”مولانا کا مارچ اور سیاسی رویئے“

”مولانا کا مارچ اور سیاسی رویئے“
”مولانا کا مارچ اور سیاسی رویئے“

  



وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ کا تعلق ننکانہ سے ہے اور انہوں نے اپنی عمرِ عزیز سرکاری نوکری میں گزاری اور حساس ادارے میں کافی عرصہ تک اہم حیثیت سے متعین رہے۔یوں وہ بیک وقت دیہی اور حکم ماننے اور جاری کرنے والے مقام پر فائز تھے اور اب ماشاء اللہ قومی اسمبلی کے رکن اور وزیر داخلہ ہیں، امن وامان کی ذمہ داری ان کے کندھے پر ہے، تاہم وہ جب گفتگو کرتے ہیں تو اپنے دونوں مزاج کے حامل الفاظ ہی استعمال کرتے ہیں،ابھی وہ وزیر نہیں بنے تھے کہ انہوں نے چھترول کا ذکر کیا،اب وہ کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اسلام آباد نہیں آ سکتے اور کوئی مائی کا لال اس حکومت کو نہیں گرا سکتا (ویسے حکومت تو وہ بھی نہیں گری تھی،جسے وہ دھرنے والوں کی ہمدردی میں گرانے کے خواہش مند تھے) یاد آیا کہ ایک بات وہ پہلے بھی کہہ چکے کہ جو کرے گا وہ بھرے گا ”جناں کھادیاں گاجراں، اُونہاں دے ڈِھڈ وچ پیڑ“(جو گاجر کھاتے ہیں، درد بھی اُنہی کے پیٹ میں ہوتا ہے)

اب صورتِ حال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس کے باوجود آزادی مارچ لے کر اسلام آباد پہنچنے پر مصر ہیں اور انہوں نے باقاعدہ تاریخ بھی دے دی،جس کے مطابق ملک بھر سے27 اکتوبر کو قافلے چلیں گے، جو کشمیریوں کی حمایت کے حوالے سے سفر کا آغازکریں گے اور یہ سب قافلے 31اکتوبر تک اپنی منزل کو پہنچیں گے،جو اسلام آباد کا ڈی چوک ہے جہاں موجودہ وزیراعظم عمران خان نے126 دن کا دھرنا دے کر ریکارڈ قائم کیا تھا،لیکن اب صورتِ حال بدل چکی،حکومت کہتی ہے کہ مولانا مودی کے یار ہیں،وزرا الزام لگاتے ہیں کہ یہ سب بھارتی منصوبے کا حصہ ہے۔دوسری طرف صورتِ حال یہ ہے کہ مولانا نے بیک وقت پورے ملک کو ہدف بنایا اور ان کی جماعت ہر شہر سے قافلے لے کر نکلے گی۔ موجودہ حالات میں یہ تصادم کا باعث ہو گا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے وزراء اعلیٰ نے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر اور سود مند بنانے کے لئے یہ اعلان کر دیا کہ آزادی مارچ کے قافلے اسلام آباد کی طرف جانے ہی نہیں دیئے جائیں گے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب محاذ آرائی کی صورت کیا ہے اور آئندہ کیا ہو گی۔اگر جمعیت تمام شہروں سے معقول تعداد میں لوگوں کو گھروں سے نکال کر مظاہروں میں لے آتی ہے تو انتظامی فورسز سے تصادم خارج از امکان نہیں،اب تک کی اطلاع یہ ہے کہ جہاں جہاں زبر دستی روکا گیا،وہاں ہی دھرنا ہو جائے گا۔یوں یہ ایک نیا ریکارڈ ہو گا کہ کسی ایک جماعت نے بیک وقت ملک بھر میں دھرنے دیئے۔

