انگریز کے نظام تعلیم کا خاتمہ اور یکساں نصاب تعلیم

انگریز کے نظام تعلیم کا خاتمہ اور یکساں نصاب تعلیم
انگریز کے نظام تعلیم کا خاتمہ اور یکساں نصاب تعلیم

  



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انگریزوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہمارا نظام تعلیم تباہ کیا۔ایک ہی ملک میں تین طرح کے نصاب چل رہے ہیں۔یہ ناانصافی ہے۔ تعلیم سے دوری کی وجہ سے مسلمان تنزلی کا شکار ہوئے۔ مدارس کے طلبہ کو بھی جدید تعلیم کے ذریعے اوپر آنے کا موقع ملے گا۔ اس وقت ملک بھر میں تین طرح کے ”نصاب تعلیم“ چل رہے ہیں۔(1)، پبلک،پرائیویٹ، اُردو میڈیم سکولز،(2) پرائیویٹ، انگلش میڈیم سکولز، (3) دینی مدارس……ہمارے پبلک پرائیویٹ، اُردو میڈیم سکولز کو حکومت اور پرائیویٹ ادارے(اُردو میڈیم) چلا رہے ہیں۔ان میں ایک خاص قسم کا ”نصاب تعلیم“ ہوتا ہے، جس کی تاریخ کچھ یوں ہے: پاکستان کے قیام کے بعد، پہلی تعلیمی کانفرنس کراچی میں 27نومبر سے یکم دسمبر1947ء تک منعقد ہوئی، جس میں نظریہ اسلام کو اُجاگر کرنے کے لئے زور دیا گیا اور مسلم طلبہ کے لئے، مذہبی ہدایات پر عمل درآمد کرنا لازم قرار دیا گیا۔ اقلیتوں کو اپنی مرضی کے مطابق اپنی مذہبی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔

اس کے بعد1959ء میں ”شریف کمیشن رپورٹ“ آئی، جس میں ”ایک قوم کے تصور“ کو مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی اسلامی طریق ِ زندگی کو اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ 1973ء کے آئین کا آرٹیکل31 اسی بات کی وضاحت کرتا ہے تاکہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلامی قالب میں ڈھال سکیں۔ قرآن حکیم کی تعلیم اور اسلامیات بطورِ مضمون لازمی قرار دیا گیا۔قرآن پاک کی طباعت صحیح کرنا (یعنی غلطیوں سے پاک کرنا) لازمی امر ہو گا۔اس کے ساتھ ہی اسلامی اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ہو گا۔اس کے بعد تعلیمی پالیسی(1972-80ء) آئی، جس میں درج بالا امور کو جاری رکھنا قرار دیا گیا اور دسویں جماعت تک اسلامیات(لازمی) قرار پائی اور اس بات کی یقین دہانی پر زور دیا گیا کہ نصاب کا کوئی حصہ اسلام کی ثقافتی اور اخلاقی اقدار کے منافی نہ ہو گا۔

1979ء میں اعلان کیا گیا کہ طلبہ کے دِلوں اور ذہنوں میں اسلام کی گہری وفا داری پیدا کی جائے گی۔ اسی کے پیش ِ نظر تمام ”نصاب“ کی نظرثانی کی جائے گی۔ اس میں اسلام، نظریہئ پاکستان اور تدریس ِ عربی (مڈل سطح تک) اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو لازمی قرار دیا گیا۔ مکتب،مسجد، سکولوں کو قرآنِ حکیم کی ناظرہ تعلیم سپرد کی گئی۔سکینڈری سکول کا امتحان دینے سے پہلے، مکمل ناظرہ قرآن کا پڑھنا، لازمی قرار دیا گیا۔ 1992ء اور1998-2010ء تک اسے جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔

اس پالیسی میں اسلام کی بنیاد کو مضبوط کرنا ہی ملک کی بقاء قرار دیا گیا،ناظرہ قرآن پہلی سے آٹھویں جماعت تک، جبکہ ترجمہ اور تفسیر منتخب آیات کا سکینڈری اور ہائر سکینڈری سطح تک پیش کیا گیا۔2009ء کی تعلیمی پالیسی میں تدریس اسلامیات کے مقاصد میں مسلم طلبہ کو، اسلام کے بنیادی اصول، معاشرے کی اصلاح کا مقصد، اور سوسائٹی کو قرآن و سنت کے اصولوں پر استوار کرنے کا اعادہ کیا گیا۔پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک تدریس اسلامیات لازمی قرار دی گئی، حتیٰ کہ اس کی تدریس پیشہ وارانہ اداروں میں بھی لازمی قرار دی گئی۔ علم کے حصول میں اسلامی روایات کو اس کا لازمی جزو قرار دیا گیا۔ تعلیم کی اہمیت ہر دو نظام ہائے تعلیم نارمل اور مذہبی تعلیم میں قرآن و حدیث کی جھلک لازمی قرار دی گئی۔

