عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور ختم نبوت کانفرنس

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور ختم نبوت کانفرنس

  



عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام 10اکتوبر کو مسلم کالونی چناب نگر میں منعقدہ 37ویں سالانہ دوروزہ ختم نبوت کانفرنس، قادیانی فتنہ کے دجل و فریب اور ان کے کفر یہ عقائد و نظریات کو بے نقاب کرنے،عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، نسل ِ نو کی ایمان کی حفاظت کا ذریعہ اور اتحاد امت کا عملی مظاہرہ ہے جو آج جاری رہے گی۔ ختم نبوت کانفرنس سے تمام مسلم مکاتب فکر کے مرکزی قائدئن خطاب کریں گے۔

ختم نبوت کا عقیدہ دین اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی رشد وہدایت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع فرمایا تھا اسے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد رسولؐ اللہ پر ختم فرما دیا اور ختم نبوت کے عظیم الشان محل کی تکمیل حضرت محمد رسولؐ اللہ کا وجود مسعود ہے۔

ختم نبوت کے اس عقیدہ پر قرآن کریم میں متعدد آیات موجود ہیں اور تقریباً دو سو سے زیادہ روایات ہین جن سے عقیدہ ختم نبوت بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے، ایسے تواتر اور قطعیت کی نظیر کسی اور مسئلہ میں ملنا مشکل ہے۔

مسئلہ پر نہ صرف امت محمدیہ کا اجماع ہے، بلکہ تمام کتب سماویہ کا اور تمام انبیاء کرام کا اس پر اجماع ہے۔ عالم ارواح میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا اس پر عہدو پیمان ہے، جیسے توحید الٰہی تمام ادیان کا اجماعی عقیدہ ہے اسی طرح ختم نبوت کا عقیدہ بھی تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیاء کرام اور تمام ادیان سماویہ کا متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے۔ آغاز انسانیت سے لے کر آج تک اس پر ہمیشہ اتفاق رہا ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد رسولؐ اللہ ہی ہیں اور سلسلہئ نبوت ورسالت آپؑ کی ذات گرامی پر ختم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتب سماویہ میں اس کی اَن گِنت پیشین گوئیاں کی گئیں، آپؑ کا نام، القاب، جائے ولادت اور آپ ؐ کے دار ہجرت کی خبریں دی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ کے بیان کے سلسلہ میں تمام مخلوقات پر اور تمام اقوام عالم پر اپنی حجت پوری فرمادی اور اس عقیدہ سے کسی صاحب ایمان کو کسی زمانہ میں اختلاف نہیں رہا۔

دین اسلام میں جس طرح توحید باری تعالیٰ، رسالت او ر قیامت کے بنیادی قطعی اور اصولی عقائد پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح اس امر پر بھی ایمان لانا لازم ہے کہ حضرت محمد رسولؐ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں۔ یوں تو مکمل قرآن کریم ختم نبوت کی دلیل ہے، کیونکہ قیامت تک کے لئے امت ِ مسلمہ کے لئے راہِ نجات قرآن کو ماننا اور اس میں موجود احکامِ خداوندی پر عمل پیرا ہونا ہے۔ اگر آپ ؐ کے بعد بھی کسی نبی کی بعثت متوقع ہوتی تو لازمی تھا کہ اس پر وحی الٰہی بھی نازل ہوتی تو پھر نجات کے لئے اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہوتا، ارشاد باری تعالیٰ ہے…………

ترجمہ: اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو آپ پر نازل ہوئی اور جو آپ سے پہلے نازل ہوئی اور یوم آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ (البقرۃ 5,4)

قرآن کریم کی ایک سو کے قریب آیات سے مسئلہ ختم نبوت بڑی صراحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے……

ترجمہ: محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں اور لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (سورۃ الاحزاب 40)

اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ حضرت محمد ؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسولؐ ہیں اور تمام نبیوں کے بعد آپ کی بعثت ہوئی،گویا آپ ؑ کی آمد کے بعد کوئی نیا نبی پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور آپ ؐ کے بعد قیامت تک پیدا ہونے والے لوگ آپ ؐ ہی کی امت میں داخل ہوں گے۔

