پاکستان میں 34فیصد لوگ بے چینی اور پریشانی کا شکار ہیں، پروفیسرمحمد سلطان

  پاکستان میں 34فیصد لوگ بے چینی اور پریشانی کا شکار ہیں، پروفیسرمحمد سلطان

  



پشاور(سٹی رپورٹر)پروفیسر ڈاکٹر سید محمد سلطان نے کہا کہ مینٹل ہیلتھ ایکٹ 2017پرعمل درآمد کرنے کیلئے اور فونٹین ہاوس حیات آباد کی تعمیر جلد مکمل کرنے سمیت اعصابی امراض کی روک تھام کیلئے ڈسٹرکٹ لیول پر ہسپتالوں میں ماہر نفسیات کی تعیناتیاں کیلئے حکومت سے اقدامات تھانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ معاشرے میں مختلف اعصابی بیماریوں سے بچنے کیلئے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں ذہنی صحت کا عالمی دن کے موقع پر چئیرمین ڈپارٹمنٹ آف سائکیاٹری خیبر ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر سلطان نے دیگر ڈاکٹرز کے ہمرای پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ذہنی صحت کا عالمی دن منانے کا مقصد اعصابی امراض کے بار ے میں لوگو ں میں شعوار بیدا کرنا ہے جبکہ اس متعلق غلط فہمیاں کو دور کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 34فیصد لوگبے چینی اور پریشانی کا شکار ہے جبکہ پانچ فیصد لوگ منشیات کی وجہ سے اعصابی مرض،دو فیصد بائی پولر اور ایک فیصد سکیزوفرنیاجبکہ دس فیصد بچے ذہنی امراض کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ بچے،بوڑھے اور اعصابی امراض کے مریضوں کو داخل کرنے کیلئے کو نظام موجود نہیں جبکہ پاکستان میں چپانچ لاکھ آبادی کیلئے اک ماہر نفسیات ہے جو عالمی سطح کے مطابق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ذہنی امراض ک شرح دن بدن بڑھ رہی ہے جسکی وجہ عدم تحفظ،دہشت گردی،غربت سیاسے بے چینی اور غیر سحت مندانہ طرز زندگی ہے۔انہوں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اعصابی امراض کے سدباب کیلئے مینٹل ہیلتھ ایکٹ کو فوری لاگو کیا جائے جبکہ ڈسٹرک سطح پر ہسپتالوں میں ماہر نفسیات کی موجودگی یقینی بنانے کیساتھ بہتر طریقے سے اعصابی امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے جبکہ تمام ٹیچنگ اور بڑے ہسپتالوں میں ماہر نفسیات کیلئے شعبہ جات کھلے جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...