ان تمام مقاصد کے حصول کے لئے اسلامیات، عربی، اخلاقی تعلیم نظامِ تعلیم کا لازمی حصہ قرار دیا گیا تاکہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کیا جا سکے۔البتہ2006ء میں بنیادی قرآن و حدیث وغیرہ کی تعلیم کو کسی حد تک ختم،بلکہ نصاب میں کم کر دیا گیا۔ ناظرہ قرآن، ترجمہ قرآن۔حدیث کو وہ اہمیت نہ دی گئی جیسا کہ اسلامیات کی لازمی تعلیم کو تدریسی پروگرام میں دی جانی چاہئے تھی۔عربی کو لازمی نہ کیا گیا اور نصاب میں اس کی صحیح روح کے مطابق نہ رکھا گیا۔تربیت یافتہ اساتذہ (تجوید القرآن اور عربی اخلاقی تعلیم کے لئے) ہائر سٹڈیز کے مواقع فراہم نہ کئے گئے۔ (نہ ملک کے اندر اور نہ باہر) تدریس اسلامیات میں تحقیق کا کام، سِرے سے کیا ہی نہیں کیا گیا،جس سے نئے حالات کے مطابق اسلامی تعلیم کی تعبیر کی جا سکے۔ عربی کو اسلامیات کے اندر سمو کر مڈل سے لے کر ہائر سکینڈری تک لازمی کیا جائے گاتاکہ قرآن حکیم کی تعلیم طلبہ سمجھ کر پائیں۔ اسلامی سٹڈیز کا (اعلیٰ کورس) بطورِ اختیاری مضمون رکھا جا سکے گا (سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح تک)۔

عربی کو بھی بطورِ اختیاری مضمون سکینڈری اور ہائر سکینڈری میں پیش کیا جائے گا تاکہ عربی ادب اور گرائمر پر عبور حاصل کیا جا سکے، جس سے ”زبان“ پر عبور حاصل ہو گا، تمام ممکنہ ذرائع کو اختیارکیا جائے گا،جس سے عربی اور اسلامیات کے لئے ملکی اور غیر ملکی وظائف دینے کا بندوبست ہو سکے۔امن، برداشت،انسانی حقوق کے سنہری اصولوں کو اُجاگر کیا جائے گا(دُنیا بھر میں)۔مسلم اُمہ کا تصور اور عالمی بھائی چارہ کی ترویج کے لئے اسے نصاب اور درسی کتاب کا حصہ بنایا جائے گا۔اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کو عربی، اسلامیات، تجوید قرأت کے لئے مقرر کیا جائے گا۔اسلامیات، عربی،اخلاقی تعلیم کا نصاب سرکاری سکولوں اور پرائیویٹ اداروں میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے اختیار کیا جائے گا۔ زائد مطالعہ کی کتب، چارٹس، کتب (اسلامی) اچھی کوالٹی کی چھپوائی جائیں گی (سکولوں اور مدارس کے لئے)۔ تدریس قرآن کا معاملہ، پارلیمینٹ میں پیش کیا جائے گا تاکہ اسے پورے پاکستان میں لاگو کیا جا سکے۔تحقیقی تدریسی اسلامی،خاص طور پر ہائر ایجوکیشن سطح پر، قومی، مقامی اور بین الاقوامی سطح تک لے جائی جا سکے۔

اب بات کرتے ہیں ”پرائیویٹ میڈیم سکولوں“ کی، جس میں او لیول اور اے لیول کے مضامین(انگریزی) میں پڑھائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ اسلامیات بھی انگریزی میں ہی پڑھائی جاتی ہے۔ان سکولوں کا الحاق کیمرج / آکسفورڈ یونیورسٹیوں سے ہوتا ہے۔طلبہ بھاری بھرکم فیس یہاں بھی دیتے ہیں اور امتحان دینے کے لئے بھی میں بیرونی ملک پاؤنڈ بھیجتے ہیں۔اب ہم ایک نظر دینی مدارس کی تاریخ پر ڈالتے ہیں۔اس میں مولانا نظام الدین سہانوی ؒ تھے، اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں ایک دینی نصاب کا اجراء کیا تھا، جس میں قرآن و حدیث (سنہ) فقہ،اسلامی تاریخ وغیرہ کے علاوہ علم فلکیات، فزکس، کیمسٹری، ریاضی، جغرافیہ اور دیگر عصری علوم شامل تھے، انگریز کی ایسٹ انڈیا کمپنی 1608ء میں ہندوستان آ گئی اس کے بعد انگریز آیا ایجوکیشن ایکٹ1835ء کے تحت لارڈ میکالے کا نظام نافذ کیا گیا 1866ء میں مولانا محمد قاسم نانوتوی نے دارالعلوم دیوینہ کی بنیاد رکھی اس میں مولانا نظام الدین کا آدھا نصاب اٹھا جبکہ دوسرا نصف جو سائنس سے متعلق تھانظر انداز کر دیا گیا۔

