سرچ آپریشنز سے شہری غیر محفوظ پولیس وارداتیں روکنے میں ناکام

  سرچ آپریشنز سے شہری غیر محفوظ پولیس وارداتیں روکنے میں ناکام

  



ملتان (وقا ئع نگار)ملک میں سرچ آپریشن کے نام پر لوٹ مار۔ شہری اپنے اپکو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔جبکہ پولیس ڈاکوؤں کی سرچ آپریشن کے ذریعے کی جانے والی وارداتوں کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے۔معلوم ہوا ہے قانون نافذ(بقیہ نمبر30صفحہ12پر)

کرنے والے اداروں نے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول رکھنے اور ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر کئی سالوں سے کوبنگ سرچ آپریشن شروع کیا ہوا ہے۔جسکی وجہ حکومت کو خاطر خواہ کامیابی بھی ملیں ہیں۔مگر اس کے ساتھ ساتھ لوٹ مار کے نئے سے نئے طریقے بھی ایجاد ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق عموما شہریوں کی جانب سے ان گنت یہ شکایات سامنے آئیں ہیں۔کہ سرچ آپریشن کے بعد اہلکار واپس علاقے میں جاکر جرائم پیشہ افراد سے اپنے حصہ وصول کرنے کے ساتھ ساتھ انکو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔انہیں شکایت پر کئی ملازمین کو محکمانہ طور پر سزاء کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لیکن اسکے باوجود یہ سلسلہ نہیں رک سکا۔اسی وجہ سے سرچ آپریشن کے نام پر لوٹ مار کرنے والے پولیس اہلکاروں کے علاؤہ ڈاکوؤں نے بھی واردات کرنے کیلئے سرچ آپریشن کے نام کا سہارا لیکر گھر میں گھسنے کا نیا طریقہ ایجاد کرلیا ہے۔جس نے شہریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔اور وہ اپنی عزتوں اور زندگی کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔واضح رہے چند روز قبل بھی شجاع آباد کے علاقے میں نامعلوم ڈاکوؤں نے سرچ آپریشن کے نام کو استعمال کرکے لاکھوں روپے نقدی اور طلائی زیورات سے شہری کو محروم کردیا تھا۔ شہریوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے۔کہ سرچ آپریشن کے دوران ایسا طریقہ وضع کیا جائے۔جس سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین کی اصل شناخت کا تعین ہوسکے۔تاکہ شہری اپنی زندگی کو غیر محفوظ کی بجائے محفوظ تصور کریں۔

سرچ آپریشن

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...