قول وفعل میں تضاد کی ممانعت

قول وفعل میں تضاد کی ممانعت

  



”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص میں چار باتیں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چاروں باتوں میں سے کوئی ایک بات پائی جائے اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے۔ اور وہ چار باتیں یہ ہیں جب امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے، بات کرے توجھوٹ بولے، عہد کرے تو اسے توڑ دے، جھگڑے تو بدزبانی کرے۔“متفق علیہ

اللہ تعالیٰ نے اسلامی تعلیمات کے ذریعہ زندگی کے جو آداب سکھائے ان میں سے ایک ادب قول و فعل میں مطابقت ہے۔

احکام اسلام میں اس ادب کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اس کی خلاف ورزی کو منافقت قرار دیا گیااور نفاق کی نشانیوں میں شمار کیا گیا۔

منافقت، منافق یا نفاق عربی زبان کے الفاظ ہیں اور یہ اصل میں نفق سے بنے ہیں عربی میں نفق دو منہ والی سرنگ کو کہتے ہیں، اس لیے منافقت دو غلے پن کو کہتے ہیں۔ اندر کچھ اور ہو اور ظاہر میں کچھ اور، ظاہر و باطن ایک جیسے نہ ہوں تو اسے منافقت کہتے ہیں اور جس انسان کے اندر یہ انداز پایا جائے اسے دور خایا دو چہروں والا کہا جاتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق منافقت دو طرح کی ہوتی ہے ایک اعتقادی اور دوسری عملی، اعتقادی منافقت تو یہ ہے کہ کوئی انسان دل سے اسلام کی سچائی اور اس کے حق ہونے کو نہ مانتا ہو صرف زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ ایسے لوگوں کا تذکرہ سورۃ البقرہ کے دوسرے رکوع میں کیا گیا۔ ان کے قول و فعل میں تضاد تھا‘ جب ایمان والوں سے ملتے تو کہتے ہم ایمان لائے اور جب کفار کے پاس جاتے تو کہتے ہم تو ان کا مذاق اڑا رہے تھے ورنہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ ایسے منافق حقیقت میں کافر ہی ہوتے ہیں بلکہ ان کا جرم کافر سے بڑھ جاتا ہے۔

دوسرے قسم کے عملی منافق ہیں جو دل سے اسلام کی سچائی اور اس کے حق ہونے کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اپنی انسانی کمزوریوں کی وجہ سے احکام اسلام پر عمل کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ ایسے منافق کی اصلاح تربیت کے ذریعہ کی جا سکتی ہے۔

اب یہ کام بہت قابل توجہ ہے کہ نفاق اور منافقت کو کیسے پہچانا جائے۔ جیسے کسی بیماری کی کچھ علامات، نشانیاں ہوتی ہیں ان نشانیوں کو دیکھ کر معالج بیماری تشخیص کرتا ہے اور پھر اس کا علاج شروع کر دیتا ہے۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی چار نشانیاں بتائی ہیں اور فرمایا کہ اگر کسی شخص کے اندر ان میں سے کوئی ایک نشانی بھی پائی جائے تو اس کے اندر نفاق کی ایک علامت پائی گئی۔ پہلی علامت یہ بیان فرمائی اذا حدث کذب جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ دوسری نشانی یہ بتائی اذا وعد ا خلف وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں اذا عاہد غدر جب معاہدہ کرے تو غداری کرے۔ تیسری نشانی نفاق کی یہ بتائی اذا اوتمن خان جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے اور چوتھی نشانی یہ بتائی اذا خاصم فجر جب جھگڑے تو بدزبانی کرے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمائی گئی ان نشانیوں میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کی بنیاد قول وفعل میں تضاد ہے۔

