اوگرا، نیب سمیت کئی ادارے  آڈٹ کرانے سے انکاری، پی اے سی کی ذیلی کمیٹی میں آڈیٹر جنرل پاکستان کا انکشاف

  اوگرا، نیب سمیت کئی ادارے  آڈٹ کرانے سے انکاری، پی اے سی کی ذیلی کمیٹی میں ...

  



اسلام آباد (آئی این پی)پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں آڈیٹر جنرل نے انکشاف کیا کہ اوگرا اور نیب سمیت دیگر ادارے آڈٹ کرانے کیلئے تیار نہیں، اوگرا سمیت کئی ریگولیٹری باڈیز کی طرف آڈٹ کی مخالفت میں ان اداروں کا موقف ہے کہ صرف اکاونٹس کا آڈٹ کر سکتے ہیں جبکہ ہم ریگولیٹری باڈی کے ایسے فیصلوں کا بھی آڈٹ کر سکتے ہیں جن کا تعلق سرکاری فنڈز سے ہے،وزارت قانون کو لکھا مگر انہوں نے ہمیں جواب دیا کہ ریگولیٹری فنکشن کا آڈٹ نہیں کر سکتے،آڈیٹر جنرل کے مینڈیٹ کو مضبوط بنانا ضروری ہے،حکومتی ر یفا رمز کے تحت آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو خود مختار بنایا جا رہا ہے، ادارے کی خود مختاری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے،ہمیں ون لائنر بجٹ دیا جائے۔ جمعرات کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر کمیٹی شاہدہ اختر رحمان کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے اختیارات، فنکشن اور قواعد میں ترامیم کا جائزہ لیا گیا،آڈیٹر جنرل آفس کو مضبوط بنانے کا معاملہ کابینہ میں بھی زیر بحث آیا، آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیراس معاملے پر ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم کمیٹی کیساتھ تجاویز پر تبادلہ خیال کیا، آڈٹ سے متعلقہ تجاویز مشیر خزانہ کو پیش کی جائیں گی بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔ آڈیٹر جنرل کا مزید کہنا تھا حکو مت کے انٹرنل کنٹرول نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، 2001تا 2019کے درمیان بہت تبدیلیاں ہوئی ہیں، اٹھارہویں ترمیم کے بعد آ ڈ یئر جنرل آفس کے اختیارات بڑھے جو قانون 2001میں بنا اور کو آپریٹ نہیں ہو سکا بہت سے کارپوریٹ سیکٹر،ریگولیٹری ادارے آڈ ٹ کرانے کو تیار نہیں، اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا۔اس موقع پر رکن کمیٹی نور عالم خان نے کہااکثر اداروں کے چیف فنانشل آفیسر ز،آڈیٹر جنرل سے ڈیپوٹیشن پر گئے ہوتے ہیں،سی ڈی اے،نادرا،این ایچ سمیت دیگر ایسے اداروں میں آڈیٹر جنرل کے دفتر کے ملازمین ہی ہوتے ہیں،جب ایسے اداروں کا آڈٹ ہوتا ہے تو آڈٹ پیرا زنمٹا بھی دئیے جاتے ہیں، ملک میں 95فیصد بجٹ انڈر کار پٹ ہو جاتا ہے، صرف پانچ فیصد آڈٹ ہوتا ہے،وہ تو ٹھیک ہو،نیب کا آڈٹ آپ نہیں کرتے، جس پر آڈیٹر جنرل نے کہا نیب کا آڈٹ کیا جاتا ہے۔ نور عالم نے کہا نیب کی عمارت تین چار سال پہلے بننا شروع ہوئی مگر کوئی آڈٹ پیرا نہیں آیا۔کنوینئر ذیلی کمیٹی شاہدہ اختر رحمانی نے کہا آڈ ٹ کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان آ رہے ہیں۔آڈیٹر جنرل نے بتایا آڈٹ سسٹم کو آٹومیشن کی طرف لیکر جارہے ہیں اس پر جنوری سے کام کا آغاز کیا جائیگا جو بہت بڑی کامیابی ہوگی، اس سسٹم کے بعد کام میں شفافیت اور تیزی آئیگی،تنخواہیں اور مراعات کم ہونے کے باعث آڈ یٹر ز تجربہ لینے کے بعدنجی شعبے کو جوائن کر لیتے ہیں،اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ادارے میں قابل آفیسرز کو ملازمت چھوڑ کر جانے سے رو کنا ہے۔کمیٹی نے آڈیٹر جنرل آفس کو شیڈول تھری کے بجائے شیڈول ٹو میں ڈالنے کی سفارش کردی۔نور عالم نے کہا اس کو کیوں فنانس کا تابع رکھا جائے اگر یہ فنانس کا ذیلی ادارہ رہے گا تو فنانس کا یہ کیسے آڈٹ کرسکے گا،جس پر نمائندہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کہا ہم سے زیادہ اختیارات تو محتسب اداروں کے پاس ہیں،ہم اگر فنانس سیکرٹری پر آڈٹ کرتے ہیں تو ہمارے بجٹ پر ضرب لگتی ہے۔

آڈیٹر جنرل انکشاف

مزید : صفحہ آخر


loading...