کو ہراساں کرنے کے معاملے پر کہا کہ یہ سب صرف فلم انڈسٹری میں نہیں ہورہا بلکہ اب خواتین ہر شعبے میں موجود ہیں اور یہ خواتین کے ساتھ ہر جگہ ہوتا ہے۔ لہذا خواتین کی سالمیت اور ان کی حفاظت ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔

مزید : کلچر