دیکھئے ایک شخص ایک بات کرتا ہے خبر کے طور پر، حالانکہ ایسا نہیں ہوا تو اس شخص کا قول جھوٹ ہو گا اور یہ نفاق کی نشانی ہے۔ پھر کوئی شخص وعدہ کرے یا باہمی معاہد کرے اور کہے میں یہ کروں گا یا میں اس بات کی پابندی کروں گا پھر وہ بات پورا نہ کرے یا معاہدہ سے پھر جائے‘ یہ بھی قول و فعل کا تضا ہوا۔ یا کسی شخص کے پاس امانت رکھی جائے گویا کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس کی حفاظت کروں گا پھر وہ امانت میں خیانت کرنے لگے تو اب اس کی بات اور اس کے عمل میں تضاد آگیا اور یہ بھی نفاق کی نشانی ہو گئی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ صف کی دوسری اور تیسری آیت میں ارشاد فرمایا: ترجمہ: ”یعنی اے ایمان والو! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ بات انتہائی ناپسندیدہ ہے کہ ایسی بات کہو جو نہ کرو“۔

اس آیت سے ایک اور پہلو بہت واضح طور پر سامنے آرہا ہے کہ اس میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی کہ جو کام تم نے کرنا نہیں اس کا دعویٰ کیوں کرتے ہو۔ لہٰذا ایسے کام کا دعویٰ کرنے کی ممانعت معلوم ہوئی، جس کو کرنے کا عزم اور ارادہ ہی انسان کے دِل کے اندر نہ ہو، کیونکہ یہ دعویٰ جھوٹا ہو گا۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے انسان کسی کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے دِل میں کام کرنے کا عزم بھی ہوتا ہے، لیکن وہ کام کسی وجہ سے نہیں ہوتا تو پھر بھی انسان پر قول و فعل میں تضاد کا الزام آجاتا ہے۔ اس لئے اللہ رب العزت نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ اگر دِل میں کسی کام کرنے کا ارادہ اور پختہ عزم ہو پھر بھی اپنے نفس اور اپنی ذات اور اپنی قوت پر اعتماد کرتے ہوئے انسان براہِ راست یہ نہ کہے کہ میں یہ کام کروں گا، بلکہ یوں کہے ان شاء اللہ میں یہ کام کروں گا، یعنی اگر اللہ نے چاہا۔

قول و فعل میں تضاد کا ایک پہلو تو دعویٰ کا تھا۔ لیکن دوسرا پہلو دعوت کا ہے، یعنی کوئی شخص دعوت و تبلیغ کا کام کرتا ہے وعظ و نصیحت کرتا ہے لوگوں کو بھلائی کا کام کرنے کی دعوت دیتا ہے، لیکن خود نہیں کرتا۔ یہ بھی قول و فعل کے تضاد کی ایک شکل ہے، لیکن یہ نفاق کی نشانیوں میں شمار نہیں،بلکہ عملی کمزوریوں میں شمار کی جاتی ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا: تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو دعوت و تبلیغ کے کام میں واقعی یہ بڑی کمزوری شمار ہوتی ہے۔ اس کا منفی اثر یہ ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا صحیح طریقے سے اثر نہیں ہوتا۔

لیکن قول و فعل کا وہ تضاد جو نفاق کی نشانیوں میں شمار کیا گیا اس کے نقصان دینی اور دنیوی اعتبار سے بہت شدید ہیں۔ پہلا نقصان تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے بری حالت دو چہروں والوں،یعنی منافقین کی ہو گی، معاشرتی نقصانات میں سے سب سے بڑا نقصان قول و فعل میں تضاد رکھنے والے کو یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے اس کی وقعت ختم ہو جاتی ہے اور اسے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا لوگ ایسے شخص پر اعتماد نہیں کرتے۔ اعتماد کی دیوار بڑی محنت اور بہت زیادہ وقت میں تعمیر ہوتی ہے، لیکن اس دیوار کو گرانے کے لئے قول و فعل کے تضاد کے صرف ایک دھکے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے معاشرتی زندگی میں انسان کو اپنے قول و فعل میں مطابقت کی بہت فکر کرنی چاہئے۔ تاکہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکے اور معاشرے کے افراد کا باہمی اعتماد حاصل رہے۔

اللہ رب العزت ہمیں اپنے قول و فعل میں مطابقت پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید : ایڈیشن 1


loading...