ختم نبوت کانفرنس

ختم نبوت کانفرنس

  



نبی کریمﷺنے فرمایا" انا خاتم النبین لا نبی بعدی " ترجمہ: میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کے ایمان کی اساس ہے آپﷺ نبی آخرالزمان ہیں اور آپﷺپر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیاآپﷺ کی نبوت کا منکر کافر اور مرتد ہے۔

جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ بھی نبی کریم ﷺ کے زمانے سے ہی چل نکلا لیکن آپﷺ کے جانثار پیروکاروں نے ان کذابوں کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ بر صغیر میں بھی انگریز کی سرپرستی میں ایک جھوٹا نبی منظر عام پر آیا جس کا نام مرزا غلام احمد تھا۔ امیر شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری ؒ کی قیادت میں اس جھوٹے دعویدار کے خلاف جدوجہد کا آغاز کر دیا گیا اس وقت کی حکومت نے نہ صرف قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے انکار کر دیا،بلکہ احرار کے تمام لیڈروں کو جیل بھیج دیا۔

اس کے بعد 1973ء میں آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک عظیم الشان فیصلہ کیا جس سے عاشقان رسولؐ اور مجاہدین احرار کو بہت حوصلہ ملا۔ دوسری طرف مئی 1974ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبا کا ایک ٹرپ جو کہ چناب ایکسپریس پر پشاور جا رہا تھا ربوہ اسٹیشن پر رکا تو قادیانیوں نے دستور کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کی خرافات پرمشتمل لٹریچرتقسیم کرنا شروع کر دیا،جس سے نوجوان طلباء میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ انہوں نے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگانا شروع کر دیئے یہ طلباء واپسی سفر میں جب پشاور سے ربوہ پہنچے تو قادیانی غنڈوں نے بیہمانہ تشدد کرنا شروع کر دیا یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئی اور ہزاروں لوگ ربوہ اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ اس واقعہ سے تحریک ختم نبوت نے پوری طاقت کے ساتھ ایک اور جنم لیا۔ اس واقعہ کے بعد 9 جون 1974ء کو لاہور میں مولانا محمد یوسف بنوری کی صدارت میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس ہوا،جس میں مولانا محمد یوسف بنوری کو کنویر مقرر کیا گیا۔ اس اجلاس میں مولانا مفتی محمود سمیت چوٹی کے علماء شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ طلبا تنظیموں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جن میں انجمن طلباء اسلام، جمعیتطلباء اسلام، تحریک طلبا اسلام، اور اسلامی جمعیت طلبا کی نمایاں تھیں۔ بالآخر اس وقت کی حکومت نے گٹھنے ٹیک دیے اور وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے اپنے ایک نشری خطاب میں کہا ، میں مسلمان ہوں جس پر مجھے فخر ہے ختم نبوت پر میرا ایمان ہے ان شاء اللہ عوام کے تعاون سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا یہ اعزاز بھی مجھے حاصل ہو گا اور روز محشر میں اسی کام کے باعث سرخرو ہوں گا “…… جس کے بعد قومی اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی جو پورے ایوان پر مشتمل تھی، جس نے فریقین کی بات سن کر فیصلہ کرنا تھا مجلس عمل کی طرف سے قومی اسمبلی میں مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالحق، مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے مرزا ناصر پر کئی روز تک جرح کی اور مرزائیت کی لاہوری شاخ کے امیر پر مسلسل کئی گھنٹے بحث کی بالآخر 7ستمبر کو 4 بجکر30 منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کر دیا گیا یہ دن ہزاروں شہدائے ختم نبوت کی قربانیوں کی فتح کا دن تھا۔ عاشقان ختم نبوت کے شہدا کی عظمت کو سلام پیش کرنے، نشتر میڈیکل کالج کے طلبا کی دینی و ملی غیرت و جمیت کی یاد میں اور مسلمانوں کو قادیانیت کی مکروہ اور مکارہ نہ چالوں سے بچانے کے لئے قادیانیوں کے ہیڈکوارٹر ربوہ کے بالکل نزدیک فدایان رسولؐ ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں سالانہ دو روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس 10اکتوبر کو مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوئی اور آج 11اکتوبر کو جاری رہے گی، جس میں ملک بھر سے علماء، مشائخ، قائدین، قانون دان اور دانشور حضرات توحید باری تعالیٰ، سیرت خاتم الانبیاء، ختم نبوت، عظمت صحابہ ؓ، اہل بیتؓ، حیات عیسیٰ ؑ ظہور مہدی اور اتحاد امت جیسے اہم موضوعات پر خطاب کریں گے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...