ایک قدم اور آگے

ایک قدم اور آگے
ایک قدم اور آگے

  



ایمنسٹی سکیم کی کامیابی اور گزشتہ ادوارِ حکومت کے دس سالہ عرصے میں لئے گئے قرضوں کی بابت کمیشن کی تشکیل پر عمران خان کے حامی اور بعض دیگر حلقے تحسین و آفرین بجا لا رہے ہیں،اس کا مطلب، مگر یہ ہوا کہ وزیراعظم کا ویژن یہاں آ کر رُک گیا ہے،اور اب وہ مزید کچھ کرنا نہیں چاہتے یا کر نہیں پائیں گے۔اللہ اللہ خیر سلا!اگر ہم واقعی پاکستان کو عملاً ملک اور پاکستانیوں کو ایک قوم بنانا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ یہ سلسلہ بہت پیچھے تک لے جایا جائے۔پاکستان ہمارا گھر ہے اور اگر گھر میں سانپ،بچھو یا سؤر گھس آئیں تو اس کا قلع قمع کئے بغیر چارہ نہیں، اگر کسی نے پاک وطن کی قسمت کو واقعی ڈسا ہے وہ کسی بھی رو رعایت کے مستحق نہیں۔ایمنسٹی سکیم یا اس نوع کے کمیشن بالکل اضافی و ناکافی ہیں۔ان کے ڈنک کا یہ کوئی معقول تریاق نہیں،اس زہر کے لئے کوئی اور امرت ڈھونڈ لانا چاہئے! علاج بقدرِ مرض!اگر گزشتہ دس سال کے اندر لوٹ مار کرنے والے مجرم ہیں تو کیا ان سے پہلے محرم تھے؟ یہ مدت پرویز مشرف اور جنرل ضیاء الحق تک کیوں نہیں بڑھائی جا سکتی؟بلکہ اصولاً1947ء تک چلے جانا چاہئے۔

ایک سے ایک بڑھ کر جعلی کلیم اور الاٹمنٹ!تبھی تو بدعنوانی کی کہانی کا آغاز ہوا تھا۔ ویسے کیا حرج ہے جاگیریں پانے والوں کا حدود اربعہ بھی معلوم کر لیا جائے۔ انگریزوں نے غداری کے صلہ میں جاگیروں کی بارش کی تھی،جو جتنا بڑا غدار تھا،اُس کے لئے اتنی بڑی بخشش! وہ جائیدادیں کس کس کو کب کب ملیں اور کیوں؟ کون کیا تھا اور اس کا شجرہئ نصب کیا ہے؟ تاریخ دامن پھیلائے سوال کرتی ہے۔

اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ حد و ضرورت سے زیادہ زرعی رقبہ جات کو ہی بحق سرکار ضبط کر لیا جائے۔دوسرا آغاز کار سے اثاثوں کا گوشوارہ طلب و تیار ہو۔کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ عہد مغلیہ تک زمین کی مالک ریاست تھی اور لوگوں کوبغرض کاشت واستفادہ دی جایا کرتی!پاکستان اپنے نظریہ، اگر واقعی کوئی نظریہ تھا، کے اعتبار سے مدینہ منورہ کی ایک جانشین ریاست ہے۔بھلا ریاست مدینہ میں یہ بھی قانون نافذ رہ سکتا ہے،یا رہنا چاہئے کہ غاصبوں اور لٹیروں کو اس بنا پر نہ پوچھا جائے کہ ان کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں۔استحصال اور لوٹ کھسوٹ کے ثبوت جا بجا بکھرے پڑے ہیں،ظالموں سے ایک ہی بار کیوں نہیں پوچھ لیا جاتا کہ ان کی جائیداد کے ذرائع کیا ہیں! اور پھر ان کی میعاد کے مطابق ٹیکس؟ جو اِن سوالوں کے جواب نہ دے پائے،اور کوئی بھی نہیں دے سکے گا تو بیک جنبش ِ قلم جملہ جائیداد واپس لے لینی ناگزیر ہیں۔تاریخ اسلام میں پانچویں خلیفہ ئ راشد کا عمل ہمارے سامنے ہے۔

