قرآن مجید کااحترام نہ کرنے والے کبھی عزت ومنزلت نہیں پاسکتے شہید مقدس اوراق کی حفاظت سے غفلت کیوں۔۔۔؟

قرآن مجید کااحترام نہ کرنے والے کبھی عزت ومنزلت نہیں پاسکتے شہید مقدس اوراق ...

  



قرآن پاک کے ترجمہ والے اخبارات کے کمرشل استعمال پرپابندی لگائی جائے

ارشاداحمدارشد

وفاقی وزارت مذہبی امور کے ایک سروے کے مطابق پاکستا ن میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب۔۔۔۔۔قرآن مجید ہے۔بات صرف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ قرآن مجید کو پڑھا جاتا ہے۔یہ عمل آج سے نہیں 1400سال سے مسلسل جاری ہے اورہر گزرتے ماہ و سال کے ساتھ جاری رہے گا۔ آ خر ایسا کیوں نہ ہوقرآن مجید اللہ تعالیٰ کی پاک و مقدس کتاب ہے،جو اس نے سب سے عظیم فرشتے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے اپنے سب سے محترم و معظم رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ پر لیلۃ القدر میں نازل فرمائی۔ اس لئے مسلمانوں کی اس کتاب سے محبت فطری امر ہے۔قرآن مجید جتنی عظمت والی کتاب ہے اس کے ساتھ محبت کے آداب بھی اتنے ہی عظمت وشان والے ہیں۔مگر ہمارے ہاں قرآن مجید سے محبت کا بس یہی طریقہ معروف کہ برکت کے لئے اس کی تلاوت کر لی جائے یا فضائل بیان کر دیئے جائیں۔ چنانچہ ہمارے علماء قرآن مجید کے فضائل بیان کرتے ہیں، اس کے فضائل ومسائل پر کتابیں لکھی جاتی اور اخبارات میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔یہ سب باتیں بجا ان کی اہمیت وفضلیت سے انکار ممکن نہیں۔سمجھنے کی بات یہ کہ قرآن مجید کے اس کے علاوہ بھی ہم پر بہت سے حقوق وفر ائض ہیں۔سب سے بڑا فرض تو یہ کہ اس کی تعلیمات پر عمل کیا اسے اپنی زندگیوں اور معاشروں میں عملاََ نافذ کیا جائے ۔اس کے علاوہ ایک اہم ترین ادب جسے عموماََ نظر انداز کیا جاتاہے وہ اس کی طباعت واشاعت کا ہے۔ قرآن مجید کے ساتھ محبت کا تقاضا ہے کہ اس کی عمدہ، معیاری، پائیدار اور خوبصورت کاغذ پر طباعت واشاعت کی جائے۔ اعلی و نفیس کتابت، خوبصورت وپایئدار جلد بندی کی جائے۔ایک حق یہ بھی ہے کہ شہید قرآنی اوراق کی مناسب طریقے سے حفاظت کی جائے۔اس لئے کہ عمدہ طباعت واشاعت اور شہیدقرآنی اوراق کی مناسب طریقے سے حفاظت بھی ایمان کا حصہ ہے۔ اسی طرح ناشران کا فرض ہے کہ وہ اپنے طور پر قرآن مجید کے تقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی طباعت واشاعت کے لئے عمدہ و معیاری کاغذ استعمال کریں لیکن ہمارے ملک میں ہوس زر نے اکثر ناشران کو اندھا کر رکھا ہے اور انہوں نے قرآن مجید کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ بلاشبہ اسلام میں تجارت کو حلال کہا گیا ہے بلکہ تجارت کرنا باعث فضلیت بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی طباعت کے عوض مناسب ہدیہ وصول کرنے میں کوئی ممانعت نہیں تاہم اس کے ساتھ ناشران کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ مناسب منافع کے ساتھ قرآن مجید کی طباعت واشاعت کے لئے معیاری اور خوبصورت کاغذ استعمال کریں لیکن جب اکثر ناشران نے قرآن مجید کے تقدس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے صرف اور صرف کمائی کا ذریعہ بنا لیااور طباعت کے لئے غیر معیاری کاغذاستعمال کرنا شروع کردیا تواس سے ایک طرف ہم عذاب الہیٰ کا شکار ہوئے تو دوسری طرف قرآن مجید کی شہادت کا گراف بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ غیر معیاری کاغذ پرقرآن مجید کی طباعت اور شہید قرآنی اوراق کی حفاظت سے غفلت۔۔۔۔۔ یہ دونوں باتیں توہین قرآن کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔یہ بات معلوم ہے کہ قرآن مجید کی توہین کا ارتکاب کرنے والے مسلمان کبھی بھی عزت ومنزلت کے مقام ومرتبہ پر فائز نہیں ہوسکتے۔

بات یہ ہے کہ معیاری کاغذ پر قرآن مجید کی طباعت جتنا اہم مسئلہ ہے اس سے کہیں زیادہ اہم مسئلہ شہید قرآنی اوراق کی حفاظت کاہے۔علماء نے مقدس اوراق کی حفاظت کے مختلف طریقے بیان کئے ہیں۔ ایک طریقہ مقدس اوراق کو نذر آتش کرنے کا ہے۔تاہم اس میں فتنے کا خطرہ ہے لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔دیگر طریقے مقدس اوراق کو زمین میں دفنانے یا پانی میں بہانے کے ہیں۔مقدس اوراق کو زمین میں دفنانے کے لئے شہباز شریف کے دور حکومت میں محکمہ اوقاف نے رایؤنڈ روڈ پر 13کنال اراضی پر مشتمل6عدد قرآن ویلز تعمیر کئے تھے ان میں سے ہر کنویں کی گہرائی 45فٹ اور گولائی26فٹ ہے۔گو کہ مقدس اوراق کی حفاظت کا یہ اچھا طریقہ ہے لیکن سوال یہ ہے مقدس اوراق کو دفنانے کا سلسلہ کب تک چل سکتا ہے۔۔۔؟اس لئے کہ یہ قرآن ویلز کئی سال قبل مکمل طورپربھرچکے ہیں یہاں تک کہ ان میں ایک بوری کی بھی گنجائش نہیں رہی۔

مقدس اوراق کو حفاظت کی خاطر پانی میں بھی بہایاجاتاہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ جس پانی میں مقدس اوراق بہائے جائیں۔۔۔۔ وہ صاف ستھرا ہو،وافر ہو،گندااور ناپاک نہ ہواور نہ ہی اتنا کم ہو کہ اوراق پانی میں بہنے کی بجائے کیچڑاورگارے میں پھنس جائیں۔عام آدمی شائد یہ بات نہ سمجھ سکے مگر حقیقت یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقدس اوراق کی حفاظت ایک سنگین ترین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔اس لئے کہ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔صرف لاہور شہر کی بات کی جائے تو قیام پاکستان کے وقت اس کی آبادی چار لاکھ تھی جو اب ایک کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔لہذا بڑھتی ہوئی آبادی کی نسبت سے جہاں قرآن مجید،سیپارے اور قاعدے پڑھنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوچکا ہے وہاں ظاہر بات ہے شہادت کا گراف بھی بڑھ گیا ہے۔۔ اس پر ستم یہ ہے کہ ناشران قرآن مجید،سیپاروں اور قاعدوں کی اشاعت کے لئے غیر معیاری اور ہلکہ کاغذاستعمال کر رہے ہیں بلکہ اکثر ناشران نیوز پرنٹ(اخباری کاغذ) پر قرآن مجید چھاپ رہے ہیں۔ یہ کاغذ بہت جلد پھٹ جاتا ہے جس وجہ سے قرآن مجید،سیپاروں اور قاعدوں کی شہادت کا گراف بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ جس بڑی تعداد میں مقدس اوراق شہید ہو رہے ہیں اس نسبت سے ان کی حفاظت کا انتظام موجود نہیں۔

