تھانہ کلچر کیسے اور کب تبدیل ہوگا؟

تھانہ کلچر کیسے اور کب تبدیل ہوگا؟
تھانہ کلچر کیسے اور کب تبدیل ہوگا؟

  



یوں تو تھانوں میں تشدد کے واقعات میں کبھی کمی نہیں آئی، لیکن حالیہ چند ہفتوں میں ایسے واقعات کی تعداد یک دم بڑھ گئی ہے۔ یکے بعد دیگرے کئی ایسے کیس سامنے آئے جن میں پولیس کے تشدد کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں۔ وہاڑی میں پولیس کے مبینہ نجی ٹارچر سیل میں خاتون پر تشدد کی رپورٹ منظر عام پر آئی۔ آٹو میٹڈ ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) میں چوری کے دوران عجیب و غریب حرکتیں کر کے سوشل میڈیا پر مشہور ہونے والا صلاح الدین نامی شخص پنجاب پولیس کی حراست میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مبینہ نجی ٹارچر سیل میں حبس بے جا میں رکھا گیا مبینہ نوجوان ملزم امجد ذوالفقار ہلاک ہو گیا تھا۔ یہ پولیس تشدد سے ہلاکتوں کے وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہو گئے۔ جو کسی وجہ سے رپورٹ نہیں ہو سکے اور خفیہ رہ گئے ان کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

سمجھیں کہ یہ دیگ میں سے ایک دانہ ہے۔ پوری دیگ کیسی ہو گی اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پولیس کے رویوں میں بہتری لا کر تھانہ کلچر کو تبدیل کیا جائے گا اور ملزمان پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کچھ ایسے ہی تاثرات کا اظہار انہوں نے اس سے چند روز پہلے بھی کیا تھا۔ کہا تھا: تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

پتہ نہیں یہ تھانہ کلچر کب تبدیل ہوگا؟ یہ سوال اس لئے اٹھانا پڑ رہا ہے کہ کچھ ایسے ہی دعوے ماضی کے حکمران بھی کرتے رہے ہیں۔ کم و بیش دس سال پہلے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پنجاب پولیس کی تنخواہ اور مراعات میں فوری اضافے کا اعلان کرتے ہوئے تنخواہ کے برابر رسک الاؤنس دینے کا اعلان کیا تھا اور ساتھ ہی تھانہ کلچر میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اور بس صرف زور ہی دیا تھا۔ اس سلسلے میں کیا کچھ بھی نہیں۔ کچھ کیا ہوتا تو آج بھی تھانوں میں لوگ تشدد سے ہلاک نہ ہو رہے ہوتے۔ پنجاب کے ایک سابق وزیر اعلیٰ عارف نکئی نے تو پولیس کے ناروا رویے کو دیکھتے ہوئے یہ تک کہہ دیا تھا کہ وہ قواعد و ضوابط کی پابندی نہ کرنے والوں کی پیٹیاں اتروا دیں گے۔ لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ہم آج بھی بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں کہ اس ادارے کی کارکردگی کیسے بہتر بنائی جائے، حالانکہ بات بڑی سیدھی اور واضح ہے کہ تھانہ کلچر جرائم میں اضافے کا سبب ہے اور جب تک پولیس میں بامعنی اور با مقصد اصلاحات نہ لائی جائیں تھانہ کلچر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ تھانہ کلچر کی وجہ سے عوام کا حکمرانوں اور پولیس پر سے اعتماد ہی اٹھ چکا ہے۔ تھانہ کلچر میں تبدیلی لانے کی ضرورت تو ہے، لیکن یہ تبدیلی کیسے لائی جائے یہ شاید کوئی نہیں جانتا۔ جس نظام میں تھانے بکتے ہوں اس میں جرائم ختم نہیں ہو سکتے اور امن و امان قائم نہیں ہو سکتا۔ اس بات کو ایک عالم گیر سچائی تصور کیا جا سکتا ہے۔ جہاں اراکین اسمبلی اپنے حقیقی فرض یعنی قانون سازی کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنے علاقے میں اپنی پسند کے تھانے دار لگوانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہوں، تاکہ وہ اپنے علاقے میں ان سے من مانے اقدامات کرا سکیں، وہاں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے اور عوام کیسے مامون ہو سکتے ہیں؟ جس سسٹم میں بے گناہ افراد کو محض شک کی بنیاد پر حراست میں لیا جانا اور پھر رشوت لے کر ان کو چھوڑنا روز مرہ کا معمول بن چکا ہو، وہاں عام آدمی محفوظ کیسے ہو سکتا ہے جہاں تھانوں میں تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے سمارٹ فون لے جانے پر پابندی لگا دی جائے، وہاں بہتری کے امکانات کیسے تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ ہدایات جاری کی گئیں کہ تھانے میں ایس ایچ او اور محرر کے علاوہ کوئی دوسرا اہلکار سمارٹ فون اپنے پاس نہیں رکھ سکے گا۔ کیسا شاندار حل نکالا گیا ہے؟

اس حقیقت کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھانوں میں عوام اور ملزمان پر تشدد دراصل اس امر کی جانب اشارہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تحمل، برداشت اور رواداری جیسی اقدار کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ سماجی سطح پر جو ایک طرح کی بے اطمینانی پائی جاتی ہے، اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں اختیار ہے، جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے، اسے وہ ڈنڈا چلائے بغیر چین نہیں آتا اور ایسا کرتے ہوئے وہ جائز و ناجائز کے بارے میں بھی نہیں سوچتا۔ تشدد کرنے والے کے ذہن میں یہ سوچ بھی پیدا نہیں ہوتی کہ یہی تشدد اگر اس پر ہو رہا ہو تو پھر کیا ہو؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہاں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی ٹھوس نظام موجود نہیں ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ حکام بھی من مانی کرتے ہیں۔ پولیس اور اسی طرح کے دوسرے اداروں اور محکموں کا نظام درست ہو سکتا ہے اگر ان میں درج ذیل اصلاحات نافذ کر دی جائیں۔

-1 آئین اور قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور پولیس کو پابند کیا جائے کہ عوام کی خدمت کو اپنے فرائض کا حصہ سمجھیں۔

-2 پولیس میں بھرتی اراکین اسمبلی کی سفارش یا رشوت کی بنیاد پر نہیں میرٹ پر کی جائے۔

-3 پولیس انصاف اور قانون کے مطابق مقدمات کا اندراج کرے۔

-4 پولیس کا سیاسی اور حکومتی مفادات کے لئے ہر دور میں جو بے دریغ استعمال کیا گیا، وہ ختم کیا جائے۔

-5 کچھ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ مجرم اور ڈاکو بھی سفارش کی بنیاد پر پولیس میں بھرتی ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے میرٹ پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔

-6 چیک اینڈ بیلنس کا ٹھوس نظام وضع کیا جائے اور پولیس اور امن و امان قائم رکھنے کے ذمہ دار دوسرے اداروں میں نافذ کیا جائے۔

مزید : کالم /رائے


loading...