یہ ایک قسم کا خیر کا نظامِ تعلیم تھا، کیونکہ انگریز نے اپنے لارڈ میکالے کا نظام تعلیم کا اجراء کیا اور مسلمان، علماء، زعماء نے اپنے دین کی بنیادی باتوں کو بچانے کے لئے،دارالعلوم دیو بند پر ہی کفایت کی (جو کہ حالات کے مطابق نہایت ہی مستحسن اقدام تھا)۔ مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر، سر سید احمد خان سے نہ رہا گیا، انہوں نے 1875ء میں ایم اے او (محمڈن اینگلو اورینٹل) کالج کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں 1920ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کا درجہ مل گیا۔ ایک وقت یہ بھی ہوا کہ ”دیوبند“ سے فارغ التحصیل طلبہ۔ علی گڑھ کالج میں کچھ عرصہ گزارتے اور اسی طرح علی گڑھ کے گریجوایٹس ”دارالعلوم دیو بند“ میں کچھ وقت گزارتے تھے، تاکہ دونوں طرح کی تعلیم (دینی و عصری علوم) سے شناسا ہو سکیں۔ قیامِ پاکستان کے کچھ عرصہ بعد، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ؒ سے کسی نے پوچھا کہ ہمارے نظام تعلیم (دینی مدارس اور عصری اداروں) میں وہ تبدیلی نظر نہیں آ رہی، جس کی ہم توقع کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ جب پاکستان بنا تھا تو اس وقت سے ہی ہمیں وہ نظام تعلیم، جو تیسری اور چوتھی صدی ہجری (900ء،1000ء) میں مراکو (مراکش) اور مصر میں تھا، اس کو لاگو کیا جانا چاہئے تھا۔ یاد رہے! وہ وقت یورپ کا تاریک اور Dark Agesکہلاتا تھا،جبکہ ہم مسلمان، علم کی روشنی سے منور ہو رہے تھے۔

ہمارے ہاں ابن رشد، جابر بن حیان اور دیگر علماء،انہی اداروں سے پیدا ہوئے۔ یہ وہ ادارے تھے جن میں (دینی عصری علوم) ایک ہی چھت کے نیچے پڑھائے جاتے۔ اس کے بعد بھی ہمیں بڑے بڑے علماء کے نام ملتے ہیں۔ یہ تمام حضرات اپنے اپنے فن کے ماہر تھے۔ کوئی فزکس میں، کوئی کیمسٹری میں، کوئی ریاضی میں، کوئی سائنس میں، کوئی تاریخ میں، کوئی دیگر سماجی علوم میں۔ یہ دور ہماری تعلیم کا تابناک دور تھا۔ تیسری صدی ہجری سے لے کر بیسویں صدی ہجری تک……اب دینی مدارس کے ادھورے نصاب اور عصری اداروں کے ادھورے نصاب کو مکمل کرنا ہے۔دینی مدارس میں عصری علوم اور عصری اداروں میں دینی علوم کو شامل کرکے۔ دونوں طرح کی تعلیم کو ایک سطح پر لا کر ”یکساں نصاب تعلیم“ رائج کرنا ہے جو کہ وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اب تو ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سے آگے مصنوعی ذہانت، کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ گویا (مشینی ذہانت) کا دور آ رہا ہے۔ آگے آنے والا زمانہ اسی ”مشینی ذہانت“ کا زمانہ ہو گا۔

ہمیں اس ٹیکنالوجی کو تحصیل کی سطح تک لے جانا ہے اور ”اردو“ کو ذریعہ ئ تعلیم بنانا ہے۔ایک وقت آئے گا۔ پاکستانی قوم کو اپنے تشخص کو ابھارنے اور اپنے مشاہیر کی راہ پر چلنے کا موقع ملے گا۔ پھر ان شاء اللہ تعالیٰ ابن رشد۔ جابر بن حیان، ابن ِ خلدون وغیرہ جیسے علماء پیدا ہوں گے اور قوم آگے سے آگے ترقی کرے گی…… ایمانی اعتبار سے بھی اور سائنس ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ؓبھی۔ معاشی خود انحصاری آئے گی اور اللہ تعالیٰ کی ذات کا استخصار پیدا ہو گا تو اس سے فصائل (اچھی عادتیں) پیدا کرنے میں آسانی اور رذائل (بری عادتوں) سے بچنے میں آسانی پیدا ہو گی۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ)۔

مزید : رائے /کالم