اس سارے معاملے کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگ لاہور شہر کے درمیان سے گزرنے والی نہر میں مقدس اوراق بہانے پر مجبور ہیں۔اگر چہ علماء نے بہتے پانی میں مقدس اوراق بہانے کی اجازت دی ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پانی صاف ستھرا اور وافر ہو۔لاہور شہر میں بہنے والی نہر بی آر بی نہرسے نکلتی اورشہر کی گنجان ترین آبادیوں سے ہوتی ہوئی ٹھوکر نیاز بیگ سے آگے چلی جاتی ہے۔یہ نہر چھوٹی ہے،پانی بھی کم ہے مزید یہ کہ اس میں نالیوں، گٹروں کا گندا،بدبودار اور متعفن پانی وافر مقدار میں شامل ہوتا ہے۔اسی طرح نہ تواس نہر کے پانی کا رنگ ٹھیک ہے اور نہ ذائقہ۔اب ہوتا یہ ہے کہ لوگ اس میں حفاظت کی غرض سے مقدس اوراق ڈال دیتے ہیں لیکن پانی ناکافی ہونے کی وجہ سے شہید قرآن مجید،سیپارے، قاعدے بدبودار،گندے کیچڑ میں دھنس اور پھنس جاتے ہیں۔ جب نہر کا پانی خشک ہوتا ہے تو اس کے بعد پنجاب قرآن بورڈ کے رضاکار نہرسے کیچڑ اور بدبودار مٹی میں لتھڑے ہوئے قرآن مجید نکالتے ہیں تو اس وقت مقدس کتاب کی بے ادبی اور بے توقیری دیکھ کر انسان لرز اٹھتا ہے۔بلاشبہ لوگ اپنی طرف سے نیک نیتی کے جذبے سے مقدس شہید اورق اس نہر میں ڈالتے ہیں لیکن اس نہر میں قرآنی اوراق کی جو بے ادبی اور توہین ہوتی ہے کاش لوگ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو کبھی بھی قرآنی اوراق اس نہر میں نہ ڈالیں۔

ہمارے ہاں معمول ہے کہ تمام اخبارات او ر جرائد قرآن مجید کی آیات یاآیات کا کچھ حصہ یا آیت کا ترجمہ یا اسماء الحسنا ثواب اور نیک نیتی کے جذبہ سے شائع کرتے ہیں۔دیکھنے میں آتاہے کہ ان اخبارات اورجرائد کاکمرشل استعمال کیاجاتاہے۔ان سے گاڑیاں صاف کی جاتیں،گھروں،دکانوں کے شیشے چمکائے جاتے،ان اخبارات میں روٹیاں یا پکوڑے فروخت کئے جاتے اوردیگرکئی طریقوں سے ان کاکمرشل استعمال کیاجاتاہے جوکہ سراسرتوہین،بے ادبی اوراللہ کے عذاب کودعوت دینے کے مترادف ہے۔پاکستان اگرچہ اسلام کے نام پر قائم ہواہے اسلام کے نام پرقائم ہونے والے ملک میں قرآنی آیات کے ترجمہ اوراسماء الحسنا کی توہین افسوسناک امرہے۔لہذا ضروری ہے کہ حکومتی اورعوامی سطح پر مقدس شہید اوراق کاتحفظ یقینی بنایاجائے اوران کے کمرشل استعمال پرپابندی لگائی جائے۔پاکستان اسلام کے نام پرقائم ہواہے لیکن اسلام اورقرآن کے نام پرقائم ہونے والے ملک میں ابھی تک شہیدمقدس اوراق کے تحفظ کاخاطرخواہ انتظام نہیں کیاجاسکاجوکہ ایک المیہ سے کم نہیں۔ وزیراعظم عمران خان پاکستان کوریاست مدینہ بنانے کے دعویدارہیں لیکن حالت یہ ہے کہ ایسے تمام اخبارات،کتب،رسائل اورکاغذات جن پرقرآنی آیات کاترجمہ یااسماء الحسنایارسول ﷺ کے نام چھپے ہوئے ہوں کے کمرشل استعمال پرمستقل پابندی لگانے کی بجائے دفعہ144-6کے ذریعے عارضی پابندی لگائی گئی ہے اوروہ بھی صرف اسلام آبادکی حدتک مقامی مجسٹریٹ کے ذریعے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ یہ حکم پورے ملک کے لئے نافذالعمل ہودفعہ 144-6کے ذریعے عارضی پابندی لگانے کی بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے مستقل قانون سازی کی جائے اورخلاف ورزی کرنے والوں کوقرارواقعی سزادی جائے اس لئے کہ قرآن مجید،شہیدمقدس اوراق کااحترام ہرشہرہرمقام ہروقت اورہرجگہ کے لئے ہے۔

sobanarshad15@gmail.com

شہید مقدس اوراق کی حفاظت ایمان کاحصہ ہے

غیر معیاری کاغذکے استعمال کی وجہ سے قرآن مجیداور سیپاروں کی شہادت کا گراف تیزی سے بڑھ رہاہے

قرآن مجیدکے ساتھ محبت کاحق یہ بھی ہے کہ اس کی عمدہ طباعت واشاعت کی جائے

مزید : ایڈیشن 1


loading...