تاجروں کی فلاحوبہبودہمیشہ ترجیحات میں سرفہرست ہے، ضیاء اللہ بنگش

تاجروں کی فلاحوبہبودہمیشہ ترجیحات میں سرفہرست ہے، ضیاء اللہ بنگش

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوھاٹ کی تاجر تنظیموں کا ایک خصوصی اجلاس اصغر ایوب پراچہ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس کی صدارت اصغر ایوب پراچہ نے کی مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ بنگش مہمان خصوصی تھے اجلاس میں کوھاٹ کے تاجران اور دکانداروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی بات چیت اور ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ناروا سلوک پر بحث مباحثہ کیا گیا مہمان خصوصی ضیاء اللہ بنگش نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے تمام تاجر تنظیمیں قابل احترام ہیں اور میرا ان سے ذاتی تعلق ہے ان کا دکھ میرا دکھ ہے انہیں جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو تو میں تنظیم کے شانہ بشانہ رہوں گا اور انہیں درپیش مسئلہ کو انتظامیہ اور تنظیم کے درمیان بیٹھ کر حل کروں گا اور تاجران کے ساتھ کسی کو من مانی نہیں کرنے دوں گا کیوں کہ میرا مشن کوھاٹ میں امن کی فضاء برقرار رکھ کر اسے ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے کوھاٹ کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سکولوں کی اپ گریڈیشن کا عمل شروع ہے اور مزید تین پرائمری سکول تعمیر کراؤں گا سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 35 کروڑ روپے کا فنڈ مختص کر دیا ہے جس میں سے 25 کروڑ کوھاٹ شہر‘ 5 کروڑ لاچی اور 5 کروڑ بلی ٹنگ کے لیے ہیں ڈبلیو ایس ایس سی کی فنڈنگ کا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے جس سے پانی کی فراہمی کی مشکلات کا ازالہ ہو گا علاوہ ازیں کے ڈی اے ہسپتال کو کیٹیگری اے کا درجہ دے دیا گیا ہے اور ہسپتال سے ملحقہ کمیونٹی سنٹر کی منظوری بھی لی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کسی کو مایوس نہیں کرے گی قبل ازیں اصغر ایوب پراچہ‘ شیر احمد خان بنگش اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجر ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اس باعزت روزگار سے وابستہ افراد کی عزت نفس مجروح کرنے والا قوم کا دشمن ہے ڈی سی اور اے سی کی حکمرانی انہی کے دم قدم سے قائم ہے اگر یہ تاجران ان کے خلاف میدان میں آ جائیں تو ان کا بوریا بستر اسی وقت گول ہو سکتا ہے ہم غریبوں کا استحصال کرنے والوں کا قلع قمع کرنے کی ہمت رکھتے ہیں تاہم قانون کا احترام کرتے ہیں جو زیادتی کرے گا اس کے خلاف کھڑے ہوں گے انہوں نے کہا کہ تاجران کے اتحاد کے طفیل شیعہ سنی کا مسئلہ حل ہوا ہم نے از خود چھجے ختم کرائے مگر ضلعی انتظامیہ نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر کے ان معاہدات کی دھجیاں اڑائیں اور کوھاٹ کے دکانداروں کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں جیسا سلوک روا رکھا گیا اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آئندہ بازار میں ان کا جوتوں کے ساتھ استقبال کیا جائے گا انہوں نے شہر میں کمیونٹی سنٹر برائے جنازہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...