قومی ادارہ برائے امراض قلب میں مصنوعی دل لگانے کا پروگرام بند کر دیا گیا 

  قومی ادارہ برائے امراض قلب میں مصنوعی دل لگانے کا پروگرام بند کر دیا گیا 

  



کراچی (این این آئی)قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مصنوعی دل(ایل ویڈ ڈیوائس) لگانے کا پروگرام بند ہوگیا ہے اور ایک سال گزرنے کے باوجود کسی مریض کو مصنوعی دل نہیں لگایا گیا جبکہ اس مقصدکیلئے خریدا گیا تقریبا  40کروڑ روپے کا سامان بھی اسٹور میں پڑا سڑنے لگا ہے۔پروگرام کے تحت گزشتہ سال5 مریضوں کو مصنوعی دل لگایا گیا جسے ہسپتال انتظامیہ نے کامیاب قرار دیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ اس ڈیوائس سے مریض آٹھ سال زندہ رہ سکیں گے اور آئندہ سال دل کی پیوندکاری بھی شروع کر دی جائے گی تاہم تین مریض چند ہفتوں کے اندرانتقال کر گئے جس کے بعد دل کی پیوندکاری تو ایک طرف اس پروگرام کو بھی بند کر دیا گیا۔ہسپتال ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے  40کروڑ روپے کا سامان(ایکوپمنٹ، ڈیوائسز، والوز) خریدا گیا تھا جو نہ لگنے کے باعث اسٹور میں سڑ رہا ہے جبکہ اس کام کے لیے تعینات کیے گئے  مخصوص سرجن پرویز چوہدری کو ماہانہ تقریبا 30لاکھ روپے بھی دیئے جارہے ہیں اور ان سے کوئی خاطر خواہ کام بھی نہیں لیا جارہا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی اجازت کے بغیر یہ آپریشن کیے اور آپریشن کرنے والے سرجن کے پاس پی ایم ڈی سی کا لائسنس بھی نہیں تھا۔پاکستانی نژاد امریکی ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر پرویز چوہدری نے امریکی نرس کے ہمراہ یہ آپریشن کیے جبکہ ہسپتال کے عملے کو اس سلسلے میں تربیت بھی نہیں دی گئی اور بغیر کسی لمبی منصوبہ بندی کے اتنے حساس آپریشن کر دیئے گئے۔ہسپتال کے ایگز یکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ندیم قمر کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ اس پروگرام کو عارضی طور پر بندکیا گیا ہے تاکہ نیم طبی عملے کو تربیت دی جا سکے اور وہ ایسے مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں۔ جیسے ہی عملے کی تربیت مکمل ہوگی مصنوعی دل لگانے کا پروگرام دوبارہ شروع کردیا جائے گا۔یہاں یہ امر حیرت سے خالی نہیں کہ اگر عملے کی تربیت ہی نہیں تھی تو  5 مریضوں کو کروڑوں روپے کی ڈیوائسز کیوں لگا دی گئیں؟پروفیسر ندیم قمر کا مزید کہنا تھا کہ یہ ڈیواسز دو طرز پر لگائی جاتی ہیں ایک برج ٹو ٹرانسپلانٹ ہوتی ہے جس کے فورا بعد ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے طریقہ ڈیسٹی نیشن ہوتا ہے جس میں ڈیوائس کے بعد مریض اسی حالت میں آٹھ سال زندہ رہ سکتا ہے۔

پروگرام

مزید : صفحہ آخر


loading...