ٹھنڈی،عرشی، فرشی مرغی کا مکروہ دھندہ روکا جائے

ٹھنڈی،عرشی، فرشی مرغی کا مکروہ دھندہ روکا جائے
 ٹھنڈی،عرشی، فرشی مرغی کا مکروہ دھندہ روکا جائے

  



واٹس اَپ پر ایک بڑے مذہبی سکالر کی تقریر سُن رہا تھا جو فرما رہے تھے، میرے دوست بیرون ملک میں مقیم ہیں،انہوں نے مجھے فون کیا اور دوستی کا واسطہ دے کر کہا میری بیٹی کی شادی فلاں تاریخ کوطے ہو گئی ہے،شادی کے لئے مجھے ہال کی فوری بکنگ کروانی ہے میری مجبوری ہے کہ مَیں آ نہیں سکتا، مَیں اب شادی کے دِنوں میں ہی آ سکوں گا، آپ میرے اوپر احسان کرو اور میری بیٹی کی شادی کی تقریب کے لئے کوئی اچھا سا ہال بُک کروا دو، بار بار اصرار پر مَیں نے حامی بھر لی اور پھر دوسرے دن مَیں ہال کی بکنگ کے لئے سب سے بڑے شادی ہال کے دفتر جا پہنچا وہاں پر ایک صاحب نے مجھے خوش آمدید کہا اور کہا سنگل ڈش چکن کے ساتھ 550روپے ہوں گے،مَیں نے درخواست کی کہ کچھ رعایت کی جائے،بار بار اصرار اور درخواست پر صاحب فرمانے لگے مولوی صاحب پھر ٹھنڈی مرغی لے لو،350روپے لے لوں گا،

مَیں بڑا خوش ہواکہ راستہ نکل رہا ہے،میرے ذہن میں آ رہا تھا کہ چاول جس طرح مختلف اقسام کے ہوتے ہیں اسی طرح مرغی کی قسم چھوٹی بڑی،350روپے میں سنگل ڈش ہو جائے گی، میرا دوست بھی خوش ہو جائے گا، دوستی کا حق ادا ہو جائے گا، بچی کی رخصتی اچھے انداز میں ہو جائے گی، میرا دوست کہے گا میرے دوست نے سستا ہال لے کر دیا ہے، مَیں نے سوچتے ہوئے فرمایا،”بھائی ٹھنڈی مرغی سے کیا مراد ہے“ صاحب فرمانے لگے،مولوی صاحب آپ سادہ ہیں یا بن ہے ہیں،مَیں نے پھر وضاحت چاہی تو فرمانے لگے، ٹھنڈی مرغی سے مراد مردہ مرغی ہے،مَیں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور کہا ایسا بھی ہوتاہے تو وہ صاحب فرمانے لگے مولوی صاحب سب چلتا ہے اس نے میری درخواست پر تفصیل بتائی کہ لاہور سمیت ملک بھر میں ٹھنڈی مرغی کا دھندہ چلتا ہے جو ہال 350 یا 400 میں سنگل ڈش دے رہے ہیں وہاں گرم نہیں ٹھنڈی مرغی چلتی ہے۔

لاہور سمیت دیگر شہروں میں ہونے والے اس مکروہ دھندے کا سُن کر مَیں سکتے میں آ گیا اور پھر مجھے پنجاب فوڈ اتھارٹی یاد آ گئی،جس نے گزشتہ تین سال میں بڑا نام کمایا ہے،خبروں کے ساتھ ساتھ لاہور کے مختلف اطراف میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے دفاتر کی نشاندہی کے لئے بڑے بڑے بورڈ لگا رکھے ہیں تاکہ ان کے دفتر کا عوام کو پتہ چل سکے۔ مَیں سوچ رہا تھا کہ عوام الناس تک کیسے یہ بات پہنچائی جائے، ٹھنڈی، گرم کا فرق کیا ہے۔میرے بڑے قریبی عزیز نے واپڈا ٹاؤن میں فاسٹ فوڈ اور بار بی کیو کا کاروبار شروع کیا ہے، مَیں گزشتہ ہفتے واپڈا ٹاؤن گیا تو حال چال پوھنے کے بعد بیٹے کے کاروبار کے متعلق پوچھا تو مایوسی سے کہنے لگے، کام کا مندا ہے تمام ہوٹل والے فرشی مرغی لے کر سستے لیگ پیس اور کڑاہی بیچ رہے ہیں،مَیں نے کہا تو آپ بھی فرشی مرغی کا استعمال کریں،