مذکورہ آیت میں نبی اکرم ؐ سے أبوت (باپ ہونے) کی نفی کر کے اس طرف اشارہ کر دیا گیا کہ آپ ؐ کے بعد اگر ہمیں کسی کو نبوت عطاء کرنا ہوتی تو ہم آپ ؐ کے فرزندان گرامی کو زندہ رکھتے اور انہیں یہ منصب عالی عطاء فرماتے، مگر چونکہ آپ ؐ پر سلسلہ نبوت ختم تھا اس لئے نہ آپ ؐ کی اولاد نرینہ زندہ رہی،نہ ہی آپ ؐ کسی بالغ مرد کے باپ کہلائے، یہی بات ایک حدیث میں بیان فرمائی……

ترجمہ: اگر(حضور ؐ کے بیٹے) ابراہیم ؓ زندہ رہتے تو وہ نبی ہوتے، یعنی آپ ؐ کے بعد اگر کسی قسم کی نبوت کی گنجائش ہوتی تو اس کے لئے گرامی قدر بیٹے کو زندہ رکھا جاتا اور وہی نبی ہوتے، لیکن ابراہیم ؓ اس وجہ سے بچپن میں دُنیا سے رخصت ہو گئے کہ آپ ؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، اگر ایسا نہ ہوتا اور وہ زندہ رہتے تو نبی بنتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو منظور تھا آپ ؐ پر نبوت کا دروازہ بند کرنا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کی نرینہ اولاد کو بھی بچپن میں دُنیا سے اُٹھا لیا۔

حضرت محمد رسولؐ اللہ نے اپنی ختم نبوت کا اعلان مختلف عنوان اور مختلف پیرایوں میں سینکڑوں مرتبہ، متعدد مواقع پر فرمایا ہے اور ختم نبوت کی روایات حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ نبی اکرم ؐ نے نبوت کو ایک محل کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے اپنی ختم نبوت کو اس طرح بیان فرمایا:

ترجمہ: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی عمارت بنائی ہو اور اس کو خوب سجایا ہو اور مزین کیا ہو مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی ہو، لوگ اس کے ارد گرد چکر لگانے لگے اور اس کے حسن تعمیر پر خوش ہونے لگے اور کہنے لگے کہ یہاں پر اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی، آپ ؐ نے فرمایا میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی تمام نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔(مسلم 2، 248)

نبی اکرم ؐ ختم نبوت کے محل کی آخری اینٹ ہیں، آپ ؐ کی آمد کے بعد اس محل کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اب اس میں نہ کسی اضافہ کی گنجائش ہے اور نہ کمی کا امکان، ختم نبوت کے محل کی تکمیل کے بعد جو شخص کسی بھی انداز میں نبی بنائے جانے کا دعویٰ کرے گا وہ شخص جھوٹا اور کذاب ہے اور اس کا دعویٰ باطل ہے۔ نبی اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا……

ترجمہ: میری امت میں تیس جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ مَیں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (مسلم)

اس حدیث سے جہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی اکرم ؐ کی بعثت کے بعد نبوت کا ہر دعویدار جھوٹا ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ آپؐ کے بعد مدعیان نبوت بھی ضرور پیدا ہوں گے، جن کا دعویٰ ہو گا وہ نبی ہیں مگر وہ جھوٹے ہوں گے۔

