وہ شان سلامت رہتی ہے

وہ شان سلامت رہتی ہے
وہ شان سلامت رہتی ہے

  



چند دن پہلے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے شکایت کونسل اسلام آباد کی سفارش پرمعروف تجزیہ کار اور روزنامہ جنگ کے کالم نگار جناب حفیظ اللہ نیازی پر جیو نیوز یا کسی بھی دوسرے چینل پر کسی بھی پروگرام میں شرکت کرنے کے لئے ایک ماہ کے لئے پابندی عائد کر دی۔ اس زبان بندی کے نتیجے میں جناب حفیظ اللہ نیازی کسی بھی چینل کے کسی بھی پروگرام میں اظہار خیال نہیں کر سکیں گے۔ ان کے خلاف شکایت کئی لحاظ سے معروف موجودہ حکومت کے بہت بڑےATM، سینٹر اور وفاقی وزیر محترم اعظم سواتی صاحب کی طرف سے تھی کہ جناب حفیظ اللہ نیازی نے 6 جولائی کے جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں ان کے بارے بے بنیاد باتیں کیں اور جھوٹا اور ثبوت سے عاری تجزیہ پیش کیا۔جو پیمرا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی سراسر خلاف ورزی تھا۔ واقعی جو ثبوت ضائع کر دئیے جائیں یا جن کے بارے اداروں سے مک مکا کے بعدصفائی سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیا جائے انہیں بھول جانا چائیے۔

ان کا ذکر بھی نہیں کرنا چائیے۔ ایک آدمی حکومت کی لانڈری سے کلین ہو گیا ہے تو حکومتی احترام میں اس کا خاص خیال رکھنا اور اسے کلین ہی جاننا چائیے۔ پیمرا شکایات کونسل نے اپنے اجلاس نمبر 62 اور اجلاس نمبر 63 میں اس شکایت کی شنوائی کی، جیو نیوز کو کئی مواقع فراہم کئے، مگر مذکورہ چینل اپنے دفاع میں کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ ویسے دو میٹنگز اور کئی مواقع، یہ ریاضی کا ایک الجھا ہوا سوال ہے جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔البتہ چینل کو معافی مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے اور فیصلے پر عملدرامد نہ کرنے پر دس لاکھ جرمانے کا کہا گیا ہے۔ اب ایک ہفتے بعدہی لاہور ہائی کورٹ نے حفیظ اللہ نیازی کی درخواست پر پیمرا کا فیصلہ معطل کر دیا ہے جس کے نتیجے میں وہ پوری گن گرج سے پھر مختلف چینلز پر موجود ہے اور حکومت کے اتنے بڑے اقدام کے بعد بھی وہی انداز ہے ظالم کا پرانے والا۔وہ نہ تو کوئی بات سمجھتا ہے اور نہ ہی کسی چیز کو خاطر میں لاتا ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پمرا لہریں گننے والا ایک سرکاری ادارہ ہے،۔ دوسرے تمام سرکاری اداروں کی طرح اس کا مقصد تشکیل توشاید کچھ اور ہی ہے، مگر یہ فقط سرکار کی ہدایات پر پھرتیاں دکھانے کا کام بہت اچھے انداز میں کرتا ہے۔پیمرا سے معذرت کے ساتھ کہ دروغ بر گردن راوی۔

مجھے ایک صاحب نے کہا کہ حفیظ اللہ نیازی سے تمہارے اچھے راہ و رسم ہیں۔ اسے اگر فلاں بات سمجھا سکو تو مہربانی ہو گی۔ میں نے ہنس کر کہا کہ بھائی راہ و رسم تو اچھے ہیں تمہارا موقف میں اس تک پہنچا دوں گاٍ،مگر وہ سمجھے اور اس پر عمل کرے اس بات کی کچھ گارنٹی نہیں۔ میں نے ہنس کر اسے بتایا کہ ٹی وی پر ایک ڈرامہ چل رہا تھا۔ مرحوم معین اختر ایک ہیڈ مسٹرس کا رول کر رہے تھے۔ ایک والد نے کہا کہ مجھے لگتا ہے جو میں آپ کو بتا رہا ہوں وہ آپ سمجھ نہیں رہیں۔ ہیڈ مسٹرس نے جواب دیا، ”میں تو وزیر تعلیم کی بات نہیں سمجھتی، آپ کیا چیز ہیں“۔حفیظ اللہ نیازی بھی کچھ اسی طرح کا بندہ ہے اپنی مرضی کی بات سمجھتا ہے اور سنتا ہے۔ ہم دونوں زمانہ طالب علمی سے اکٹھے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ ہر لمحہ اکٹھے نظر آتے تھے۔