ان کی خلافت کا آغاز ہوا تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ایک روز بعدازنمازِ فجر جامع مسجد میں بیٹھے،دائیں ہاتھ میں قینچی پکڑی اور بتو اُمیہ کی جاگیروں سے متعلق دستاجویزات کاٹ کے رکھ دیں، فرمایا:”ظلم سے جمع شدہ جائیداد اسناء سے جائز نہیں ٹھہر جاتی“۔یہ گویا عمر ثانی کی سنت ہے۔اس سنت پر کون عمل پیرا ہو گا،اور کب؟ آخر ہم کب یہ جانیں گے کہ دین ِ فطرت میں نجی ملکیت کا کوئی تصور نہیں۔غیر منقولہ پراپرٹی از قبیل دریا، پہاڑ، چراگاہ، جنگلات اور معدنیات اجتماعی ملکیت ٹھہرے۔زرعی رقبہ جات، پیداوار اور عشر کی شرائط پربطور استفادہ دیئے اور قومی مصالح کے تحت واپس لئے جا سکتے ہیں۔ یہ کسی کے باپ دادا کی جاگیر بالکل نہیں۔

آزادی کا مطلب تو یہ ہوا کرتا ہے کہ غلامی سے پہلے کی صورتِ حال جوں کی توں بحال کر دیں۔کیا جنگ آزادی،جسے انگریز نے غدر کہا، سے قبل زمینوں کی حد بندی ایسی تھی؟ ایک قوم میں معاشی خلیج چہ معنی دارد؟ ہم خیال ہونے کے لئے ہم حال ہونا بھی ضروری ہے۔یہ کہنے کو ریاست مدینہ ہے، مگر یہاں نظام،فرعون و نمرود کا چل رہا ہے۔ تاحد ِ نگاہ ہامان کا غلبہ اور شر کی اجارہ داری! مساواتِ محمدی اور خیر کہلاتی ہے؟ ہمارے ہمسایہ ملک ایران میں بھی ذرائع قدرتی پیداوار،ریاست کی ملکیت ہیں۔ایک ایران؟جملہ خلیجی ممالک اور عرب ریاستوں میں ابھی تک یہی دستور ہے۔ پاکستان میں اس کے برخلاف کیوں؟جبکہ اسے تو فی الواقع ریاست مدینہ کا عکس ہونا تھا۔اے اہل ِ وطن! ہم پر فرض و قرض ہے کہ حقیقی اسلام اور حقیقت ِ اسلام کو جانیں، خالص اسلامی تعبیر و تفسیر! اسلام میں جاگیرداری بالکل روا نہیں یہ دین ِ رحمت ہے، انسانیت نواز!جانے ہم پورے کے پورے دین میں کیوں داخل نہیں ہو جاتے؟ معیشت بندوں کے مابین ایک رشتہ ہے۔

برابر، نصف،نصف! پورا نا کہ ادھوا۔ریگزارِ کربلا کا ذرہ ذرہ آج بھی پکار رہا ہے کہ فراتِ وسائل پر یزید کے قبضے کی کوئی گنجائش نہیں۔ہم عجب مسلمان ہیں کہ ظلم کو اسلام کی قبا پہنا دی ہوئی ہے،جو ناجائز تھا،بنام دین جائز ٹھہرا دیا۔لوگو! نظریہئ پاکستان جانو! آزادی کا مفہوم سمجھو!!چمن میں سے ثمرات کا پورا حصہ! فقط کانٹے ہی نہیں ہم پھول بھی تقسیم کریں گے۔اب نہیں تو کب؟ ہم نہیں تو کون کرے گا؟؟

مزید : رائے /کالم