صحابہ کرام ؓ نے آپ ؐ کی جسم و جاں کی حفاظت کی، آپ کے دین کو محفوظ رکھا اسی طرح آپ ؐ کی ختم نبوت کے تحفظ میں جان کی بازیاں لگائیں اور جھوٹے مدعیان نبوت کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا۔ حضرت فیروز ؓ نے اسود عنسی (مدعی نبوت) کا خاتمہ کر کے نبی اکرمؐ کی زبان نبوت ترجمان سے کامیابی کا مژ دہ پایا اور سیدنا صدیق اکبر ؓ نے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف صحابہ کرامؓ کا لشکر تیار کر کے ایمان والوں کو درس دیا کہ پیغمبر اسلام ؐ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے میدان کار راز میں اتر کر اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بھی اس کی حفاظت کرنی پڑے تو اس سے دریغ نہ کرنا، یہی وجہ ہے کہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد میں شہید ہونے والے صحابہ کی تعداد سابقہ غزوات کی تعداد سے دو گنا زیادہ نظر آتی ہے۔ قرآن و سنت کی ان تصریحات کے مطابق صحابہ کرام سے لے کر آج تک تمام امت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی اکرم ؐ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا جھوٹا اور کذاب ہے،بلکہ آنحضرت ؐ کے دُنیا سے جانے کے بعد حضرات صحابہ کرام ؓ اور اُمت مسلمہ کا سب سے پہلا اجماع اس بات پر منعقد ہوا کہ نبیؐ خاتم النبیین ہیں اور نبوت کا نیا دعویدار خارج از اسلام ہے اور اس کو قتل کرنا واجب ہے کسی صحابی کو بھی مسیلمہ کذاب کے قتل میں ادنیٰ تردد نہیں ہوا اور ہر زمانہ میں اسلامی حکومت نے ہر اس شخص کو قتل کیا ہے، جس نے آپ ؐ کے بعد دعویٰ نبوت کیا ہے۔ مرزا قادیانی کے فتنہ سے نمٹنے کے لئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو کوششیں کی گئیں ان میں بڑا اہم کردار علماء دیوبند کا ہے، بالخصوص حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ کی خدمات اور مساعی اس سلسلہ میں امت مسلمہ کے ایمان کے تحفظ و بقاء کا سبب ہیں۔ آپ نے مرض وفات میں جب آپ نیم جان ہو کر بستر مرگ پر لیٹے ہوئے تھے فارسی زبان میں ایک رسالہ خاتم النبیین کے نام سے لکھا، جو ترجمہ کے ساتھ چھپ چکا ہے۔ مقدمہ بہاولپور میں حضرت انور شاہ کشمیری صاحب کا بیان کمرہ عدالت میں شروع ہوا، عدالت کے بیرونی میدان میں دور تک زائرین کا مجمع تھا۔ حضرت شاہ صاحب عرصہ سے بیمار تھے اور جسم مبارک ناتواں ہو چکا تھا، مگر متواتر پانچ دن تک، پانچ پانچ گھنٹے یومیہ عدالت میں تشریف لا کر علم وعرفان کے دریا بہاتے رہے اور مرزائیت کے کفر اور دجل و فریب کے تمام پہلوؤں کو آفتاب کی طرح روشن کر دیا۔

حضرت انور شاہ کشمیری صاحب ؒ نے فرمایا:

جب یہ فتنہ کھڑا ہوا تو چھ ماہ تک مجھے نیند نہیں آئی اور یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں دین محمدی (علی صاحب ہما الصلوٰ ۃ والسلام) کے زوال کا باعث یہ فتنہ نہ بن جائے، فرمایا چھ ماہ کے بعد دل مطمئن ہو گیا کہ ان شاء اللہ یہ دین باقی رہے گا اور یہ فتنہ مضحمل ہو جائے گا۔

حضرت علامہ شمس الحق افغانی ؒ فرماتے ہیں کہ جب حضرت انور شاہ کشمیری ؒ کا آخری وقت تھا کمزوری بہت زیادہ تھی، چلنے کی طاقت بالکل نہ تھی، فرمایا کہ مجھے دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں پہنچا دیں، اس وقت کاروں کا زمانہ نہ تھا ایک پالکی لائی گئی،پالکی میں بٹھا کر حضرت شاہ صاحب کو دارالعلوم کی مسجد میں پہنچا دیا گیا، محراب میں حضرت کی جگہ بنائی گئی تھی وہاں پر بٹھا دیا گیا تھا، حضرت کی آواز ضعف کی وجہ سے انتہائی ضعیف اور دھیمی تھی۔ تمام اجل شاگرد حضرت انور شاہ کشمیر ی ؒ کے ارداگردہماتن گوش بیٹھے تھے آپ نے صرف دو باتیں فرمائیں، پہلی بات تو یہ فرمائی کہ تاریخ اسلام کا مَیں نے جس قدر مطالعہ کیا ہے اسلام میں چودہ سو سال کے اندر جس قدر فتنے پیدا ہوئے ہیں، قادیانی فتنہ سے بڑا فتنہ اور سنگین فتنہ کوئی بھی پیدا نہیں ہوا۔

دوسری بات یہ فرمائی حضور ؐ کو جتنی خوشی اس شخص سے ہو گی جو اس کے استیصال کے لئے اپنے آپ کو وقف کرے گا تو رسول اکرمؐ اس کے دوسرے اعمال کی نسبت اس کے اس عمل سے زیادہ خوش ہوں گے اور پھر آخر میں جوش میں آکر فرمایا! کہ جو کوئی اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے اپنے آپ کو لگا دے گا، اس کی جنت کا میں ضامن ہوں۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسلم کالونی چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس جہاں ایک طرف اتحاد امت کا عملی مظاہرہ ہے،وہاں ملک کی موجودہ صورت حال میں قیام امن، اتحاد بین المسلمین کے فروغ، فرقہ واریت کے خاتمہ،امت مسلمہ پر قادیانی فتنہ کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مسلمان عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اس کانفرنس میں بھر پور شرکت کر کے عشق رسول ؐ کا عملی ثبوت دیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...