حکومت کاٹن جنرز‘ کاشتکاروں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو گئی ہے‘پی سی جی اے

حکومت کاٹن جنرز‘ کاشتکاروں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو گئی ہے‘پی سی جی اے

  



ملتان (نیوز رپورٹر) کاٹن سے متعلقہ غیر منصفانہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پی سی جی اے کے چیئرمین اور دیگر عہدیداران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے کاٹن کے فروغ کے لیے کوئی جامع پالیسی نہیں بنائی۔کاٹن جنرز 3ماہ میں کپاس کی خریداری کر کے روئی سٹاک کرتے ہیں جب کہ ٹیکسٹائل ملز مالکان وہی روئی جنرز سے 12 مہینے اٹھا کر استعمال کرتے ہیں۔حکومت(بقیہ نمبر13صفحہ12پر)

ملکی جنرز و کاٹن کاشتکار کوتحفظ دینے میں ناکام ہو گئی ہے کیونکہ حکومت کاٹن امپورٹ پر 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی صرف  4  ماہ کے لیے عائد کرتی ہے اوراس کے بعد وہ معمولی امپورٹ ڈیوٹی بھی واپس لے کر ٹیکسٹائل ملز کو دوسرے ممالک سے روئی درا?مدکر نے میں ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ کاٹن جنرز کے پاس جو روئی موجود ہوتی ہے اس کا واحد خریدار ہی ملک میں نہیں ملتا۔ اگر کاٹن جنر رزمیندار سے 3 ماہ کے اندر کپاس نہ خریدے تو زمیندارگندم کی فصل نہیں اگا سکتے۔کاٹن جنرز محب الوطنی کے ساتھ اپنے کسان بھائیو ں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تاکہ وہ گندم کو کاشت کر سکیں اور اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ہرسال حکومت امپورٹ ڈیوٹی ختم کر کے کاشتکار دشمنی کا ثبوت دیتی ہے جس کے بعد جنرز کو ناقابل تلافی نقصان اٹھا نا پڑ تا ہے۔حکومتی پالیسیوں کے باعث کپاس کا خریدارجنررمالی طور پرکمزور ہوتا جارہا ہے اور زمیندار سے کپاس اٹھانے کی سکت نہیں ہے۔ہر سال 50سے 100 سے کاٹن فیکٹریاں دیوالیہ ہو جاتی ہیں۔عہدیداروں نے کہا کہ حکومت یکساں پالیسی بنائے تاکہ روئی کا کام کر نے والے مالی بحرا ن سے نکل سکیں۔ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ کاٹن امپورٹ پر ڈیوٹی کا نفاذسارا سال کے لیے کیا جائے۔کاشتکاروں کو تحفظ دینے کے لیے پیسٹی سائیڈ کو ڈیوٹی فری کیا جائے اور زرعی مداخل کے ریٹ کم کیے جائیں تاکہ ان کی کاسٹ ا?ف پروڈکشن کم ہو سکے۔حکومت کاٹن امپورٹ پر 4 مہینے ڈیوٹی عائد کر کے دوبارہ چھوٹ دے دیتی ہے توکاٹن کاشتکاروں کے تحفظ کے لیے ان کی پیداواری لاگت کم کر نے کے لیے ان کو سبسڈی دی جائے تاکہ ان کی پیداواری لاگت کم ہو اور وہ انڈیا کے کاشتکاروں کے برابر ہوجائیں۔ جنرر بھائیوں سے بھی درخواست ہے کہ ٹیکسٹائل ملز مالکان کم پیداوار کا بہانہ بنا کر حکومت سے فی الفور امپورٹ ڈیوٹی ختم کر نے کا مطالبہ کر رہے ہیں اس لیے بے جا سٹاک سے گریز کریں تاکہ ڈیوٹی ختم ہونے کی وجہ سے نقصان سے بچا جاسکے۔ٹیکسٹائل ملز 12 ماہ روئی استعمال کر تے ہیں اور کپاس کی فصل 4 ماہ میں اتر ا?تی ہے تو جنرز بھی اپنے خریدار کی ڈیمانڈ کو دیکھے اور روئی سٹاک نہ کریں تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔موجودہ حکومتی پالیسیوں کے باعث نقصان کا اندیشہ ہے کیونکہ ٹیکسٹائل ملز نے دیگر ممالک سے 40 سے 50 لاکھ گانٹھ باہر سے منگوانے کا منصوبہ فائنل کر لیا ہے اور یہ نہ ہو کہ وہ امپورٹڈ کاٹن استعمال کریں اور لوکل کاٹن کا خریدار ہی نہ ہو۔اس سال مارک اپ ریٹ بہت زیادہ ہیں جس کے باعث زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ہماری حکومت سے پر زور اپیل ہے کہ جنرز اور کاشتکار کے تحفظ کے لیے یکساں ڈیوٹی کا نفاذ کیا جائے اور عائد شدہ ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ کر کے اسے پورے سال کے لیے بر قرار رکھا جائے۔

پی سی جی اے

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...