وائٹ واش…… شاہینوں کی کارکردگی؟

وائٹ واش…… شاہینوں کی کارکردگی؟

  



حیرت انگیز طور پر سری لنکا کے نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل جونیئر ٹیم نے عالمی نمبر ون پاکستان کو ٹی20- سیریز میں تینوں میچ ہرا کر وائٹ واش کر دیا۔ گزشتہ روز جو آخری اور تیسرا میچ قذافی سٹیڈیم میں ہوا،اس نے تو حیرتوں کے پہاڑ توڑ دیئے کہ شاہین سینئر اور فارم والے کھلاڑی تھے،جو حریف کی طرف سے147 رنز کا ہدف بھی عبور نہ کر پائے اور13رنز کے خسارے پر اننگ ختم کی۔ان تینوں میچوں میں سری لنکن نے ایک روزہ میچوں کی سیریز ہارنے کے بعد زبردست کم بیک کیا اور نوجوان اتنے جذبے سے کھیلے کہ انہوں نے بیٹنگ،باؤلنگ اور فیلڈنگ میں بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کو مات دی۔سابق کپتان مصباح الحق کی بطور چیف کوچ اور چیف سلیکٹر یہ پہلی سیریز تھی، قذافی سٹیڈیم جیسی ہوم گراؤنڈ میں یہ شکست بھی ایک ریکارڈ بن گئی ہے، ناظرین اور شائقین بہت مایوس ہوئے اور کرکٹ بورڈ کے ساتھ ساتھ کپتان اور چیف کوچ و سلیکٹر پر بھی سوال اٹھا دیئے،بلکہ بعض حضرات کا تو یہ بھی شبہ ہے کہ کہیں کوئی اور گڑ بڑ تو نہیں کہ سری لنکا یہ سیریز جیت کر ٹی20- ورلڈکپ کے لئے کوالیفائی کر گیا۔ماہرین تو اپنی بات کرتے ہیں تاہم حاضرین اور ناظرین کی بھی ایک رائے ہے جو عامر، وہاب اور شاداب کی باؤلنگ پر بھی بات کر رہے ہیں،عامر نے ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تاہم محدود اوور کے ان میچوں میں بھی اس کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے کہ وہ اپنی ابتدائی باؤلنگ والے ردھم میں واپس ہی نہیں آ پا رہا،حسنین نو عمر اور اچھا باؤلرہے اُسے کون گائیڈ کر رہا ہے کہ وہ زیادہ زور لگا کر خود کو حکمت ِ عملی سے دور کر رہا ہے،حالانکہ اسے سوئنگ کی طرف مائل ہونا چاہئے،اب ذرا احمد شہزاد اور عمر اکمل کی بات کریں کہ جن کو طویل وقفہ کے بعد موقع دیا گیا اور انہوں نے مایوس کیا۔یہ ان کے اپنے سوچنے کا بھی مقام ہے کہ وہ میدان سے نکلنا چاہتے ہیں یا سنجیدگی سے کھیل کر پھر سے اپنا مقام بنائیں گے۔یہ تو بہرحال برا ہی کھیلے،لیکن محترم سرفراز احمد، آصف علی اور دوسرے بلے بازوں نے کیا تیر مارا؟ یہاں تو شاہین ٹیم کا فخر،فخر زمان بھی کام نہ آیا اور بابر اعظم بھی جم کر نہ کھیل سکا، کیا نائب کپتانی آڑے آ گئی؟ وہاب ریاض کی بات نہ کریں تو بہتر ہو گا۔جہاں تک اِس سیریز میں سربراہی کا سوال ہے تو سرفراز نے بیٹنگ ہی میں مایوس نہیں کیا،بلکہ کپتانی بھی ”گلی محلے“ والی تھی، اور سیریز کے دوران کسی بھی لمحے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں،پہلے دو میچوں میں باؤلنگ کی تبدیلی گھبراہٹ کا اظہار تھی کہ جب محمد عامر کو دو چوکے پڑے تو اس سے ایک کے بعد دوسرا اوور نہ کرایا،اور ایسا ہی دوسرے باؤلر وں کے ساتھ کیا،اب ان کی کپتانی پر سوال ہیں،آخر کب تک ”پرچی سسٹم“ رہے گا،سرفراز سے اور کتنی سیریز ہروانا ہیں؟بہرحال سری لنکن جونیئر ٹیم کی آمد،سیکیورٹی کے حوالے سے تاجروں کے نقصان اور ٹریفک کی بندش کے ہاتھوں اتنا تو ہو گیا کہ برطانیہ اور آسٹریلیا کے بورڈ بھی مطمئن پائے گئے اور شاید اپنی ٹیمیں بھیج دیں کہ جاؤ جا کر اطمینان سے کھیلو اور پاکستانی شہریوں کے دن خراب کرو۔

مزید : رائے /اداریہ