جون 2020ء تک لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائز یشن مکمل کی جائیگی، شکیل ایڈووکیٹ 

جون 2020ء تک لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائز یشن مکمل کی جائیگی، شکیل ایڈووکیٹ 

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر مال شکیل احمد خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبے میں جاری لینڈ ریکارڈکی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام درکار عملے اور عوام کیلئے سروس ڈیلیوری سنٹرز میں اضافہ کیا جارہا ہے جس سے کمپیوٹرائزیشن کا عمل مزید تیز ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو فخر عالم خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر خائستہ رحمان، ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ خالد خان اوراے ڈی سی اسحاق خان کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں صوبے میں جاری لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن پر کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا اور اب تک ہونے والی پیش رفت اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ صوبائی وزیر مال نے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جون 2020ء تک صوبے میں جاری لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے عوام کو بہتر اور آسان طریقے سے اپنی زمینوں کے ریکارڈ سے متعلق معلومات حاصل ہوسکیں گی اس کے علاوہ زمینوں کے ریکارڈ کو محفوظ بھی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے سروس ڈیلیوری سنٹرز میں اضافہ اور ڈیٹابیس انٹری کیلئے مزید کمپیوٹر آپریٹرزبھی لیے جائیں گے اور اس سلسلے میں دیگر ضروریات کو بھی ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سروس ڈیلیوری سنٹرز کے لئے کرایہ کی عمارتیں حاصل کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں اراضی کے ریکارڈ کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کی بدولت غیر قانونی قابضین سے سرکاری زمین واگزار کرانے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر