محکمہ جنگلات میں ڈیلی ویجز پر کام کرنیوالے مزدور تنخواہوں سے محروم

  محکمہ جنگلات میں ڈیلی ویجز پر کام کرنیوالے مزدور تنخواہوں سے محروم

  



ڈیرہ بکھا (نمائندہ پاکستان) محکمہ جنگلات میں ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے مزدور تنخواہیں نہ ملنے پر سراپا احتجاج،فارسٹر اور بلاک افسر مل کر ہماری تنخواہیں کھا گئے اب نوکری سے نکال دیا گیا نوبت فاقوں تک آن پہنچی کوئی پرسان حال نہیں (سلیم اختر)تفصیل کے مطابق نیشنل پارک لال سوہانرا کے (بقیہ نمبر16صفحہ12پر)

گارڈز اور فارسٹرز جہاں کرپشن میں اپنی پہچان آپ ہیں وہیں مزدوروں پر ظلم کرنے اور ان کی تنخواہیں ہڑپ کرنے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ان کی ظلم و بربریت کی داستان سناتے ہوئے ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے مزدوروں فدا حسین،غلام شبیر،محمد حنیف،اللہ داد،محمد لطیف،محمد عمران اور دیگر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے حافظ ممتاز فرسٹ گارڈ کے پاس بلاک نمبر 3 بیٹ نمبر 7 میں بائیو میکس اسکیم کے تحت لگنے والے جنگل میں مزدوری کی انہوں نے کھیت نمبر 126,127,136, میں پورے لگائے ان کو ڈیلی ویجز پر رکھا گیا تھا اور 400 روپے یومیہ ان کو دیے جاتے تھے کچھ عرضہ تو ان کو اجرت ملتی رہی لیکن بعد میں بلاک افسر آصف ملانہ،رینج افسر سہیل ظفر جس کے پاس ایس ڈی ایف او کا چارج بھی تھا نے مل کے ان کی چار ماہ کی تنخواہیں ہڑپ کر لیں ہیں اور یہ تنخواہیں نکلوانے کے لیے انہوں نے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کے انگوٹھے لگاواییں ہیں اگر ریکارڈ کی بائیو میٹرک تصدیق ہو تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا،اس موقع پر بیلدار سلیم اختر کا کہنا تھا کہ اس نے بلاک افسر احمد نواز گڈن کے پاس بیٹ نمبر 6 بلاک نمبر 2 میں کام کیا اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا فرسٹ گارڈ راؤ سہیل نے اس کی چار ماہ کی تنخواہ ہڑپ کرلی جب راو سہیل سے تنخواہ کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا آئندہ کام پر آنے کی ضرورت نہیں اور گالم گلوج دیتے ہوئے دھکے مار کر جنگل سے نکال دیا ان لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 جنوری 2018 میں کام کیا تھا تب سے ہماری چار،چار ماہ کی تنخواہیں نہیں دی گئیں ان مزدوروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ متعلقہ افسران کے اثاثہ جات جیک کیے جائیں ان کے پاس کاریں،کوٹھیاں،بنگلے کہاں سے آئے معمولی سے تنخواہوں میں جنگلات کے یہ فرسٹ گارڈ اور بلاک افسر اتنے امیر کیسے ہوگئے ان لوگوں کے پاس سینکڑوں گائے اور بکریاں ہیں ان کے ریوڑ لال سوہانرا کے جنگل میں پل رہے ہیں جس کو عام آدمی کے مال مویشی کے لیے نوگوہ ائیریا بنایا ہوا ہے اگر کسی کا مال مویشی قابو اجائے تو بھاری سلامی دے کر جان چھڑوانا پڑتی ہے لیکن انہوں نے جنگل کو اپنی ذاتی چراگاہ بنایا ہوا ہے آج کل ایک ایک گارڈ اور بلاک افسر نے بیس،بیس موٹر سائیکل لکڑی چوری پر لگائے ہوئیں ہیں جن سے لاکھوں روپے منھتلی وصول کی جاتی ہے ان کا کہنا تھا کہ یہی لکڑی چور اب ان بیلداروں کا متبادل بن چکے ہیں اور دن رات لکڑی چوری میں مصروف ہیں جبکہ ہم نے اپنی ساری زندگیاں جنگل میں مزدوری کرتے ہوئے گذار دیں ہمارے پاس اب تک اپنی سائیکل کے سوا کچھ نہیں مزدوری کے پیسے کل اثاثہ تھے ان ظالم افسران نے ہم سے ناصرف ہمارا مزدوری کا حق چین لیا بلکہ ہماری حق ہلال اور محنت کی کمائی پر بھی ڈاکہ ڈالا ہے ان مزدوروں نے وزیراعظم پاکستان،ویزراعلی پنجاب عثمان بزدار،سکرٹری جنگلات اور وزیر جنگلات سے ان کرپٹ افسران کیخلاف کارروائی اور مزدورں کو تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے اس بارے میں جب ایس ڈی ایف او سہیل ظفر سے ان کے نمبر 03410770578 پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کال اٹینڈ نہیں کی۔

جنگلات

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...