تقریب بیاد سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

تقریب بیاد سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

  



(28ستمبر 2019ء)

حافظ ساجد انور:

سید مودودیؒ نے جو ویژن دیا، وہ صرف نظری اور تصنفیات تک محدود نہیں بلکہ اس نظریے کے مطابق پوری ایک جماعت بنا کر اسے عملی میدان میں اتارا۔ جوخواب سید مودودیؒ نے دیکھا وہ ابھی پوری طرح شرمندہئ تعبیر نہیں ہوا۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اس ملک کے اندر اسلامی نظام قائم ہوتادیکھیں جو سید مودودیؒ کا ویژن اور مشن تھا۔

مجیب الرحمن شامی:

مولانا مودودی کی شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ وہ ایک محقق، مورخ، مفسر، محدث اور ایک سیاست دان بھی تھے۔ انھوں جو نقوش منزل طے کیے ہیں، ان پر ہماری توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔ ہمیں مولانا مودودی کے نام پر ایک یونیورسٹی قائم کرنی چاہیے جس میں قدیم و جدید علوم سے آراستہ افراد تیار ہوں۔

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ:

سید ابوالاعلیٰ مودودی بڑی دلنواز، خوشگوار اور شگفتہ شخصیت کے مالک تھے۔ نوجوان سید مودودی نے ”الجہاد فی الاسلام“ لکھ کر دنیا کو پیغام دیا کہ اسلام کسی طرح کے کسی معاملے میں معذرت نہیں کرتا۔

مولانا مودودی انتہائی جرأت کے مالک تھے۔ ان کی کھال میں خوف تو تھا ہی نہیں۔ خوف انھیں چھو کر نہیں گزرا تھا۔ خود مولانا لال جوڑا پھانسی کا پہن کر خراٹے لے کر سوتے ہیں۔ ان کے پیروکاروں میں سے آج تک کوئی شخص جیل سے معافی مانگ کر نہیں آیا۔

الطاف حسن قریشی:

میں نے اردو ادب کے استاد سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں آج کا سب سے بڑا ادیب کون ہیڈ انھوں نے کہا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ ان کی تحریر میں جو روانی اور تاثیر ہے، وہ جس طرح بات لکھتے ہیں قاری ان کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔

مجھ میں لکھنے کی جو تھوڑی بہت صلاحیت پیدا ہوئی، وہ مجھے مولانا کی تحریروں سے ہوئی۔ میں نے انھیں بار بار پڑھا۔ وہ اس عہد کے بڑے مجدد تھے۔انھوں نے انقلاب برپا کیا۔ نیا علم الکلام دیا۔ ان کے نام یونیورسٹی قائم ہونی چاہیے بلکہ ان کے نام پر ایک چینل بنانے کی ضرورت ہے کیوں یہ میڈیا کا دور ہے۔

سینیٹر سراج الحق:

مجیب الرحمن شامی صاحب کی طرح میری بھی مولانا مودودی سے روزانہ ملاقات ہوتی ہے۔ جو شخص تفہیم القرآن، دینیات اور خطبات پڑھتا ہے تو اسکی سید مودودی سے ملاقات ہو جاتی ہے۔

سید مودودی ایک نظریہ، سیدمودودی ایک جہد مسلسل ہے، وہ ایک روشنی اور خوشبو ہے۔ سید مودودی ایک ویژن کا نام ہے۔ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں جماعت پر پابندی لگی تو محبوبہ مفتی کا یہی تبصرہ تھا کہ جماعت اسلامی ایک روشنی ہے، آپ روشنی کو قتل نہیں کر سکتے۔ جماعت اسلامی ایک خوشبو ہے، آپ اس کو گرفتار نہیں کر سکتے۔

حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی ایک نظریہ سے آپ ایک فرد کو ختم کر سکتے ہیں، نظریے کو نہیں۔یہی وجہ ہے آج سید مودودی کا نظریہ چاروں طرف پھیل رہا ہے۔

حافظ محمد ادریس:

ہم حق کا کلمہ سربلند کرتے رہیں گے۔ کسی قسم کے خطرات اور وارننگ ہمارے لیے نئی نہیں۔ اللہ اپنے دین کا محافظ ہے۔ ہم نے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس معاملے میں جماعت کا دستور اور سید مودودی کی فکر بالکل واضح ہے۔ ہم اپنے معزز مہمانوں کی تجاویز پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ان شاء اللہ

محمد انور گوندل:

زندہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔ اسلاف کے کارناموں کو نئی نسل تک پہنچانا ہمارا فرض ہے جو ملک و قومیں اپنی تاریخ کو بھول جاتی ہیں، ان کا جغرافیہ بھی قائم نہیں رہتا۔ سید مودودی کی بڑی صفت یہ تھی کہ دنیا کی کوئی طاقت انھیں مشتعل نہ کر سکی۔انھوں نے ہر تنقید کو حوصلے سے برداشت کیا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...