قائد اعظم اصولوں پر استوار جمہوری نظام کے خواہا ں تھے،خالد محمود

      قائد اعظم اصولوں پر استوار جمہوری نظام کے خواہا ں تھے،خالد محمود

  



لاہور(سٹی رپورٹر) قائداعظمؒپاکستان میں اسلامی اصولوں پر استوار جمہوری نظام کے خواہاں تھے۔ قائداعظمؒ کے جمہوری اصولوں کو ہر سطح پر نظر انداز کیا گیا جس کے باعث ملک کو استحکام نصیب نہ ہو سکا۔نئی نسل کو قائداعظمؒ ودیگر مشاہیر تحریک آزادی کے نظریات وتصورات سے آگہی دینے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار سابق صوبائی محتسب و چیئرمین مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ خالد محمود نے ایوان قائداعظمؒ، لاہور میں قائم تھنک ٹینک”ایوان قائداعظمؒ فورم“کے پانچویں ماہانہ اجلاس بعنوان ”قائداعظمؒ کا تصور حکمرانی“سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پرسماجی وسیاسی رہنما بیگم مہناز رفیع، لیفٹیننٹ کرنل(ر) سید احمد ندیم قادری،ممتاز دانشور قیوم نظامی،بریگیڈیئر (ر) لیاقت علی طور،رؤف طاہر، ظفر اقبال اپل، سارہ اکبر، سیکرٹری نظریہئ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات بڑی تعداد میں موجود تھے۔خالد محمود نے کہا کہ قائداعظمؒ کے نظریات کو سمجھنے کیلئے ان کی شخصیت سے آگہی ضروری ہے۔ قائداعظمؒ نے ہندوؤں اور انگریزوں سے مسلمانوں کو بحیثیت قوم منوایا تھا۔ قائداعظمؒ پیشہ کے اعتبار سے وکیل تھے اور انہوں نے ہمیشہ قانون کی پاسداری کی۔ وہ قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے تھے۔ 

قائداعظمؒ نے اپنی مختلف تقاریر میں واضح انداز میں یہ فرمایا کہ پاکستان اسلامی جمہوری ملک ہو گا۔ وہ اسلامی اصولوں پر استوار جمہوری نظام کے خواہاں تھے۔ قائداعظمؒ نے سول اور فوجی افسران کی ذمہ داریوں کا تعین کر دیا کہ ہر ایک کو اپنا کام اپنے دائرہ میں رہ کر انجام دینا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کا قیام ایک معجزہ اور اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت تھی۔قیام پاکستان کے بعد قائداعظمؒ محض تیرہ ماہ تک زندہ رہے اور انکی وفات کے بعد ہم ان کے اصولوں سے دور ہوتے گئے۔ پاکستان کے نظام حکومت میں بیوروکریسی کا اثر بڑھ گیا۔ ابتدائی چند برسوں میں چودھری محمد علی، ملک غلام محمد اور سکندر مرزا جیسے بیوروکریٹ فعال اور متحرک رہے۔ جنرل ایوب خان نہ صرف کمانڈر انچیف بلکہ وزیر دفاع بھی رہے۔ اس دور میں سیاسی وعسکری قیادت جوڑ توڑ میں مصروف رہی اور ابتدائی چند برسوں میں پاکستان میں متعدد وزرائے اعظم آئے اور بالآخر 1958ء میں ملک میں مارشل لاء لگ گیا۔ یہ تمام باتیں قائداعظمؒ کے نظریات وتصورات کے برعکس تھیں۔ قائداعظمؒ کے جمہوری اصولوں کو ہر سطح پر نظر انداز کیا گیا جس کے باعث ملک کو استحکام نصیب نہ ہو سکا۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا قائداعظمؒپاکستان کو ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ملک دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک ایسا پاکستان جہاں ہر شہری کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں، جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ قائداعظمؒ کے نظریات وتصورات پر عمل کر کے ہی ہم ملک کو درپیش مسائل سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ قیوم نظامی نے کہا قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک ایک سال کے عرصہ میں اس ملک میں گورننس کو چلانے کیلئے ایک معیار قائم کر دیا تھا۔ انہوں نے نظام حکومت میں میرٹ کو اولین ترجیح دی، آپ کے قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ قائداعظمؒ نے قومی خزانہ کو قومی امانت سمجھ کر استعمال کیا۔ آپ نے ہمیشہ آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا۔ قائداعظمؒ کرپشن کو زہر قرار دیتے تھے۔ لیفٹیننٹ کرنل(ر) سید احمد ندیم قادری نے کہا قائداعظمؒ شفاف کردار کے مالک انسان تھے، ان کی عظمت کا اعتراف آپ کے مخالفین نے بھی کیا۔ قائداعظمؒ پاکستان میں ایک ایسا اسلامی معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں جو پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہو۔ہمیں قائداعظمؒ کے فرمودات پر عمل کرنا چاہئے۔ بریگیڈیئر(ر) لیاقت علی طور نے کہا بدقسمتی سے قیام پاکستان کے ابتدائی آٹھ برسوں میں ملک میں کوئی آئین نہ بن سکا۔  قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کے بعد حکم دیا تھا کہ چھ ماہ میں نیا آئین بنا دیا جائے لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا جس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ ؤف طاہر نے کہا المیہ یہ تھا کہ قائداعظمؒ قیام پاکستان سے تیرہ ماہ بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور بعدازاں لیاقت علی خان کو بھی شہید کر دیا گیا۔ نو آمواز ریاست کو بہت سے مسائل کا سامنا تھا، ان حالات میں سیاسی قیادت نے نہ صرف ملک کو سنبھالا بلکہ اسے ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا۔قائداعظمؒ پارلیمانی طرز حکومت پر یقین رکھتے تھے، ان کے فرامین آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ سارہ اکبر نے کہا کہ قائداعظمؒ نے سیاست کو عبادت سمجھ کر کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی اسلامیان ہند کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ ظفر اقبال اپل نے کہا کہ قائداعظمؒ نے ہمیں کام، کام اور کام کا درس دیا۔ نئی نسل کو قائداعظمؒ ودیگر مشاہیر تحریک آزادی کے نظریات وتصورات سے آگہی حاصل کرے۔شاہد رشید نے کہا کہ قائداعظمؒ کے وضع کردہ اصول آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور ان پر عمل پیرا ہو کر ہم ملک کو مسائل سے نکال سکتے ہیں۔ ہم پاکستان کو قائداعظمؒ کے نظریات وتصورات کے عین مطابق ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ملک بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...