وہ میرا ہم نوا تھا، ہم پیالہ تھا، ہم نوالہ تھا، ہم مکتب تھا، ہم دم تھا، ہم گسار تھا،بلکہ سچ یہ ہے کہ”ہم“ کے ساتھ جو لگ سکتا ہے لگا دیں ہم دونوں میں سے کسی کو اعتراض نہیں ہو گا۔میں البتہ بہت سے ”ہم“ نہیں لکھ رہا کہ بہت سے ”ہم“ لوگوں کی نظروں میں کچھ قابل اعتراض بھی ہوتے ہیں۔ کسی کی طبع نازک پہ گراں گزرے تو مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔ مولانا فضل الرحمان بھی آجکل بڑی فارم میں ہیں کہیں ہم پر حدود کے نفاد کا مطالبہ نہ کر دیں۔ پیمرا پہلے ہی ناراض ہے وہ بھی پھر حرکت میں آ سکتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ حفیظ اللہ نیازی پرانے دور کا آدمی اور پرانی قدروں کا دلدادہ ہے۔ اسے نہ جمہوریت کی سمجھ آتی ہے اور نہ جمہوری مزاج کی۔ اسے فقط اپنا ایمان عزیز ہے، سچ اس کی کمزوری ہے۔ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا اس کا شیوہ ہے۔ اسے کون سمجھائے کہ آج قدریں بدل گئی ہیں۔

آج جمہوریت کا دور دورہ ہے۔جمہور کی اکثریت جس کو اپنا لے وہی آج کی سچی اور حقیقی قدریں ہیں۔ میں بہت سمجھاتا ہوں کہ بھائی جدید انداز اپناؤ اگر کامیابی چاہتے ہو اور کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ تمہارے ایک ہاتھ میں تیل کی بوتل ہو اور دوسرے میں مکھن کی ایک بڑی ٹکیا۔ جہاں کوئی بڑا لیڈر ملے تیل سے شاندار چمپی کرو،یا پھرمکھن سے کام چلاؤ، کامیابی تمہارے قدم چومے گی، مگر یہ بات اسے سمجھ نہیں آتی۔ سوچتا ہوں کہ کس قدر بیوقوف آدمی ہے کہ بھائی وزیر اعظم ہے اور وہ اس سے بھی تعلقات بگاڑ کر اپنی شان سلامت رکھنے کے چکر میں گرفتار ہے۔

ایک دوست کی حیثیت سے میں نے اسے بہت دفعہ سمجھایا ہے کہ بھائی آج جمہوری دور ہے، منافقت، ریاکاری، دو رنگی، جھوٹ اور فریب جمہوریت کا حسن ہیں۔ اسی لئے توبہت سے نا بالغ اور چھچھورے وزیر اور مشیر نظر آ رہے ہیں۔ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہیں خود کو جمہوری مزاج میں ڈھالنا آتا ہے۔ انہیں جھکنا آتا ہے اسی لئے رفعتیں پا رہے ہیں۔ تم آج کے جمہوری دور میں سچ کی گٹھری اٹھا ئے اپنی راگنی سنانے کی کوشش کر رہے ہو۔ لوگ سنتے ہی نہیں اور جو سنتے ہیں کوئی اثر نہیں لیتے۔ یہ طرز چھوڑ دو۔ کیوں جھوٹ کوجھوٹ کہتے ہو۔ کیوں حرام اور حلال کی تمیز نمایاں کرتے ہو۔ کیوں حکمرانوں کی نا اہلیوں اور غلطیوں کو عیاں کرتے ہو۔ جس طرح اندھے کو کبھی اندھا اور کانے کو کبھی کانا نہیں کہتے، کہ ان کی دل آزاری ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ جمہوری تقاضا ہے کہ حکمرانوں کی ہر بات کو من و عن تسلیم کرو۔ ورنہ تمہاری وجہ سے ملکی سا لمیت جیسی نازک چیز خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

کیا کروں سمجھانے کے علاوہ میں کچھ بھی نہیں کر سکتا، مگر اسے اپنا ایمان عزیز ہے، اسے اپنا سچ عزیز ہے وہ اقبال کا شیدائی ہے وہ بندوں کو گننے نہیں تولنے پر یقین رکھتا ہے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ وہ تھوڑی سی جدید جمہوری منافقت اور ریاکاری سیکھ کر معاشرے میں ایک بہتر مقام پا لے۔ میں نے اسے ہمیشہ دو باتیں بتائی ہیں۔پہلی یہ کہ حکومت کی لانڈری سے صاف ہونے والے شخص کے کردار پر جو داغ ہوتے ہیں انہیں ہمیشہ گلاب بتاؤ اورسمجھو،یہی مصلحت کا تقاضہ ہے۔۔ دوسرا ایسے لوگوں سے بہت محتاط رہو کیونکہ بظاہر بڑے نظر آنے والے لو گ کردار کے بہت چھوٹے ہوتے ہیں، مگر وہ دماغ سے کام نہیں لیتا۔ جذباتی آدمی ہے دل کی زیادہ مانتا ہے۔ ان حالات میں، میرے لئے اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ دعا گو ہوں کہ اللہ اسے ہدایت دے اور اس کا حامی و ناصر ہو۔

مزید : رائے /کالم