یہ تو وہ بات ہے جو عام نظر سے بھانپی جا سکتی ہے، دیکھنا تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) حتمی فیصلہ کیا کرتی ہیں،کیونکہ ابھی تک یہ دونوں جماعتیں جمعیت علمائے اسلام کے مطالبات کی حمایت کرتیں اور مولانا کا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔یوں عمل سے زیادہ زبان و بیان سے ساتھ دیتی چلی آ رہی ہیں اور مزید بھی دیں گی۔پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی اور مسلم لیگ(ن) کی مجلس عاملہ کے جو اجلاس ہوئے ان میں آزادی مارچ کی حمایت اور حکومت کی مخالفت کا فیصلہ تو جلد ہی ہو گیا،لیکن آزادی مارچ میں عملی شرکت پر اب بھی تحفظات ہیں، ان کو دور کرنا بھی جمعیت علمائے اسلام(ف) کے لئے لازم ہے، جو بیانات کے ذریعے سب کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں وہ عملی طور پر بھی ثابت کریں۔ پیپلز پارٹی کو بڑا اعتراض تو ”مذہبی کارڈ“ کے بارے میں ہے کہ لبرل سوچ کی یہ جماعت سیاسی سوچ کا اظہار کرتی اور اس کے خیال میں سیاست کو معاشی، اقتصادی اور ملک کے عمومی حالات کی روشنی میں دیکھنا چاہئے اور اہم مسئلہ عوامی حالت زار ہے اس کے لئے مہنگائی اور بے روزگاری اہم ہیں۔مولانا کا موقف یہ ہے کہ آئین ِ پاکستان دین کے تحفظ کی بات کرتا ہے تو دین کی بات کیسے نہیں ہو گی،البتہ ملکی مسائل ہی تحریک کی بنیاد ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے جو کچھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا وہ ان کی کور کمیٹی والی میٹنگ میں بتایا گیا کہ آزادی مارچ میں ابھی عملی شرکت کاوقت نہیں آیا،تاہم مولانا فضل الرحمن کی مکمل تائید اور جہاں جہاں ممکن ہوااحتجاج بھی کیا جائے گا، پیپلز پارٹی کے حلقے ایک دوسری آس لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ یہ کہ پارٹی خود جو تحریک شروع کرے گی وہ بھی حکومتی خاتمے تک جاری رہے گی۔فی الحال ہفتے کے روز سے جلسے شروع ہوں گے اور دسمبر میں تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا،مسلم لیگ(ن) کی پوزیشن ذرا مختلف ہے، اسے ”مذہبی کارڈ“ کے استعمال سے کوئی خوف نہیں البتہ یہ بات ضرور سوچی گئی کہ مولانا ناکام ہو گئے تو پھر؟ اس پر دو آرا ہیں،پہلی یہ کہ اس ناکامی کا حصہ نہیں بننا چاہئے، بلکہ دوسرے طبقے کے مطابق مولانا کی تحریک کی ناکامی حزبِ اختلاف کے لئے بہت تباہ کن ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریروں اور وزراء کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ان کو مزید وقت مل گیا تو وہ نہ صرف مضبوط ہوں گے،بلکہ حدود و قیود کا بھی لحاظ نہیں رکھیں گے،چنانچہ مشکل ہو گی اس لئے آزادی مارچ کی بھرپور حمایت اور اس کی کامیابی کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔

مسلم لیگ(ن) یوں بھی اس عملی کام پر ہی یقین ظاہر کر رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب کی پارلیمانی پارٹی میں یہ موقف طے پا گیا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی، جمہوری اور آئینی حدود کا احترام نہیں کرتی اور نہ ہی توقع ہے۔ حزبِ اقتدار والے اسمبلیاں بھی نہیں چلانا چاہتے کہ وہاں پارلیمانی اصولوں کے مطابق کام نہیں کیا جاتا،اِس لئے تمام قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی چھوڑ دینا چاہئے اور اجلاسوں میں شرکت نہیں کرنا چاہئے۔یہ سب کچھ اب قائد مسلم لیگ(ن) سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ بحث اور ان کی اجازت کے بعد ہو گا کہ ان سے جمعرات کو اہل خانہ کی ملاقات کے وقت محمد شہباز شریف قائد کو دونوں اجلاسوں کی کارروائی اور رائے سے آگاہ کریں گے،ان کی اجازت کے بعد عمل ہو گا اور امکان یہ ہے کہ بھائی، بھائی کو قائل کر لیں گے۔ کون کس کو اس کا علم آج ہو جائے گا۔

قارئین! یہ جو بھی عرض کیا اس میں کوئی راز والی بات تو نہیں ہے،لیکن ایک گذارش کر دوں کہ یہ جو مو لانا فضل الرحمن اور دونوں سیاسی جماعتیں (مسلم لیگ(ن) +پیپلزپارٹی) ایوانِ اقتدار میں رہ کر آئی ہیں، اور اسرار رموز سے واقف بھی ہیں، اِس لئے ان کے فیصلوں سے مترشح ہو گا کہ پس پردہ بھی کچھ ہے یا نہیں،اور یہ ناممکن نہیں،مولانا فضل الرحمن نے آج تک کچی گولیاں نہیں کھیلیں، اور دوسری دونوں جماعتیں دو سے زیادہ بار برسر اقتدار رہ چکیں، اِس لئے لیل ونہار سے واقف ہیں یہ تو حکومت کی حکمت ِ عملی پر منحصر ہو گا کہ یہ جماعتیں مولانا سے الگ الگ رہیں اور زبانی کلامی حمایت کرتی رہیں۔یہ کھیل، جاری ہے، جلد ہی بہت سی باتیں کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ہم پھر یہی گذارش کریں گے کہ حالات ایسی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہوں گے اِس لئے حزبِ اقتدار درمیانی راہ نکالے اور یہ مشکل نہیں کہ یہ جمہوری اور پارلیمانی طریقہ ہے کہ مشتعل اپوزیشن سے بات کر کے ان کے مطالبات کی روشنی میں کوئی بہتر راستہ تلاش کرے کہ جمہوریت چلنا چاہئے، اسی سے ملک کی بہتری ہو گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...