اس میں کیا حرج ہے؟فرمانے لگے تمہیں عرشی اور فرشی مرغی کے فرق کا نہیں پتہ، تم کیسے صحافی ہو، مَیں نے حیرانی سے سوال کیا واقعی مجھے نہیں پتہ، آپ بتا دیں۔ بھائی صاحب فرمانے لگے،فرشی مرغی کا مقصد ہے مردہ مرغی،مری ہوئی مرغی یہ کوڈ عام ہے جو چلتا ہے،مَیں پھر سر پکڑ کر بیٹھ گیا،بچوں کے ساتھ رات گئے واپس آیا تو لاہور کے مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں لگے طرح طرح کے بورڈ نظر آنے لگے۔ ایک ساتھ دو دو تین ہوٹلوں پر بورڈ ایک جیسے کڑاہی مرغی 600روپے، کڑاہی مرغی550 روپے، کڑاہی مرغی650روپے۔ یہی حال چکن پیس کا تھا، ایک چکن پیس100روپے کا، دوسرے بورڈ پر 120 کا اور تیسرے بورڈ پر 150 روپے۔ اب مجھ پر اس مکروہ اور حرام دھندے کی حقیقت سامنے آنے لگی۔

اس میں بھی کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے، مجھ سمیت ہم سب اپنی اپنی ذات میں اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے شارٹ کٹ کے ذریعے بچوں کا پیٹ پالنے کے نام پر حلال حرام کی تمیز کھو چکے ہیں۔یہی وجہ ہے فوڈ اتھارٹی جس کا نام مَیں نے کم از کم زندگی میں پہلی دفعہ دو ڈھائی سال پہلے سنا تھا، جب ایک لڑکی عائشہ نے لاہور میں دو نمبری کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کیا،ملاوٹ سے پاک اشیاء کی فراہمی ممکن نظر آنے لگی،دو نمبر مافیا نے اپنی طاقت دکھائی تو ایمانداری سے نوکری کرنے والی عائشہ کو نوکری کے ساتھ زندگی کے لالے پڑ گئے، بالآخرانہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ان کے بعد شاید ایک دو ڈی جی آئے جنہوں نے چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کیا، الیکٹرانک میڈیا نے بھی ملاوٹ اور دو نمبری کی نشاندہی کے لئے بھرپور کردار ادا کیا،مگر اس میں بھی مافیا فتح یاب ہوا۔

میڈیا کے بیشتر افراد بھی دنیا دار بنتے نظر آئے،اب پی ٹی آئی کی حکومت میں ہمارے بڑے پیارے دوست اور محسن میر سلیم مرحوم کے صاحبزادے عابد میر جو چیئرمین یونین کونسل بھی رہے ہیں آج کل اہل ِ لاہور کو قیمتوں میں ریلیف دلانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، ان کی ایمانداری اور اخلاص کا مَیں گزشتہ 20سال سے قائل ہوں،اللہ ان کو ہمت دے وہ من مرضی کرنے والوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن سکیں، حالانکہ مَیں صوبائی وزیر اطلاعات میاں اسلم اقبال کا بیان سُن چکا ہوں جس میں انہوں نے کہا تھا اگر نان کی قیمت کم نہ کروا سکا تو سیاست چھوڑ دوں گا، ان سے بھی عرض کرنی ہے لاہور میں نان اور روٹی کی قیمت بڑھ چکی ہے،

12روپے15 روپے میں نان فروخت ہو رہا ہے، آپ شاید مصروفیت کی وجہ سے دیکھ نہیں پا رہے۔روٹی بھی 6روپے کی کوئی دینے کے لئے تیار نہیں ہے،میاں اسلم اقبال، میاں محمود الرشید وہ وزیر ہیں جو اہل لاہور کو جانتے ہیں ان کے ساتھ عابد میر صاحب سے درخواست ہے وہ لاہوریوں کو ٹھنڈی، فرشی، مرغی سے نجات دلائیں، سردیاں آتے ہی بار بی کیو کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا ہے اور مقابلے کی دوڑ اور سستا فروخت کرنے کی دوڑ میں جگہ جگہ ٹھنڈی، فرشی مرغی کے نام پر مردہ مرغیوں کا گوشت کھلایا جا رہا ہے، سبزیوں سے لے کر روز مرہ استعمال کی اشیاء کا بھی یہی حال ہے، محسوس ہوتا ہے،

کسی کا کنٹرول نہیں،سبزیوں کی قیمتیں کئی کئی گنا بڑھ گئی ہیں یا بڑھا دی گئی ہیں، حکومت نام کی بھی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔ لاہور بالعموم اور پنجاب بھر میں بالخصوص مکروہ دھندے کے خلاف بڑا آپریشن کیا جائے اور ایسا میکنزم بنایا جائے کہ زندہ، مردہ، ٹھنڈی گرم، عرشی فرشی کے نام پر حرام کھلانے کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے۔

مزید : رائے /کالم